مضمون کے اہم نکات
قتل کے احکام اور اس کی اقسام
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جنایات، جنایۃ کی جمع ہے۔ اس کے لغوی معنی ہیں: کسی کے بدن، مال یا عزت پر تجاوز کرنا۔ فقہائے کرام نے جسمانی نقصان سے متعلق شرعی مسائل کو کتاب الجنایات کے تحت بیان کیا ہے، جبکہ باقی دو قسمیں، یعنی کسی کے مال یا عزت کو نقصان پہنچانا، کتاب الحدود کے عنوان کے تحت ذکر کی ہیں۔
کسی شخص کو بدنی طور پر نقصان پہنچایا جائے تو اس میں قصاص، دیت اور کفارہ لازم آتا ہے۔ تمام اہل اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا حرام ہے۔ اس کی دلیل کتاب و سنت میں موجود ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَلا تَقتُلُوا النَّفسَ الَّتى حَرَّمَ اللَّهُ إِلّا بِالحَقِّ …﴿٣٣﴾… سورةالإسراء
"اور جس کا خون کرنا اللہ نے حرام کر دیا ہے اسے قتل مت کرو ہاں! مگر حق کے ساتھ۔”
[الانعام:5/15۔]
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"لا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلاَّ بإِحْدَى ثَلاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِيْ، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّاركُ لِدِيْنِهِ المُفَارِقُ للجمَاعَةِ”
"کسی مسلمان آدمی کا خون بہانا حلال نہیں سوائے تین قسم کے گناہوں میں سے کسی ایک گناہ کا ارتکاب کرنے والے کے: شادی شدہ زنا کرے، یا کوئی کسی کو قتل کر دے، یا دین کو چھوڑ دے اور مسلمانوں کی جماعت سے علیحدہ ہو جائے۔”
[صحیح مسلم القسامۃ باب بیاح بہ دم المسلم ؟حدیث 1676۔]
جس شخص نے کسی مسلمان کو ناجائز قتل کیا، اس کے بارے میں انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾… سورة النساء
"اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ کا غضب ہے، اور اس پر اللہ نے لعنت کی ہے، اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔”
[النساء:4/93۔]
مسلمان کو ناجائز قتل کرنے والا شخص فاسق ہے، کیونکہ وہ کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوا ہے، نیز اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے، چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو معاف کر دے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لا يَغفِرُ أَن يُشرَكَ بِهِ وَيَغفِرُ ما دونَ ذٰلِكَ …﴿٤٨﴾… سورة النساء
"یقینا اللہ اپنے ساتھ شریک کیے جانے کو نہیں بخشتا اور اس کے سوا جو چاہے بخش دیتا ہے۔”
[النساء:4/48۔]
یہ سزا تب ہے جب وہ توبہ نہ کرے۔ اگر وہ توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿قُل يـٰعِبادِىَ الَّذينَ أَسرَفوا عَلىٰ أَنفُسِهِم لا تَقنَطوا مِن رَحمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغفِرُ الذُّنوبَ جَميعًا إِنَّهُ هُوَ الغَفورُ الرَّحيمُ ﴿٥٣﴾… سورة الزمر
"میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو جاؤ۔ یقیناً اللہ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی بخشش (اور) بڑی رحمت والا ہے۔”
[الزمر:39۔53۔]
واضح رہے کہ توبہ کرنے سے آخرت میں مقتول کا حق قاتل کے ذمے سے ختم نہ ہوگا، بلکہ مقتول قاتل کی نیکیوں میں سے اس قدر حصہ لے گا جس قدر اس پر ظلم ہوا تھا، یا پھر اللہ تعالیٰ اپنے خاص فضل و کرم سے مقتول کو قاتل کی طرف سے خاص جزا و انعام عطا فرما دے گا۔
یاد رہے، مقتول کا حق قصاص لینے سے بھی ختم نہ ہوگا، کیونکہ قصاص لینا مقتول کے ورثاء کا حق ہے، جو ان کو پہنچنے والے صدمے اور نقصان کے عوض ہے۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"تحقیقی بات یہ ہے کہ قتل سے متعلق تین حقوق ہیں: اللہ تعالیٰ کا حق، مقتول کا حق، اور ولی کا حق۔ جب قاتل نادم ہو کر اور اللہ تعالیٰ کے خوف سے خود کو ولی کے حوالے کر دے اور صحیح توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ کا حق ساقط ہو جاتا ہے۔ اولیاء کا حق قصاص لینے یا صلح کرنے یا قاتل کو معاف کر دینے سے ادا ہو جاتا ہے۔ باقی رہا مقتول کا حق، تو اللہ تعالیٰ اپنے توبہ کرنے والے (قاتل) بندے کی طرف سے مقتول کو عوض ادا کر دے گا اور ان کے درمیان صلح کرا دے گا۔”
[الجواب الکافی لابن القیم ص207۔208۔]
قتل کی اقسام
اکثر اہل علم کے نزدیک قتل کی تین قسمیں ہیں:
❀ قتل عمد
❀ قتل شبہ عمد
❀ قتل خطا
قتل عمد اور قتل خطا کا ذکر قرآن مجید کی اس آیت میں ہے:
﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾ وَمَن يَقتُل مُؤمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ خـٰلِدًا فيها وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذابًا عَظيمًا ﴿٩٣﴾… سورة النساء
"کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے (92) اور جو کوئی کسی مومن کو قصداً قتل کر ڈالے، اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وه ہمیشہ رہے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے، اسے اللہ تعالیٰ نے لعنت کی ہے اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار رکھا ہے”
[النساء:4/92۔93۔]
البتہ قتل شبہ عمد سنت مطہرہ سے ثابت ہے۔ چنانچہ عمرو بن شعیب کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عَقْلُ شِبْهِ اَلْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ اَلْعَمْدِ, وَلَا يَقْتَلُ صَاحِبُهُ, وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ اَلشَّيْطَانُ, فَتَكُونُ دِمَاءٌ بَيْنَ اَلنَّاسِ فِي غَيْرِ ضَغِينَةٍ, وَلَا حَمْلِ سلاح "
