قتل عمد یا شبه عمد کی دیت مزید سخت ہو گی اور وہ اس طرح کہ سو اونٹوں میں سے چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی
➊ حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا إن دية الخطأ شبه العمد ، ما كان بالسوط والعصا – مائة من الإبل منها أربعون فى بطونها أولادها
”خوب سمجھ لو ! قتل شبه عمد جو کہ کوڑے یا لاٹھی سے (کیا گیا ہو ) اس میں سو اونٹ دیت ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹیاں ہوں گی ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3807 ، كتاب الديات: باب فى دية الخطأ شبه العمد ، ابو داود: 4547 ، نسائي: 41/8 ، ابن ماجة: 2627 ، التاريخ الكبير للبخاري: 434/3]
➋ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عقل شبه العمد مغلظ مثل عقل العمد ولا يقتل صاحبه
”قتل شبه عمد کی دیت قتل عمد کی مانند دیت مغلظہ ہے اور قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3819 ، كتاب الديات: باب ديات الأعضاء ، ابو داود: 4565 ، دارقطني: 95/3 ، إرواء الغليل: 118/6]
(جمہور ) قتل عمد اور قتل شبہ عمد میں دیت مغلظ لازم آئے گی ۔
(مالکیہ ) قتل عمد میں اولیاء کی رضا مندی کے مطابق اور والد کے اپنے بچے کو قتل کرنے میں دیت مغلطہ لازم ہو گی ۔
(ابوحنیفہؒ ) یہ دیت صرف قتل شبہ عمد میں ہی لازم آئے گی ۔
[بداية المجتهد: 409/2 ، الأم: 113/6 ، المغنى: 23/12 ، بدائع الصنائع: 256/7 ، تبيين الحقائق: 126/6 ، مغنى المحتاج: 53/4 ، المهذب: 195/2 ، كشاف القناع: 17/6 ، الشرح الكبير: 266/4]
❀ دیت مغلظہ وہ ہے جو قتل شبه عمد پر لاگو ہوتی ہے ۔
دیت مخففہ وہ ہے جو قتل خطا میں لاگو ہوتی ہے ۔
قتل عمد میں دیت مغلظہ ہو گی ۔ امام شافعیؒ اور حنابلہ کا یہی مذہب ہے لیکن امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ قتل عمد میں کوئی دیت نہیں بلکہ وہی واجب الأدا ہو گا جس پر طرفین صلح کرلیں ۔
[فقه السنة: 52/3]
نیز یاد رہے کہ تغلیظ کا اعتبار صرف اونٹوں میں ہی کیا جائے گا ۔
تحریر: عمران ایوب لاہوری