قتل خطا میں دیت اور کفارہ دونوں لازم ہیں اور وہ یہ ہے کہ جو بغیر ارادے کے ہو یا اس کا فاعل بچہ یا پاگل ہو
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ [النساء: 92]
”جو شخص کسی مسلمان کو بلا قصد مار ڈالے اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا اور مقتول کے عزیزوں کو خون بہا پہنچانا ہے ۔“
کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان گردن آزاد کر دی جائے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں ۔
دیتِ خطاء کے متعلق حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا:
فى دية الخطاء عشرون حقة ….
”قتلِ خطا کی صورت میں پانچ قسم کے اونٹ دیت میں وصول کیے جائیں گے ۔“
بیسں ایسے جن کی عمر تین سال ہو اور بیس جن کی عمر چار سال ہو اور بیس مادہ اونٹ جن کی عمر دو سال ہو اور بیس مادہ جن کی عمر ایک ایک سال ہو اور بیس نر اونٹ جن کی عمر ایک سال ہو ۔“
[ضعيف: ضعيف ابو داود: 984 ، كتاب الديات: باب الدية كم هي ، ابو داود: 4545 ، بيهقى: 1386 ، نسائي: 43/8 ، ابن ماجة: 2631 ، احمد: 784/1 ، بزار: 1922 ، دار قطني: 173/3 ، ابن أبى شيبة: 133/9]
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ ، امام زہری ، امام عکرمہ ، امام لیث ، امام ثوری ، حضرت عمر بن عبد العزیز ، حضرت سلیمان بن یسار ، امام مالک ، احناف اور شافعیہ رحمہم اللہ اجمعین ، ان سب کا وہی مذہب ہے جو گذشتہ حدیث میں مذکور ہے صرف امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک آخری قسم میں بیسں دو سال کی عمر کے نر اونٹ ہیں ۔
[الأم للشافعي: 113/6 ، الإختيار: 35/5 ، المغنى: 15/12 ، بداية المجتهد: 410/2 ، نيل الأوطار: 521/4 ، سبل السلام: 1607/3 ، الفقه الإسلامي وأدلته: 5735/7]
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تیسں ایسے اونٹ جن کی عمر چار سال ہو ، تیس ایسے جن کی عمر تین سال ہو اور بیسں نر اونٹ جن کی عمر ایک سال ہو اور بیس ایسے مادہ اونٹ جن کی عمر دو سال ہو ۔
[نيل الأوطار: 521/4]
(راجح) دیت خطا کے متعلق حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ضعیف ہے لٰہذا کوئی سے سو اونٹ دیے جا سکتے ہیں اس کی دلیل وہ حدیث بھی ہے جس میں حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا إن دية الخطأ وشبه العمد ما كان بالسوط والعصا مائة من الإبل منها أربعون فى بطونها أولادها
”قتل خطا کی دیت شبہ عمد (کی دیت ہی ہے ) جو کوڑے اور لاٹھی سے مارا گیا ہو ۔ اس کی دیت سو اونٹ ہے جن میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3807 ، كتاب الديات: باب فى دية الخطأ شبه العمد ، ابو داود: 4547 ، نسائي: 40/8 ، ابن ماجة: 2627 ، ابن حبان: 6011/13 ، بيهقى: 68/8]
➊ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يحتلم وعن المجنون حتى يعقل
”تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے سونے والے سے حتی کہ وہ جاگ جائے ، بچے سے حتی کہ وہ بالغ ہو جائے اور پاگل سے حتی کہ وہ سمجھدار ہو جائے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3703 ، كتاب الحدود: باب فى المجنون يسرق ، ابو داود: 4403]
امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک یہ مسئلہ متفق علیہ ہے کہ بچوں پر قصاص نہیں ہے کیونکہ ان کا قصدا قتل کرنا بھی خطا ہی ہے جب تک کہ ان پر شرعی حدود واجب نہ ہو جائیں اور وہ بالغ نہ ہو جائیں اور بچے کا کسی کو قتل کر دینا صرف قتل خطا ہی ہوگا ۔
[موطا مع المسوى: 240/2]
یہ دیت برادری کے لوگوں پر لازم ہے
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہذیل قبیلہ کی دو عورتیں آپس میں جھگڑ پڑیں اور ایک نے دوسری کو پتھر دے مارا ۔ اس پتھر سے وہ عورت اور اس کے پیٹ کا بچہ مر گیا ، اس کے وارث مقدمہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں لے آئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ پیٹ کے بچے کے بدلے لونڈی یا غلام (کی ادائیگی ) ہے:
وقـضـى بـديـة الـمـرأة على عاقلتها
”اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے بدلے قاتل عورت کے ورثاء پر دیت ڈال دی ۔“
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
وأن الـعـقــل على عصبتها
”اور دیت اس کے عصبہ رشتہ داروں (جو أصحاب الفروض کے علاوہ ہوں ) پر لازم ہے ۔“
[بخاري: 6909 – 6910 ، كتاب الديات: باب جنين المرأة وأن العقل على الوالد ، مسلم: 1681 ، تحفة الأشراف: 52/11]
➋ ایک روایت میں ہے کہ قبیلہ ہذیل کی دو عورتوں میں سے ایک نے دوسری کو قتل کر دیا اور ان میں سے ہر ایک کا خاوند اور اولاد تھی:
فجعل رسول الله صلى الله عليه وسلم دية المقتولة على عاقلة القاتلة وبرأ زوجها وولدها
”تو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ کی دیت قاتل عورت کے ورثاء پر ڈال دی اور اس کے خاوند اور اولاد کو بری قرار دے دیا ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 2143 ، ابو داود: 4575 ، كتاب الديات: باب دية الجنين ، ابن ماجة: 2248]
ثابت ہوا کہ قتل کرنے والے کے تمام رشتہ دار دیت کی ادائیگی میں اس کے شریک ہوں گے جب کہ خاوند یا بیوی اور اولاد اس سے مستثنی ہوں گے ۔
(جمہور) اسی کے قائل ہیں ۔
[المغني: 770/7]
بعض نے مندرجہ ذیل دلائل کی وجہ سے اس کی مخالفت کی ہے:
➊ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ [الأنعام: 164]
”کوئی بوجھ اٹھانے والی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی ۔“
➋ لا يجنى جان إلا على نفسه
”جرم کرنے والے کا جرم صرف اسی پر ہو گا ۔“
[حسن: صحيح ترمذي ، ترمذي: 3087 ، كتاب تفسير القرآن: باب ومن سورة التوبة]
ان میں تطبیق یوں دی گئی ہے کہ :
① دیت کے احکام اس سے خاص ہیں ۔
② ان دلائل میں اُخروی جزا کا ذکر ہے جبکہ دیت کا تعلق دنیاوی امور سے ہے ۔
[الروضة الندية: 654/2 ، سبل السلام: 1590/3]
❀ عصبہ رشتہ داروں سے مراد وہ ہیں جو اولاد (اصحاب الفروض ) اور ذوی الارحام کے علاوہ ہیں ۔
[بدائع الصنائع: 4666/10 ، المغنى: 39/12 ، نيل الأوطار: 514/4]
تحریر: عمران ایوب لاہوری