"قتل شبہ عمد کی دیت قتل عمد کی طرح سخت ہے، البتہ اس میں قاتل کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان دو آدمیوں کے درمیان کود پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں قتل کا ارتکاب ہو جاتا ہے، حالانکہ ان دونوں (قاتل اور مقتول) کے درمیان پہلے سے دشمنی نہیں تھی اور ہتھیار بھی نہیں اٹھائے گئے تھے۔”
[سنن ابی داؤد الدیات باب دیات الارضاء حدیث:6545۔ومسند احمد 2/183۔]
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعض صورتوں میں غلطی سے ہو جانے والا قتل جو قتل عمد سے مشابہ ہو، اسے شبہ عمد کہتے ہیں، مثلاً: جو کوڑا یا عصا لگنے سے قتل ہو جاتا ہے۔ اس میں دیت سو اونٹ ہیں، جن میں سے چالیس اونٹنیاں حاملہ ہوں گی۔
[سنن ابی داؤد الدیات باب فی دیہ الخطا شبہ العمد حدیث 4547وسنن النسائی القسامۃ باب کم دیۃ شبہ العمد ؟حدیث :4795۔وسنن ابن ماجہ الدیات باب دیہ شبہ العمد مغلظہ حدیث 2627۔]
قتل عمد کی تعریف
قتل عمد یہ ہے کہ مجرم کسی بے گناہ شخص کو یہ جانتے ہوئے قتل کر دے کہ وہ انسان ہے، اور وہ ایسی شے (آلہ) استعمال کرے جس سے قتل ہو جانے کا گمان غالب ہو۔
اس تعریف سے ثابت ہوا کہ کوئی بھی قتل، قتل عمد تب ہوگا جب اس میں درج ذیل شرائط پائی جائیں:
① قاتل نے قتل ارادے کے ساتھ کیا ہو۔
② قاتل کو معلوم ہو کہ جسے اس نے قتل کیا ہے وہ انسان ہے اور فی الحقیقت قصوروار نہ تھا بلکہ معصوم تھا۔
③ قتل میں جو آلہ استعمال کیا گیا ہو وہ ایسا ہو جس سے عام طور پر آدمی قتل ہو سکتا ہو، خواہ وہ آلہ دھار والا ہو یا بغیر دھار کے۔
اگر ان شرائط میں سے ایک شرط بھی موجود نہ ہو تو قتل عمد نہ ہوگا، کیونکہ عدم ارادہ کی صورت میں قصاص لازم نہیں آتا۔ اگر کوئی ایسے ہتھیار کے سبب قتل ہوا جس سے عام طور پر کوئی قتل نہیں ہو سکتا، تو اسے اتفاقی قتل قرار دیا جائے گا، یعنی وہ قتل خطا ہوگا، قتل عمد نہیں۔
قتل عمد کی نو صورتیں
تحقیق و استقرا سے معلوم ہوا کہ قتل عمد کی درج ذیل نو صورتیں ہیں:
① کسی کو ایسے ہتھیار سے زخم لگایا جائے جو جسم میں داخل ہو جاتا ہو، مثلاً: چھری کا نٹا یا تیز آلات وغیرہ۔ امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس صورت کے قتل عمد ہونے میں علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔
② کسی کو بھاری بھرکم شے سے زخمی کیا جائے، مثلاً: پتھر۔ اگر پتھر چھوٹا ہو تو مر جانے کی صورت میں قتل عمد نہ ہوگا، الا یہ کہ پتھر جسم کے اس حصے پر مارا جائے جہاں چوٹ لگنے سے موت واقع ہو جاتی ہے، یا وہ شخص پہلے ہی انتہائی کمزور ہو، مثلاً: بیمار ہو، بچہ ہو، بوڑھا ہو، یا گرمی سردی لگنے سے کمزور ہو گیا ہو، یا اسے چھوٹا پتھر بار بار مارا گیا ہو حتی کہ اس کی موت واقع ہو گئی ہو۔ اسی طرح اگر کسی نے ایک شخص پر دیوار گرا دی، یا گاڑی چڑھا دی، یا دھکا دے کر بلندی سے گرا دیا اور وہ مر گیا تو یہ قتل عمد ہے۔
③ کوئی کسی کو چیر پھاڑ کرنے والے خونخوار جانور کے آگے پھینک دے، مثلاً: شیر، سانپ وغیرہ۔ ان جانوروں کے آگے کسی کو جان بوجھ کر اور ارادتاً پھینکنا اسے عمداً قتل کرنے کے مترادف ہے۔
④ کسی کو ایسی آگ یا پانی میں ڈال دیا جائے جس سے اس کا نکلنا ناممکن ہو۔
⑤ کسی کا رسی وغیرہ سے گلا گھونٹ دینا یا اس کی ناک اور منہ بند کر دینا حتی کہ وہ مر جائے، قتل عمد ہے۔
⑥ کسی کو باندھ دینا یا کمرے میں بند کر دینا اور اسے کھانے پینے کے لیے کچھ نہ دینا حتی کہ وہ مر جائے، قتل عمد ہے۔
⑦ جادو کا ایسا طریقہ اختیار کرنا جو عموماً موت کا سبب ہو، اور جادو کرنے والے کو علم بھی ہو کہ اس سے انسان مر جاتے ہیں، تو یہ قتل عمد ہے۔
⑧ کسی کو زہر پلا دینا یا کھانے پینے کی اشیاء میں عمداً زہر ملا کر کسی کو کھلا پلا دینا، جس سے وہ مر جائے، اور پینے والے کو علم نہ ہو کہ اس میں زہر تھا، تو یہ بھی قتل عمد ہی کی صورت ہے۔
⑨ کچھ افراد جھوٹی گواہی دے کر کسی پر ایسے جرم کے ارتکاب کا الزام لگا دیں جس کی حد قتل ہو، مثلاً: زنا، مرتد ہونا، یا کسی کو قتل کرنا، اور ان لوگوں کی گواہی کے سبب ملزم کو قتل کر دیا جائے، پھر گواہان اپنی گواہی سے رجوع کر لیں اور تسلیم کریں کہ ہم نے ارادتاً ایسا کیا تھا، تو وہ سب قتل کیے جائیں گے، کیونکہ وہ اسے قتل کروانے کا سبب بنے ہیں۔
قتل شبہ عمد کی تعریف
فقہائے کرام نے قتل شبہ عمد کی تعریف یوں کی ہے:
"کوئی کسی کو ناحق یا تادیباً سزا دینے کی خاطر ایسی شے سے ضرب لگائے جس سے عموماً آدمی مرتا نہ ہو لیکن وہ مر جائے۔”
جنایات کی اس قسم کو شبہ عمد اس لیے کہا جاتا ہے کہ جنایت کرنے والے نے سزا دینے کا تو ارادہ کیا تھا، لیکن قتل کرنا مقصد نہ تھا۔
ابن رشد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جس شخص نے کسی کو ایسی شے سے ضرب لگائی جس سے عام طور پر آدمی قتل نہیں ہوتا لیکن وہ مر گیا تو اس کا حکم قتل عمد اور قتل خطا کے درمیان ہے۔ وہ قتل عمد ہے کیونکہ اس کا مقصد اسے ہتھیار سے ضرب لگانا تھا، اور قتل خطا بھی ہے کیونکہ اس سزا سے اس کا مقصد قتل کرنا نہ تھا۔”
[بدایہ المجتہد:2/704۔]
شبہ عمد کی مثالیں اور حکم
"شبہ عمد” کی چند مثالیں یہ ہیں:
◈ کسی کو کوڑا مارا گیا۔
◈ چھوٹی لاٹھی سے ضرب لگائی گئی، جس سے عادتاً انسان قتل نہیں ہوتا۔
◈ مکّا یا تھپڑ مارا گیا۔
◈ اس کے ساتھ اپنا سر ٹکرایا گیا۔
