قتلِ عمد کے بعد توبہ کا حکم

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

قتلِ عمد کے بعد اگر قاتل توبہ کر لے
قتل عمد کے بعد اگر قاتل توبہ کر لے تو اس کی توبہ انشاء الله قبول ہو جائے گی ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
(25-الفرقان:68)
وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ….. إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ [الفرقان: 68 – 70]
”اور وہ (مومنین ) کسی ایسے شخص کو جسے قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے منع کر دیا ہو بجز حق کے قتل نہیں کرتے نہ وہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی یہ کام کرے وہ اپنے اوپر سخت و بال لائے گا ۔ ….. سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے ۔“
اور اس آیت اور اس آیت :
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ [النساء: 93]
”اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کی جزا جہنم ہے ۔“
کا معنی یہ ہے کہ اس گناہ کی سزا جہنم ہی ہے لیکن اگر وہ توبہ کر لے تو دیگر شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ یہ سزا معاف ہو جائے گی ۔