مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قسامت: شرعی حیثیت، شرائط اور احکام

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

اگر قاتل محصور جماعت سے ہو تو قسامت ثابت ہو جائے گی اور وہ پچاس قسمیں ہے
لغوی وضاحت: لفظِ قسامة کا معنی ہے ”دشمن اور مسلمانوں کے درمیان صلح ، یا جماعت جو کسی چیز کے لیے قسم اٹھائے اور پھر وہ اسے وصول کر لے ۔“ باب أَقْسَمَ يُقْسِمُ (إفعال ) قسم کھانا ، باب قَاسَمَ يُقَاسِمُ (مفاعلة ) قسم اٹھوانا ۔
[المنجد: ص / 691 ، القاموس المحيط: ص / 1036]
شرعی تعریف: (احناف ) ایسی متعدد قسمیں جو قتل کے دعوے میں اٹھائی جائیں اور وہ پچاس قسمیں ہیں جنہیں (اہل محلہ ) کے پچاس افراد اٹھائیں گے ۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 5805/7 ، بدائع الصنائع: 286/7 ، الكتاب مع اللباب: 172/3 ، تبيين الحقائق: 169/6 ، الدر المختار: 442/5]
(جمہور ) ایسا حلف جسے مقتول کے اولیاء مجرم پر قتل ثابت کرنے کے لیے اٹھائیں کہ اللہ کی قسم ! فلاں نے اسے قتل کیا ہے ۔
[الشرح الكبير: 293/4 ، بداية المجتهد: 421/2 ، مغني المحتاج: 109/4 ، المهذب: 318/2 ، المغنى: 68/8 ، كشاف القناع: 66/6]
مشروعیت: حضرت سلیمان بن یسار رضی الله عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک انصاری صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم أقر القسامة على ما كانت عليه فى الجاهلية
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامت کو اسی پر برقرار رکھا جس پر جاہلیت میں تھا ۔“
[مسلم: 1670 ، كتاب القسامة والمحاربين: باب القسامة ، احمد: 62/4 ، نسائي: 4/8]
قسامت کی صورت:
قسامت کی صورت یہ ہے کہ کسی بستی یا شہر میں کوئی آدمی مقتول پایا جائے جبکہ اس کے قاتل کا علم نہ ہو اور اس کے قتل پر کوئی گواہ بھی کھڑا نہ ہو ۔ لیکن مقتول کا ولی اس کے قتل کا الزام کسی آدمی یا جماعت پر لگائے اور ان کے خلاف ثبوت کمزور ہو جس علاقے میں مقتول پایا گیا ہے اس کی ان کے ساتھ دشمنی تھی تو پھر مقتول کے اولیاء سے ان کے خلاف پچاس قسمیں کھانے کا حکم دیا جائے گا اگر انہوں نے قسمیں اٹھا لیں تو دیت کے مستحق قرار پائیں گے جبکہ قتل خطا یا قتل شبہ عمد ہو اور اگر قتل عمد کیا گیا ہو تو امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے قدیم قول کے مطابق اور امام احمدؒ اور امام اسحاقؒ کے نزدیک وہ قصاص کے مستحق ہوں گے ۔ لیکن امام ابو حنیفہؒ اور امام شافعیؒ کے صحیح ترین قول کے مطابق قتل عمد میں بھی وہ دیت لینے کے ہی مستحق ہوں گے ۔
اور اگر مقتول کے اولیاء اعراض کریں اور قسم اٹھانے سے گریز کریں اور پیچھے ہٹیں تو پھر جن کے خلاف انہوں نے دعوی کیا ہے ان کو قسمیں اٹھانے کا حکم دیا جائے گا ۔ وہ اس بات کی قسم اٹھائیں گے کہ نہ تو انہوں نے قتل کیا ہے اور نہ ہی انہیں اس کے قاتل کا علم ہے ۔ اگر وہ قسم اٹھا لیں تو بری ہو جائیں گے اور ان پر کوئی چیز واجب نہیں ہو گی اور اگر انہوں نے قسم اٹھانے سے گریز کیا اور منہ پھیرا تو ان پر دیت کی ادائیگی لازم کر دی جائے گی ۔
[سبل السلام: 1621/3 – 1622 ، فقه السنة: 79/3 ، الروضة الندية: 669/2 – 670]
جمہور صحابہ و تابعین کا یہی مذہب ہے کہ قسامت مشروع ہے ۔
[نيل الأوطار: 474/4]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان موجود ہے کہ :
فتبر ئكم يهود بخمسين يمينا
”یہود پچاس قسموں کے ساتھ تم سے (اپنے آپ کو ) بری کر لیں گے ۔“
[مسلم: 1669 ، كتاب القسامة والمحاربين: باب القسامة ، بخاري: 6898 ، 6899 ، ابو داود: 4520 ، ترمذي: 1422 ، نسائي: 5/8 ، ابن ماجة: 2677]

قسم کھانے والوں کو مقتول کا ولی منتخب کرے گا ۔ اگر وہ قسم کھانے سے انکار کریں تو ان پر دیت لازم ہو گی اور اگر قسم کھا لیں تو دیت ساقط ہو جائے گی
حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی قسامت کو برقرار رکھا ۔ جاہلیت کی قسامت یہ ہے کہ (طویل حدیث میں ہے کہ ) قاتل معین شخص تھا تو ابو طالب اس کے پاس آئے اور کہا :
اختر مـنـا إحدى ثلاث إن شئت أن تؤدى مائة من الإبل فإنك قتلت صاحبنا وإن شئت حلف خمسون من قومك إنك لم تقتله فإن أبيت قتلناك به
”ان تین چیزوں میں سے کوئی ایک پسند کر لو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلے کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہارے قبیلے کے پچاس آدمی یہ قسم اٹھا لیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ اگر تم اس کے لیے تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے ۔“
وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ قسم کھانے کے لیے تیار ہو گئے ۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابو طالب کے پاس آئی جو اسی قبیلے کے ایک شخص کی منکوحہ تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا ایک بچہ بھی تھا ۔ اس نے کہا اے ابو طالب ! آپ مہربانی کریں اور ان پچاس آدمیوں میں سے میرے اس لڑکے کو معاف کر دیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں (یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ) اس سے وہاں قسمیں نہ لیں ۔ ابو طالب نے اسے معاف کر دیا ۔ اس کے بعد ان کا ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا اے ابو طالب ! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے ۔ اس طرح ہر شخص پر دو اونٹ پڑتے ہیں ۔ یہ اونٹ آپ میری طرف سے قبول کر لیں اور مجھے اس مقام پر قسم کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے ۔ ابو طالب نے اس بات کو بھی منظور کر لیا ۔ اس کے بعد باقی اڑتالیس (48) آدمیوں نے قسم اٹھا لی ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی اس واقعے کو پورا سال بھی نہیں گزرا تھا کہ اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلا سکتا ہو ۔“
[بخاري: 3845 ، كتاب مناقب الأنصار: باب القسامة فى الجاهلية ، نسائي: 2/8]

قسم کھانے والوں کو مقتول کا ولی منتخب کرے گا ۔ اگر وہ قسم کھانے سے انکار کریں تو ان پر دیت لازم ہو گی اور اگر قسم کھا لیں تو دیت ساقط ہو جائے گی
حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاہلیت کی قسامت کو برقرار رکھا ۔ جاہلیت کی قسامت یہ ہے کہ (طویل حدیث میں ہے کہ ) قاتل معین شخص تھا تو ابو طالب اس کے پاس آئے اور کہا :
اختر مـنـا إحدى ثلاث إن شئت أن تؤدى مائة من الإبل فإنك قتلت صاحبنا وإن شئت حلف خمسون من قومك إنك لم تقتله فإن أبيت قتلناك به
”ان تین چیزوں میں سے کوئی ایک پسند کر لو اگر تم چاہو تو سو اونٹ دیت دے دو کیونکہ تم نے ہمارے قبیلے کے آدمی کو قتل کیا ہے اور اگر چاہو تو تمہارے قبیلے کے پچاس آدمی یہ قسم اٹھا لیں کہ تم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ اگر تم اس کے لیے تیار نہیں تو ہم تمہیں اس کے بدلے میں قتل کر دیں گے ۔“
وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا تو وہ قسم کھانے کے لیے تیار ہو گئے ۔ پھر بنو ہاشم کی ایک عورت ابو طالب کے پاس آئی جو اسی قبیلے کے ایک شخص کی منکوحہ تھی اور اپنے اس شوہر سے اس کا ایک بچہ بھی تھا ۔ اس نے کہا اے ابو طالب ! آپ مہربانی کریں اور ان پچاس آدمیوں میں سے میرے اس لڑکے کو معاف کر دیں اور جہاں قسمیں لی جاتی ہیں (یعنی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان ) اس سے وہاں قسمیں نہ لیں ۔ ابو طالب نے اسے معاف کر دیا ۔ اس کے بعد ان کا ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا اے ابو طالب ! آپ نے سو اونٹوں کی جگہ پچاس آدمیوں سے قسم طلب کی ہے ۔ اس طرح ہر شخص پر دو اونٹ پڑتے ہیں ۔ یہ اونٹ آپ میری طرف سے قبول کر لیں اور مجھے اس مقام پر قسم کے لیے مجبور نہ کریں جہاں قسم لی جاتی ہے ۔ ابو طالب نے اس بات کو بھی منظور کر لیا ۔ اس کے بعد باقی اڑتالیس (48) آدمیوں نے قسم اٹھا لی ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی اس واقعے کو پورا سال بھی نہیں گزرا تھا کہ اڑتالیس آدمیوں میں سے ایک بھی ایسا نہیں رہا جو آنکھ ہلا سکتا ہو ۔“
[بخاري: 3845 ، كتاب مناقب الأنصار: باب القسامة فى الجاهلية ، نسائي: 2/8]

اگر معاملہ مشتبہ ہو جائے تو بیت المال سے دیت ادا کی جائے گی
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے بزرگوں سے روایت بیان کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود اپنی تنگ دستی کی وجہ سے خیبر کی طرف نکلے ۔ محیصہ نے آکر اطلاع دی کہ عبد اللہ بن سہل کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ محیصہ یہود کے پاس آیا اور کہا کہ خدا کی قسم! تم لوگوں نے اسے قتل کیا ہے ۔ وہ بولے اللہ کی قسم ! ہم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ پھر محیصہ اور اس کا بھائی حویصہ اور عبد الرحمن بن مسہل تینوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں پہنچے اور محیصہ نے گفتگو کرنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑے کو بات کرنے دو ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد تھی جو تم میں عمر میں بڑا ہے اسے بات کرنی چاہیے ۔ چنانچہ حویصہ نے بیان کیا پھر محیصہ بولا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
إما أن يدوا صاحبكم وإما أن ياذنوا بحرب
”وہ لوگ یا تو تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں گے یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں ۔“
پھر اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط تحریر فرمایا جس کے جواب میں انہوں نے لکھا کہ اللہ کی قسم ہم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ ، محیصہ اور عبد الرحمن بن سہل سے فرمایا:
أتحلفون وتستحقون دم صاحبكم
”کیا تم لوگ قسم کھا کر اپنے ساتھی کے خون کے حقدار بنو گے؟“
انہوں نے جواب دیا ، نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ :
فيحلف لكم يهود
”تم کو یہودی قسم دیں ۔“
انہوں نے جواب دیا کہ وہ تو مسلمان نہیں (اس لیے ان کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے دی (یعنی بیت المال سے ) اور ان کو سو اونٹنیاں بھیج دیں ۔
[بخاري: 2702 ، 3173 ، كتاب الجزية والموادعة: باب الموادعة والمصالحة مع المشركين بالمال ، مسلم: 1669 ، مؤطا: 877/2 ، ابو داود: 4520 ، ترمذي: 1422]
(صدیق حسن خانؒ ) اہل علم نے قسامت کی کیفیت میں بہت زیادہ اختلاف کیا ہے لیکن جو ماتن نے بیان کر دیا ہے وہی اقرب الی الحق اور شرعی قواعد کے زیادہ مطابق ہے ۔
[الروضة الندية: 673/2]
دو ضعیف روایات
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بستیوں کے درمیان ایک مقتول دیکھا تو بستیوں کا درمیانی فاصلہ ماپنے کا حکم دیا ۔ دونوں جانبوں میں سے ایک کی طرف وہ ایک بالشت زیادہ قریب تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر دیت ڈال دی ۔
[بيهقي: 126/8 ، یه روايت ضعيف هے اس كي سند ميں اسماعيل بن اسحاق رافضي منكر الحديث راوی ہے اور اس كی توہين كرنے پر اجماع ہے ۔ المجروحين: 124/1 ، الضعفاء للعقيلي: 75/1]
➋ جس روایت میں ہے کہ یہود نے قسم کھانے سے انکار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دیت ڈال دی ۔ وہ ضعیف ہے ۔