اگر ان صورتوں کے نتیجے میں وہ مر گیا تو یہ شبہ عمد ہے۔
اس صورت میں قصوروار کے مال میں سے کفارہ دینا لازم آتا ہے، اور وہ ہے غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا۔ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو مسلسل دو ماہ کے روزے رکھنا لازم ہے، جیسا کہ قتل خطا میں واجب ہوتا ہے۔ شبہ عمد میں قتل خطا کی نسبت بھاری دیت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ہذیل قبیلے کی دو عورتیں باہم لڑ پڑیں، تو ایک نے دوسری کو پتھر مارا، جس سے وہ عورت اور اس کے پیٹ میں موجود بچہ دونوں مر گئے۔ پھر:
"وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى عَاقِلَتِهَا”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ دیا کہ عورت کی دیت قتل کرنے والی عورت کے عصبہ ادا کریں۔”
[صحیح البخاری الدیات باب جنین المراۃ وان العقل علی الولد حدیث 6910۔وصحیح مسلم القسامہ باب دیۃ الجنین حدیث1681۔]
اس روایت سے ثابت ہوا کہ قتل شبہ عمد میں قصاص نہیں ہوتا، نیز اس کی دیت قصوروار کے عاقلہ (عصبہ) پر ہے۔
ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"اہل علم کا اس امر پر اتفاق ہے کہ دیت عاقلہ پر ہے۔”
اور ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی کہا ہے۔
قتل خطا کی تعریف
فقہائے کرام نے قتل خطا کی تعریف یوں کی ہے:
"کسی انسان سے جائز اور مباح کام کرتے وقت بلا ارادہ غلطی سے کوئی آدمی قتل ہو گیا یا زخمی ہوا، پھر مر گیا۔”
مثلاً:
✔ وہ شکار کو گولی مار رہا تھا۔
✔ یا نشانہ بازی کر رہا تھا۔
✔ یا دوران جنگ کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر قتل کر دیا گیا۔
تو یہ قتل خطا ہے۔
بچہ یا دیوانہ اگر عمداً قتل کر دے تو وہ بھی قتل خطا میں شمار ہوگا، کیونکہ ان کے کام میں ارادہ شامل نہیں ہوتا، لہٰذا ان کا قتل عمد، عاقل بالغ شخص کے قتل خطا کے مساوی ہے۔
قتل سبب بھی قتل خطا کے حکم میں ہے، مثلاً: کسی نے کنواں بنایا، یا راستے میں کوئی گڑھا کھودا، یا راستے میں گاڑی کھڑی کر دی، جس کے سبب کوئی انسان مر گیا۔
[جمہور علمائے کرام نے بچے یا دیوانے کے قتل کو یا”قتل سبب” کا باعث بننے والے کو مرفوع القلم قراردیا ہے یعنی ان پر کچھ بھی لازم نہیں آتا ۔ اس مسئلے کی وضاحت کے لیے "تفہیم الموارث "دیکھیے ۔(صارم)]
قتل خطا کا حکم
قتل خطا میں قاتل کے مال سے کفارہ ادا ہوگا، اور وہ ہے مومن غلام یا لونڈی کا آزاد کرنا۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو وہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے۔ دیت اس کے عاقلہ یعنی مذکر عصبات ادا کریں گے۔
جس نے میدان جنگ میں کفار کی صف میں کسی مسلمان کو کافر سمجھ کر قتل کر دیا تو اس پر صرف کفارہ لازم آئے گا۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَما كانَ لِمُؤمِنٍ أَن يَقتُلَ مُؤمِنًا إِلّا خَطَـًٔا وَمَن قَتَلَ مُؤمِنًا خَطَـًٔا فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ إِلّا أَن يَصَّدَّقوا فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ وَإِن كانَ مِن قَومٍ بَينَكُم وَبَينَهُم ميثـٰقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلىٰ أَهلِهِ وَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ فَمَن لَم يَجِد فَصِيامُ شَهرَينِ مُتَتابِعَينِ تَوبَةً مِنَ اللَّهِ وَكانَ اللَّهُ عَليمًا حَكيمًا ﴿٩٢﴾… سورة النساء
"کسی مومن کو دوسرے مومن کا قتل کر دینا زیبا نہیں مگر غلطی سے ہو جائے (تو اور بات ہے)، جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے، اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ وه لوگ بطور صدقہ معاف کر دیں اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم کا ہو اور ہو وه مسلمان، تو صرف ایک مومن غلام کی گردن آزاد کرنی لازمی ہے۔ اور اگر مقتول اس قوم سے ہو کہ تم میں اور ان میں عہد و پیماں ہے تو خون بہا لازم ہے، جو اس کے کنبے والوں کو پہنچایا جائے اور ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا بھی (ضروری ہے)، پس جو نہ پائے اس کے ذمے دو مہینے کے لگاتار روزے ہیں، اللہ تعالیٰ سے بخشوانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ بخوبی جاننے والا اور حکمت والا ہے”
[النساء:4/92۔]
قتل خطا کی تین صورتیں
اس آیت میں قتل خطا کو تین صورتوں میں تقسیم کیا گیا ہے:
① وہ صورت جس میں قاتل پر کفارہ اور اس کے عاقلہ (عصبات) پر دیت فرض ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی کسی مومن کو کفار کی صف کے سوا کسی اور جگہ خطاً قتل کر دے، یا مقتول ایسی کافر قوم میں سے ہو کہ ان کے درمیان اور ہمارے درمیان معاہدہ ہو۔
② وہ صورت جس میں قاتل پر صرف کفارہ (مومن غلام کی آزادی) واجب ہوتا ہے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافروں کی صف میں کھڑا دیکھے، پھر اسے لاعلمی میں کافر سمجھ کر قتل کر دے۔
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب "تفسیر فتح القدیر” میں آیت:
﴿فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ …﴿٩٢﴾… سورة النساء
کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ مقتول کا تعلق ایسی دشمن قوم سے ہو جو حربی کافر ہوں، لیکن وہ مسلمان ہو کر انھی میں رہے اور ہجرت نہ کرے۔ مسلمان سمجھیں کہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اور اپنے آبائی دین پر قائم ہے، پھر اسے کسی موقع پر قتل کر دیں، تو قاتل پر دیت لازم نہ ہوگی بلکہ وہ ایک مومن غلام یا مومنہ لونڈی آزاد کرے گا۔ اہل علم کے درمیان یہاں نکتہ اختلاف یہ ہے کہ دیت کے ساقط ہونے کی وجہ کیا ہے؟ ایک قول یہ ہے کہ مقتول کے سرپرست کافر ہیں، لہٰذا دیت میں ان کا کوئی حق نہیں۔
[تفسیر فتح القدیر النساء:4/92۔]
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَإِن كانَ مِن قَومٍ عَدُوٍّ لَكُم وَهُوَ مُؤمِنٌ فَتَحريرُ رَقَبَةٍ مُؤمِنَةٍ …﴿٩٢﴾… سورة النساء
"اور جو ایمان تو لائے ہیں لیکن ہجرت نہیں کی تمھارے لیے ان کی کچھ بھی رفاقت نہیں۔”
[الانفال8/72۔]
اس کے بارے میں تیسرا قول یہ ہے کہ مقتول کی دیت ادا کی جائے گی جو بیت المال میں جمع ہوگی۔
[تفسیر فتح القدیر النساء:4/92۔]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"آیت کریمہ کا یہ حکم اس مسلمان شخص کے لیے ہے جو کافروں میں رہنے پر مجبور اور معذور ہو، مثلاً: قیدی ہو، یا وہ مسلمان جو کفار کی صفوں سے نہیں نکل سکتا اور ہجرت بھی نہیں کر سکتا۔ البتہ ایسا مسلمان شخص جو اپنی مرضی سے کفار کی صفوں میں کھڑا ہے تو اس کی کوئی ضمان نہیں دی جا سکتی، کیونکہ اس نے خود اپنے آپ کو بغیر کسی عذر کے معرض ہلاکت میں رکھا ہے۔”
عاقلہ پر دیت کی دلیل اور اس کی حکمت
قاتل کے عاقلہ یعنی برادری پر دیت واجب ہونے کی دلیل سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو لحیان کی ایک عورت کے بچے کے بارے میں فیصلہ دیا، جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار دیا گیا، کہ اس کے بدلے غلام یا لونڈی ادا کی جائے۔ پھر یوں ہوا کہ جس عورت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلام یا لونڈی کا فیصلہ کیا تھا وہ عورت بھی مر گئی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مرنے والی عورت کی میراث اس کے بیٹوں اور خاوند کو ملے گی۔ باقی رہی دیت تو وہ اس (قاتلہ) کے عصبہ ادا کریں گے۔”
[صحیح البخاری الفرائض باب میراث المراہ والزوج مع الولد وغیرہ حدیث 6740وصحیح مسلم القسامہ باب دیۃ الجنین حدیث 1618۔]
اس حدیث شریف سے واضح ہوا کہ قتل خطا میں دیت عاقلہ پر ہے۔ اس پر اہل علم کا اجماع ہے۔
اس میں حکمت یہ ہے کہ جس شخص سے غلطی سرزد ہوئی ہے، اس شخص پر دیت لازم کرنے میں عظیم نقصان ہے، کیونکہ اس کا ارادہ قتل کرنے کا نہ تھا، محض خطا سے قتل کا صدور ہوا ہے، اور خطائیں تو انسان سے اکثر وقوع پذیر ہوتی ہی رہتی ہیں۔ اس کی غلطی کا بوجھ اس اکیلے پر ڈال دینا اس پر مالی زیادتی ہے۔
اسی طرح مقتول کی جان بھی تو محترم تھی، لہٰذا اس کا بدل اور معاوضہ بھی ضروری ہے۔ اگر اس کا خون رائیگاں قرار دیا جائے تو اس کے ورثاء کا نقصان ہے، بالخصوص اس کے اہل و عیال کا۔ لہٰذا شارع نے دیت ان لوگوں پر واجب قرار دی ہے جو قاتل کے سرپرست اور مددگار ہیں، تاکہ وہ مل کر ادائیگی دیت میں اس کی مدد کریں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی فقیر کو نان و نفقہ دینا، یا اگر کوئی قیدی ہو تو اس کے عصبہ رشتے داروں کا فرض ہے کہ اسے چھڑانے کی کوشش کریں۔ قاتل مر جائے گا تو وارث بھی عاقلہ ہی ہوں گے، لہٰذا اب قتل خطا میں بوجھ بھی وہی برداشت کریں۔ مثل مشہور ہے: "جو فائدہ حاصل کرے وہ تاوان بھی بھرے۔” واللہ اعلم۔
قاتل پر کفارے کی ذمہ داری کی وجوہ
قاتل پر کفارے کا بوجھ درج ذیل امور کی وجہ سے ہے:
① مرنے والی جان قابل احترام تھی۔
② قتل میں قاتل کی کوتاہی ضرور شامل ہے، وہ اس سے مبرا نہیں۔
③ اگر قاتل کے ذمے دیت نہیں تو اس پر کچھ نہ کچھ تاوان پڑنا چاہیے، اور یہ کفارے کا بوجھ ہے۔
عاقلہ کو دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار بنانے اور قاتل پر کفارہ ڈالنے میں کئی حکمتیں اور مصلحتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ جو عظیم و برتر ہے، اس نے اپنے بندوں کی دینی و دنیاوی مصلحتوں اور منافع کا کس قدر خیال رکھا ہے۔
عاقلہ میں کون شامل نہیں
عاقلہ (عصبہ) میں یہ افراد شامل نہیں:
◈ غلام
◈ بچہ
◈ نادار
◈ دیوانہ
◈ عورت
◈ دوسرے مذہب کا آدمی
کیونکہ یہ افراد مدد و تعاون کرنے والوں میں داخل نہیں ہوتے۔
دیت کی ادائیگی کی مدت
قتل خطا کی دیت تین سال کے اندر اندر ادا کرنا ضروری ہے۔ حاکم کو چاہیے کہ وہ قاتل کے ہر عصبہ پر دیت کا اتنا حصہ دینا مقرر کرے جو اس کی استطاعت میں ہو، نیز سب سے پہلے قاتل کے قریب ترین عصبہ پر ذمہ داری ڈالے، اگر وہ نہ ہوں تو اس سے دور والوں پر بوجھ ڈالے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"جب دیت جلد لینے میں مصلحت ہو تو عاقلہ کو ادائیگی دیت میں مہلت نہ دی جائے بلکہ نقد وصول کی جائے۔”
[الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الدیات5/525۔]
قصاص کے احکام
قتل عمد کی صورت میں جب شرائط مکمل ہوں تو قصاص کی مشروعیت پر علماء کا اجماع ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ القِصاصُ فِى القَتلَى الحُرُّ بِالحُرِّ وَالعَبدُ بِالعَبدِ وَالأُنثىٰ بِالأُنثىٰ … ﴿١٧٨﴾… سورة البقرة
"اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد آزاد کے بدلے، غلام غلام کے بدلے، اور عورت عورت کے بدلے۔”
[البقرۃ:2/178۔]
نیز ارشاد ہے:
﴿وَكَتَبنا عَلَيهِم فيها أَنَّ النَّفسَ بِالنَّفسِ…﴿٤٥﴾… سورة المائدة
"اور ہم نے (یہودیوں کے ذمے) تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان ہے۔”