[نصب الراية: 392/4 ، المختصر للمنذرى: 323/6]
❀ قسامت صرف خون (قتل ) میں ہی ہے ۔
[بيهقي: 122/8 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5810/7]
❀ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور پہلی جماعت کے لوگ قسامت کے ساتھ کسی کو قتل نہیں کرتے تھے ۔
[ابن أبى شيبة: 444/5 ، 27832]
(جمہور ، شافعیؒ ، احمدؒ ) پہلے مدعین سے قسم لی جائے گی اگر وہ انکار کر دیں تو پھر مدی علیھم پر قسم پیش کی جائے گی ۔
(اہل کوفہ ) ان کا مذہب جمہور کے برعکس ہے ۔
[المغني: 191/12 ، كشاف القناع: 66/6 ، بداية المجتهد: 426/2 ، الأم: 91/6 ، بدائع الصنائع: 4735/10 ، نيل الأوطار: 477/4 ، تبيين الحقائق: 170/6]
(راجح ) جمہور کا مؤقف حدیث کے مطابق ہے ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: بخاري: 7192]

قسامت کے لیے شبہ یا علامت کا ہونا ضروری ہے
(ابن حجرؒ ) اس بات پر سب متفق ہیں کہ مجرد اولیاء کے دعوے سے قسامت واجب نہیں ہو گی حتی کہ کوئی شبہ نہیں جائے ۔
[فتح البارى: 227/14]
(جمہور ، مالکیہ ، شافعیہ ، حنابلہ ) قسامت کسی شبہ یا علامت کے بغیر نہیں ہو گی ۔
[الشرح الكبير: 287/4 ، بداية المجتهد: 422/2 ، مغنى المحتاج: 111/4 ، نهاية المحتاج: 105/7 ، المهذب: 318/2 ، المغنى: 68/8 ، كشاف القناع: 68/6 ، القوانين الفقهية: ص / 349]
❀ قسامت کے لیے احناف نے سات شروط لگائی ہیں:
① مقتول کے ساتھ قتل کی کوئی علامت ہونا لازم ہے مثلا زخم یا ضرب کا نشان وغیرہ ۔
② قاتل مجہول ہو ۔
③ مقتول اولادِ آدم سے ہو ۔ کیونکہ جانوروں میں قسامت نہیں ۔
④ مقتول کے اولیاء کی طرف سے فیصلے کے لیے دعوی دائر کرنا ۔
⑤ مدعی علیہ کا انکار کر دینا ۔
⑥ قسامت کا مطالبہ کرنا ۔
⑦ جس جگہ مقتول پایا گیا ہے وہ کسی انسان کی ملکیت یا حفاظت میں ہو ۔
[بدائع الصنائع: 287/7 ، الكتاب مع اللباب: 173/3 ، تبيين الحقائق: 171/6 ، الدر المختار: 443/5]
❀ بعض حضرات کے نزدیک قسامت ثابت نہیں ہے ۔ ان میں ابو قلابہ ، حضرت سالم ، محکم بن عتیبہ ، امام قتادہ ، حضرت سلیمان ، ابراہیم ، امام مسلم ، حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہم اللہ شامل ہیں ۔ ان کے نزدیک قسامت شرعی اصولوں کے مخالف ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں ہے مثلاً :
البينة على المدعى واليمين على من أنكر
حدیث ہے کہ ”دلیل پیش کرنا مدعی پر لازم ہے اور قسم کھانا منکر پر ہے ۔“ لیکن قسامت میں مدعی بھی قسمیں کھاتا ہے ۔
اس کا جواب یوں دیا گیا ہے کہ قسامت کو حدیث نے عام دلائل سے خاص کر دیا ہے ، اس پر عمل نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ کیونکہ اس میں انسانی جانوں کی حفاظت اور مجرموں کے لیے زجر و توبیخ ہے اور یہ کہنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم نہیں دیا تھا اس لیے یہ مشروع نہیں ، بالکل بے بنیاد بات ہے کیونکہ پہلی بات یہ ہے کہ کسی عمل کے مشروع ہونے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ضروری نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہی کافی ہے دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان پر یہ معاملہ پیش کرنا کہ ”یا وہ تمہارے ساتھی کی دیت ادا کریں یا جنگ کے لیے تیار ہو جائیں ۔“ دلیل ہے کہ یہ مشروع تھا اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ۔
[نيل الأوطار: 475/4 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5810/7 ، فقه السنة: 82/3 – 83]
❀ قسامت میں غیر مسلم کی قسموں کا بھی اعتبار کیا گیا ہے جیسا کہ سہل کی حدیث میں یہود کی قسموں کا ذکر ہے ۔
[بخاري: 2702]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