[المائدہ:5/45۔]
قرآن مجید کا یہ حکم تورات میں بھی تھا۔ یاد رہے، سابقہ شریعت کا ہر حکم ہمارے لیے بھی قابل عمل ہے، الا یہ کہ جسے ہماری شریعت منسوخ قرار دے دے۔
قصاص کے بارے میں فرمان الٰہی ہے:
﴿وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيوٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾… سورة البقرة
"عقل مندو! قصاص میں تمھارے لیے زندگی ہے، اس باعث تم (قتل ناحق سے) رکو گے۔”
[البقرۃ:2/179۔]
امام شوکانی رحمۃ اللہ علیہ درج بالا آیت کی تفسیر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے قصاص میں زندگی رکھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کسی کو یہ علم ہوگا کہ کسی آدمی کو قتل کرنے کی صورت میں قصاص کے طور پر اسے بھی قتل کیا جا سکتا ہے، تو وہ قتل کرنے سے باز آ جائے گا۔ اسی طرح جب ہر انسان کی یہ سوچ ہوگی تو معاشرے میں قتل کا دروازہ بند ہو جائے گا اور اس طرح ہر شخص کو زندگی مل جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ایک طویل مضمون کو فصیح و بلیغ انداز میں اور مختصر الفاظ میں بیان کیا ہے۔ یہاں بلاغت کا یہ نکتہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قصاص کو زندگی قرار دیا ہے، حالانکہ بظاہر وہ موت کی ایک صورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے نتیجے میں لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے سے باز رہتے ہیں، اس طرح ان کی زندگی محفوظ رہتی ہے۔ پھر اس حکم میں خطاب کا رخ اہل عقل کی طرف ہے، کیونکہ وہی لوگ ہیں جو نتائج اور انجام پر نگاہ رکھتے ہیں اور نقصان دہ امور اور کاموں سے خود کو بچاتے ہیں۔ لیکن لوگ نادان، جوشیلے اور جذباتی ہوتے ہیں، وہ جوش و جذبات کی رو میں بہ کر مستقبل کے عواقب و نتائج کی کوئی پروا نہیں کرتے۔”
[تفسیر القدیر البقرۃ: 2/179۔]
جیسا کہ ایک شاعر کا کہنا ہے:
سَأَغْسِلُ عَنِّي الْعَارَ بِالسَّيْفِ جَالِبًا
عَلَيَّ قَضَاءُ اللَّهِ مَا كَانَ جَالِبَا
"میں اپنے متعلق عار اور طعنوں کو تلوار کے ساتھ دھو ڈالوں گا، اس حال میں کہ میں اپنے اوپر اللہ کی قضا کو لاگو کر رہا ہوں جو نافذ کرے سو کر۔”
دھو ڈالوں گا عار زمانے کی اپنی تلوار سے
نہیں ہے پروا مجھ کو تقدیر کے ہر وار سے
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے قصاص کا جو حکم جاری فرمایا ہے، اس کی وجہ یوں بیان کی: "لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” یعنی قصاص کو ذہن نشین رکھو گے تو قتل کرنے سے باز آ جاؤ گے، اور یہ چیز حصول تقویٰ کا سبب ہے۔
[تفسیر القدیر البقرۃ: 2/179۔]
قصاص، دیت اور معافی کا اختیار
سنت نبویہ میں وارد ہے کہ قصاص لینے والے کو اختیار حاصل ہے کہ وہ:
✔ قصاص لے
✔ دیت قبول کرے
✔ قاتل کو بلا عوض معاف کر دے
اور یہ آخری صورت افضل ہے۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يُعْطِيَ الدِّيَةَ ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ أَهْلُ الْقَتِيلِ ” . وَقِيلَ : إِمَّا أَنْ يُؤَدِّيَ ، وَإِمَّا أَنْ يُقَادَ”
"جس کا کوئی آدمی قتل ہو جائے اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ چاہے تو دیت قبول کرے اور چاہے تو قصاص لے لے۔”
[صحیح البخاری الدیات باب من قتل لہ قتیل فہر بخیر النظرین حدیث 6880۔وصحیح مسلم الحج باب تحریم مکۃ و تحریم صیدھا وخلاھا حدیث1355۔]
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿فَمَن عُفِىَ لَهُ مِن أَخيهِ شَىءٌ فَاتِّباعٌ بِالمَعروفِ وَأَداءٌ إِلَيهِ بِإِحسـٰنٍ …﴿١٧٨﴾… سورةالبقرة
"ہاں! جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع اور اچھے طریقے سے دیت کی ادائیگی کرنی چاہیے۔”
[البقرۃ:2/178۔]
نیز ارشاد ہے:
﴿وَأَن تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ۚ ﴾
"اور تمھارا معاف کر دینا تقوے کے بہت نزدیک ہے۔”
[البقرۃ:2/237۔]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"ولا عفا رجل عن مظلمة يبتغي بها وجه الله إلا زاده الله بها عزاً”
"جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کا ظلم معاف کر دیا، اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ کرے گا۔”
[صحیح مسلم البروالصلہ باب استحباب العفووالتوضع حدیث 2588ومسند احمد 2/235واللفظ لہ۔]
کب معافی مناسب نہیں
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"دھوکے سے قتل کرنے والے کو معاف کرنا درست نہیں، کیونکہ ایسے شخص سے بچنا مشکل ہوتا ہے، جیسے محاربہ میں قتل کرے تو اسے معاف نہیں کیا جاتا۔ عام حالات میں قصاص لینے کے بجائے معاف کر دینا بہتر ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی فساد و خرابی لازم نہ آئے۔”
قاضی ابو یعلیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور صورت بیان کرتے ہوئے کہا:
"اگر کسی نے مسلمانوں کے امام و امیر کو قتل کیا تو قاتل کو قصاص میں قتل کرنا لازم ہے، کیونکہ اس میں موجود فساد اور بگاڑ واضح ہے۔”
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے قبیلہ عرنیین کے واقعے کو ملحوظ رکھ کر کہا ہے کہ کسی کو دھوکے سے قتل کرنے والے پر حد نافذ کر کے قتل کیا جائے، یعنی اس عمل سے اسے قتل کرنا حد ہے، جسے معافی کے ذریعے سے بھی ساقط نہیں کیا جا سکے گا، اور اس میں برابری کا لحاظ بھی ضروری نہیں۔ یہ اہل مدینہ کا مسلک ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کی ایک روایت بھی اسی کے مطابق ہے، جبکہ شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اختیار کیا ہے اور اسی کے مطابق فتویٰ دیا ہے۔
قصاص کے استحقاق کی چار بنیادی شرائط
مقتول کے سرپرست کے لیے قصاص لینے کا استحقاق تب ہے جب چار شرائط موجود ہوں:
① مقتول کو بلاوجہ ناجائز قتل کیا گیا ہو۔
اگر اسے قتل کرنا جائز ہو تو اس میں قصاص نہیں، مثلاً: کسی مسلمان نے کسی حربی کافر کو، یا مرتد کو، جب کہ اس نے توبہ نہ کی ہو، یا کسی زانی کو قتل کر دیا، تو قاتل سے قصاص نہ لیا جائے گا۔ البتہ اسے سزا ضرور دی جائے گی کہ اس نے حاکم سے فیصلہ کیوں نہ حاصل کیا۔
② قاتل عاقل اور بالغ ہو۔
کیونکہ قصاص ایک اہم اور سخت سزا ہے، جس کا نفاذ بچے اور پاگل پر نہ ہوگا، کیونکہ دونوں کے کاموں میں قصد و ارادہ شامل نہیں ہوتا، نیز ان کے پیش نظر کوئی واضح اور صحیح مقصد نہیں ہوتا۔ اس لیے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثلاثة: عن الصَّبِى حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُفِيقَ”
"تین اشخاص سے قلم اٹھا لیا گیا ہے: سوئے ہوئے سے جب تک وہ بیدار نہ ہو، بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو، اور مجنون سے جب تک وہ ہوش و عقل میں نہ آئے۔”
[سنن ابی داؤد الحدودباب فی المجنون یسرق اویصب حداً حدیث 4403والتلخیص الجیر1/183۔حدیث 253۔]
ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس نقطہ نظر پر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے۔
③ جنایت کے وقت مقتول اور قاتل برابر درجے کے ہوں۔
یعنی مسلمان ہونے، آزاد یا غلام ہونے میں مساوی ہوں، یعنی قاتل ایسا نہ ہو جو مقتول سے اسلام یا آزادی میں افضل ہو۔ لہٰذا مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ”
"کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے۔”
[صحیح البخاری العلم باب فی کتابہ العلم حدیث 111وسنن ابی داؤدبلفظ (لا يقتل مؤمن…….)الدیات باب ایقاد المسلم من الکافر؟حدیث 4530۔]
اسی طرح آزاد شخص کو مقتول غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"مِنْ السُّنَّةِ أَنْ لَا يُقْتَلَ حُرٌّ بِعَبْدٍ "
"یہ سنت میں سے ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔”
[(ضعیف) سنن الدارقطنی 3/133حدیث 3227وارواءالغلیل 7/26حدیث 2211۔]
اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جب مقتول قاتل کے برابر کا نہیں تو مقتول کے ورثاء کا قاتل کو قتل کرنا حق سے زیادہ لینے کے مترادف ہے۔
درج بالا معیار کے علاوہ قاتل اور مقتول میں کوئی برتری اثر انداز نہ ہوگی، لہٰذا خوبصورت کو بدصورت کے بدلے قتل کیا جائے گا۔ اسی طرح معزز اور غیر معزز، بڑے اور چھوٹے، یا مرد اور عورت، یا عقل مند اور کم عقل میں بسلسلہ قصاص کوئی فرق و امتیاز نہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَكَتَبنا عَلَيهِم فيها أَنَّ النَّفسَ بِالنَّفسِ…﴿٤٥﴾… سورة المائدة
"اور ہم نے (یہودیوں کے ذمے) تورات میں یہ بات مقرر کر دی تھی کہ جان کے بدلے جان ہے۔”
[المائدہ:5/45۔]
نیز ارشاد الٰہی ہے:
"الْحُرُّ بِالْحُرِّ”
"آزاد بدلے کے آزاد (کا قصاص ہے)”
[البقرۃ:2/178۔]
④ قاتل والد نہ ہو۔
یعنی مقتول قاتل کا بیٹا، پوتا، یا بیٹی، پوتی وغیرہ نہ ہو۔ اگر والدین یا دادا، نانا وغیرہ اپنے کسی بچے کو قتل کر دیں گے تو انھیں قصاص میں قتل نہ کیا جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
” لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ "
"اولاد کے بدلے والد کو قتل نہ کیا جائے۔”
[جامع الترمذی الدیات باب ماجاءفی الرجل یقتل ابتہ یقادمتہ ام لا ؟حدیث1401۔وسنن ابن ماجہ الدیات باب لا یقتل الوالدیولدہ حدیث 2662۔]
ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"یہ روایت حجاز اور عراق کے علمائے حدیث کے ہاں معروف مشہور ہے۔”
اس حدیث سے اور اسی مفہوم کی دوسری احادیث سے ان نصوص کے عموم میں تخصیص ہو جاتی ہے جن میں وجوب قصاص کا حکم وارد ہوا ہے، اور یہ جمہور اہل علم کا مسلک ہے۔ البتہ اولاد کو والدین کے بدلے میں بطور قصاص قتل کرنا درست ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں عموم ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا كُتِبَ عَلَيكُمُ القِصاصُ فِى القَتلَى…﴿١٧٨﴾… سورةو البقرة
"اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے۔”
[البقرۃ:2/178۔]
یاد رہے، اگر باپ اولاد کو قتل کر دے تو قصاص میں اسے قتل نہ کرنے کی دلیل موجود ہے، جیسا کہ پیچھے ذکر ہوا ہے، اس لیے والد کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
جب یہ چار شرائط موجود ہوں تو مقتول کے وارث قصاص لینے کا حق رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے قصاص کی مشروعیت کا مقصد لوگوں کے ساتھ رحمت و شفقت کرنا اور ان کی جانوں کو محفوظ رکھنا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَكُم فِى القِصاصِ حَيوٰةٌ يـٰأُولِى الأَلبـٰبِ لَعَلَّكُم تَتَّقونَ ﴿١٧٩﴾… سورة البقرة
"عقل مندو! قصاص میں تمھارے لیے زندگی ہے، اس باعث تم (قتل ناحق سے) رکو گے۔”
[البقرۃ:2/179۔]
ستیاناس ہو ان لوگوں کا جو کہتے ہیں کہ قصاص وحشی اور ظالمانہ سزاؤں کا نام ہے۔ ایسے لوگ یہ نہیں جانتے اور نہ دیکھتے ہیں کہ مجرم نے کس طرح وحشت اور ظلم کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بے قصور شخص کو قتل کرنے کا اقدام کیا، شہر میں خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی، کئی عورتوں کو بیوہ کیا، مقتول کے بچوں کو یتیم کیا، اور کئی گھروں کو ویران اور متاثر کیا۔ درحقیقت یہ لوگ ظالم پر ترس کھاتے ہیں، بے قصور اور مظلوم سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتے۔ ان لوگوں کی سوچ پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے۔
﴿أَفَحُكمَ الجـٰهِلِيَّةِ يَبغونَ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكمًا لِقَومٍ يوقِنونَ ﴿٥٠﴾… سورةالمائدة
"کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔ یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔”
[المائدۃ:5/50۔]
قصاص میں مجرم سے اس کے کیے ہوئے جرم کی مثل یا اس کے مشابہ بدلہ لیا جاتا ہے۔ اس میں حکمت یہ ہے کہ قصاص لینے سے مظلوم یا اس کے ورثاء کا جوش و جذبہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے، ان کے دل کو تشفی ہو جاتی ہے، ظلم کا سد باب ہو جاتا ہے، دل و دماغ میں اٹھنے والے طوفان کا تدارک ہو جاتا ہے، نیز اہم بات یہ ہے کہ نظام قصاص کے نفاذ میں نوع انسانی کی بقا مضمر ہے۔
عہد جاہلیت میں انتقام لینے میں مبالغے سے کام لیا جاتا تھا۔ اس کی ایک صورت یہ تھی کہ زیادہ تر مجرم کے ساتھ ساتھ غیر مجرم سے بھی بدلہ لیا جاتا۔ یہ ایسا ظلم تھا جس سے مقصد حاصل نہ ہوتا تھا، بلکہ فتنہ اور خونریزی بڑھتی تھی۔ جب دین اسلام آیا تو اس نے دیگر احکام کے ساتھ نظام قصاص بھی دیا اور بتایا کہ قصاص صرف قصوروار سے لیا جائے۔
ان احکام سے لوگوں کو عدل و انصاف ملا اور خونریزی رک گئی، اور معاشرے میں امن و سکون کے پھول کھل گئے۔
قصاص لینے والے وارث کی تین اضافی شرائط
قصاص تب واجب ہوگا جب مذکورہ شرائط موجود ہوں۔ علاوہ ازیں فقہائے کرام نے چند مزید شرائط کا ذکر بھی کیا ہے جو قصاص لینے والے وارث میں ہوں، اور وہ تین ہیں:
① قصاص کا مطالبہ کرنے والا عاقل و بالغ ہو۔
اگر وہ بچہ یا دیوانہ ہوگا تو اس حال میں قصاص کا مطالبہ کرنا اس کے لیے درست نہ ہوگا، کیونکہ قصاص لینے سے مظلوم یا مظلوم کے ورثاء کو ان کے انتقامی جذبات کی تشفی و تسکین حاصل ہوتی ہے، اور یہ چیز بچے یا دیوانے کو حاصل نہیں ہوتی۔ لہٰذا قصاص کے اجرا میں انتظار کر لیا جائے اور مجرم کو اس وقت تک جیل میں بند رکھا جائے جب تک بچہ بالغ نہ ہو جائے یا دیوانہ صحیح نہ ہو جائے۔
ایک روایت میں ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہدبہ بن خشرم کو اس وقت تک جیل میں بند رکھا جب تک مقتول کا بیٹا بالغ نہ ہوگیا۔ یہ کام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے دور میں ہوا اور کسی نے اعتراض نہ کیا، لہٰذا اس مسئلے پر سیدنا معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں موجود صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اجماع ثابت ہوا۔
اگر مقتول کا وارث بچہ ہے یا مجنون شخص، اور انھیں نان و نفقہ کی ضرورت ہے، تو صرف مجنون کے ولی کو چاہیے کہ اس کی پرورش کی خاطر مقتول کی دیت قبول کر لے، کیونکہ کوئی علم نہیں کہ دیوانہ کب صحیح ہوگا، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صحیح نہ ہو۔ بچے کے بالغ ہونے یا نہ ہونے میں تردد نہیں ہوتا۔
② جن لوگوں کو قصاص لینے کا حق حاصل ہے وہ سب قصاص لینے پر متفق ہوں۔
یعنی وہ دو رائے نہ رکھتے ہوں، کیونکہ یہ ایسا حق ہے جو مشترک ہے اور اس کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا اگر بعض ورثاء قصاص کی صورت میں اپنا حق وصول کر لیں گے، تو دیگر ورثاء کے دیت لینے یا معاف کرنے کے حق میں مداخلت کے مرتکب ہوں گے، جس کا انہیں اختیار نہ تھا۔
قصاص کے مستحقین میں سے اگر کوئی غیر حاضر ہو، یا نابالغ ہو، یا مجنون ہو، تو انتظار کیا جائے گا کہ غیر حاضر آدمی حاضر ہو جائے، بچہ بالغ ہو جائے، اور مجنون صحت یاب ہو جائے۔ اگر قصاص کے مستحقین میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو اس کا وارث اس کا قائم مقام ہوگا۔ اگر قصاص کا حق رکھنے والوں میں سے کوئی ایک معاف کر دے تو مجرم سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔
استحقاق قصاص میں تمام نسبی اور سببی ورثاء شریک ہیں، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں، بڑے ہوں یا چھوٹے۔ بعض علماء کی یہ رائے ہے کہ معاف کرنے کا حق صرف عصبہ کو ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا یہی قول ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی ملتی ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی رائے کو پسند کیا ہے۔
③ قصاص کی صورت میں اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ جو قصوروار نہیں، اس پر زیادتی نہ ہونے پائے۔
کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿ وَمَن قُتِلَ مَظلومًا فَقَد جَعَلنا لِوَلِيِّهِ سُلطـٰنًا فَلا يُسرِف فِى القَتلِ إِنَّهُ كانَ مَنصورًا ﴿٣٣﴾… سورة الإسراء
"اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں مار ڈالا جائے ہم نے اس کے وارث کو طاقت دے رکھی ہے۔ چنانچہ وہ قتل (قصاص لینے) میں زیادتی نہ کرے، بے شک وہ مدد کیا گیا ہے۔”
[بنی اسرائیل17۔33۔]
جب قصاص میں زیادتی ہوگی تو آیت کے مطابق یہ "اسراف” ہے، جس سے آیت مبارکہ منع کر رہی ہے۔
حاملہ عورت سے قصاص کا حکم
اگر کسی حاملہ عورت سے قصاص لینا واجب ہو، یا قصاص واجب ہونے کے بعد وہ حاملہ ہو جائے، تو جب تک وضع حمل نہ ہو گا اس عورت کو قتل نہ کیا جائے گا، کیونکہ اس کو قتل کرنے سے اس کے پیٹ کا بچہ بھی قتل ہوگا، حالانکہ وہ بے قصور ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ﴾
"کوئی بوجھ والا کسی اور کا بوجھ اپنے اوپر نہ لادے گا۔”
[بنی اسرائیل:17۔15۔]
بچے کی ولادت کے بعد دیکھا جائے گا کہ آیا بچے کو دودھ پلانے کا کوئی بندوبست ہو سکتا ہے؟ اگر کوئی بندوبست کر دے تو بچہ اس کے حوالے کیا جائے گا اور عورت کو قتل کر دیا جائے گا، کیونکہ اب قصاص کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں رہی۔ اگر بچے کو دودھ پلوانے کا انتظام نہ ہو سکے تو عورت کی سزا دو سال تک مؤخر کر دی جائے گی، حتی کہ بچہ دودھ پینا چھوڑ دے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"إِذَا قَتَلَت الْمَرْأَة عَمْداً فَلَا تَقْتُل حَتَّى تَضَع مَا فِي بَطْنِهَا إِن كَانَت حَامِلَاً وَحَتَّى تُكَفِّل وَلَدَهَا وَإِن زَنَت لَم تُرْجَم حَتَّى تَضَع مَا فِي بَطْنِهَا وَحَتَّى تُكَفِّل وَلَدَهَا”
"اگر کوئی عورت کسی کو عمداً قتل کر دے تو اسے اس وقت تک قتل نہ کیا جائے جب تک حمل کی صورت میں پیٹ میں موجود بچے کو جنم نہ دے اور بچے کی کفالت نہ کر لے۔ اسی طرح اگر زنا کا ارتکاب کرے تو حاملہ ہونے کی صورت میں جب تک بچے کو جنم نہ دے اسے رجم نہ کیا جائے، نیز بچے کی کفالت نہ کر لے۔”
[(ضعیف ) سنن ابن ماجہ الدیات باب الحامل یجب علیہا القود حدیث:2694۔]
"ارْجِعِي حَتَّى تَضَعِي مَا فِي بَطْنِكِ”
"تو واپس چلی جا، حتی کہ پیٹ میں موجود بچے کو جنم دے۔”
[ھذامعنی الحدیث واصلہ فی صحیح مسلم الحدودباب من اعترف علی نفسہ بالزنی حدیث1695۔]
پھر بچے کی ولادت کے بعد اسے فرمایا:
"ارجعي حتى ترضيعه”
"تو واپس چلی جا، حتی کہ بچے کو مکمل مدت تک دودھ پلا لے۔”
[المصدرالسابق۔]
درج بالا دونوں حدیثوں اور آیت قرآنی سے واضح ہوا کہ حمل کی وجہ سے عورت کو قصاص میں اس وقت تک قتل نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ بچے کو جنم نہ دے۔ اس پر علماء کا اجماع ہے۔
نیز ان احکام سے شریعت اسلامی کا کمال واضح ہوتا ہے کہ اس نے پیٹ میں موجود بچے کا کس قدر خیال رکھا ہے، کہ اسے ہر قسم کی تکلیف و نقصان سے بچایا ہے، بلکہ اس کی زندگی کو بچانے کے لیے سزا دینے میں تاخیر کی، پھر اس کی کفالت کا بندوبست کیا۔ بندوں کی مصلحتوں اور فوائد پر محیط شریعت کے مل جانے پر ہم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں۔
قصاص لینے کا طریقہ
جب کسی سے قصاص لینے کا وقت آئے تو ضروری ہے کہ حاکم یا اس کے نائب کی نگرانی میں یہ کام ہو، تاکہ قصاص کے فیصلے میں زیادتی نہ ہو جائے اور شریعت کے تقاضے بھی پورے ہوں۔
قصاص لینے کے لیے ایسا ہتھیار استعمال میں لایا جائے جو تیز دھار ہو، مثلاً: تلوار یا چھری وغیرہ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة”
"جب تم (کسی) کو قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو۔”
[صحیح مسلم الصید باب الامر یا حسان الذبح والقتل وتحدید الشفرۃحدیث1955۔]
قصاص لینے کے لیے ایسا آلہ استعمال نہ کیا جائے جو کند ہو، کیونکہ یہ قصاص میں زیادتی کرنے کے مترادف ہے، جو ممنوع ہے۔
اگر مقتول کا سرپرست شرعی طریقے سے اور اچھے انداز میں قصاص لے سکتا ہو تو ٹھیک، ورنہ حاکم مقتول کے ولی کو حکم دے گا کہ کسی کو وکیل بنائے تاکہ وہ اس کے لیے قصاص لے۔
اہل علم کا صحیح قول یہی ہے کہ مجرم سے قصاص لیتے وقت وہی صورت اختیار کی جائے جو مجرم نے اختیار کی تھی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِن عاقَبتُم فَعاقِبوا بِمِثلِ ما عوقِبتُم بِهِ …﴿١٢٦﴾… سورة النحل
"اور اگر تم بدلہ لو تو بالکل اتنا ہی جتنا صدمہ تمھیں پہنچایا گیا ہو۔”
[النحل:16۔126۔]
نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿فَمَنِ اعتَدىٰ عَلَيكُم فَاعتَدوا عَلَيهِ بِمِثلِ مَا اعتَدىٰ عَلَيكُم …﴿١٩٤﴾… سورة البقرة
"پھر جو تم پر زیادتی کرے تو تم بھی اس پر اسی کے مثل زیادتی کرو جو اس نے تم پر کی ہے۔”
[البقرۃ:2/194۔]
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہودی کا سر اسی طرح پتھروں سے کچلا جائے جیسے اس نے ایک انصاری لڑکی کا سر کچلا تھا۔
[صحیح البخاری الحصومات باب مایذکر فی الاشخاص والخصومۃ بین المسلم والیہود حدیث2413۔]
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
"شریعت اور انصاف کا یہی تقاضا ہے کہ مجرم جیسا کرے ویسا بھرے۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، اور آثار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اس پر متفق ہیں۔”
اگر مجرم نے کسی کے پہلے ہاتھ کاٹے پھر اسے قتل کیا تو قصاص بھی اسی طرح لیا جائے گا۔ اگر اس نے پتھر کے ساتھ، یا پانی میں ڈبو کر، یا کسی اور صورت سے قتل کیا تو مجرم کو بھی اسی طرح قتل کیا جائے گا۔ البتہ مذکورہ صورتوں میں اگر وارث صرف تلوار سے قتل کرنے پر راضی ہو تو اسے اختیار ہے، اور یہ افضل بھی ہے۔
اگر کسی شخص نے کسی کو حرام کام کے ارتکاب کے ذریعے سے قتل کیا تو اسے تلوار ہی کے ساتھ قتل کیا جائے گا۔ آج کے دور میں کسی کو گولی مار کر قتل کرنا تلوار کے ساتھ قتل کرنے کے مترادف ہے، بشرطیکہ مارنے والا اچھا نشانہ باز ہو۔