لڑائی سے پہلے تین باتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دینا واجب ہے: اسلام قبول کرو ، جزیہ دو یا لڑائی کے لیے تیار ہو جاؤ
➊ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی لشکر یا سریہ کا امیر مقرر فرماتے تو اسے بالخصوص خدا خوفی اور اپنے مسلمان ساتھیوں کے ساتھ بھلائی اور خیر کی نصیحت فرماتے ۔ اس کے بعد فرماتے اللہ کے نام کے ساتھ ، اس کے راستے میں جہاد کرو ، ان لوگوں سے جو خدا کے منکر و کافر ہیں ۔ لڑائی کرو ، خیانت نہ کرنا ، دھوکہ نہ دینا ، مثلہ نہ کرنا ، بچوں کو قتل نہ کرنا:
وإذا لقيت عدوك من المشركين فادعهم إلى ثلاث خصال فأيتهن أجابوك إليها فاقبل منهم وكف عنهم
”جب مشرک دشمن سے ملاقات ہو تو ان کو لڑائی سے پہلے تین چیزوں کی دعوت پیش کرو ۔ ان میں سے جسے وہ قبول کر لیں اسے قبول کر لو اور ان سے لڑائی نہ کرو ۔“
پہلے ان کو اسلام کی دعوت پیش کرو پس اگر وہ اسے تسلیم کر لیں تو اسے قبول کر لو ۔ پھر ان کو دعوت دو کہ وہ اپنے گھر بار چھوڑ کر (دالاسلام ) مہاجرین کے ملک کی طرف ہجرت کر کے آ جائیں ۔ اگر وہ انکار کر دیں تو ان کو خبر دار کر دو کہ ان کے حقوق بدوی مسلمانوں کے برابر ہوں گے اور ان کے لیے مال غنیمت اور مال فئی میں سے کچھ نہیں ہو گا الا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جہاد میں شریک ہوں ۔ اگر اس سے انکار کریں تو ان سے جزیہ لو ۔ اگر وہ اسے تسلیم کر لیں تو اسے بھی قبول کر لو اور اگر وہ انکار کریں تو اللہ سے مدد طلب کرو اور ان سے لڑائی شروع کر دو ۔“
[مسلم: 1731 ، كتاب الجهاد والسير: باب تامير الإمام الأمراء على البعوث ووصيته إياهم ، احمد: 215/5 ، أبو يعلى: 1413 ، ابو داود: 2612 ، ترمذى: 1408 ، ابن ماجة: 2858 ، ابن حبان: 4739 ، طحاوي: 206/3 ، بيهقي: 15/9 ، ابن الجارود: 1042]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ :
ما قاتل رسول الله صلى الله عليه وسلم قوما قط إلا دعاهم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی قوم سے انہیں دعوت دینے کے بغیر قتال نہیں کیا ۔“
[احمد: 231/1 ، حاكم: 15/1 ، أبو يعلى: 2494 ، عبد بن حميد: 697]
درج ذیل حدیث گذشتہ احادیث کے خلاف معلوم ہوتی ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم أغار على بني المصطلق وهم غارون
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر ان کی غفلت کی حالت میں حملہ کر دیا ۔“
[بخاري: 2541 ، كتاب العتق: باب من ملك من العرب رقيقا]
ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے نافع کو خط لکھا کہ وہ مجھے قتال سے پہلے دعوت کے متعلق بتائیں تو انہوں نے مجھے لکھا:
إنما كان ذلك فى أول الإسلام وقد أغار رسول الله صلى الله عليه وسلم على بني المصطلق وهم غارون فقتل مقاتلتهم وسبي ذراريهم
”یہ تو ابتدائے اسلام میں تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تو اس وقت وہ لوگ بے خبر و غافل تھے ۔ پس آپ نے ان کے لڑنے والوں کو قتل کر دیا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لیا ۔“
[مسلم: 1730 ، كتاب الجهاد والسير: باب جواز الإغارة على الكفار الذين بلغتهم دعوة الإسلام من غير تقدم إعلام بالإغارة]
اس مسئلے کے متعلق علما کے تین مذاہب ہیں:
(مالکؒ ) کفار کو اسلام کی دعوت دینا واجب ہے انہیں پہلے دعوت پہنچی ہو یا نہ پہنچی ہو ۔
(حنابلہ ) کفار کو دعوت دینا کسی صورت میں بھی واجب نہیں ہے ۔
(جمہور ) اگر کفار کو پہلے دعوت نہ پہنچی ہو تو انہیں دعوت دینا واجب ہے بصورت دیگر مستحب ہے ۔
[الفقه الإسلامي وأدلته: 3853/8 ، المغنى: 29/13]
(راجح ) جمہور کا موقف احادیث کے زیادہ قریب ہے ۔
(ابن منذرؒ ) جمہور کے قول کے ساتھ ہی متضاد احادیث کو جمع کیا جائے گا ۔
[نيل الأوطار: 700/4]
(امیر صنعانیؒ ) یہی (تیسرا ) قول راجح ہے ۔
[سبل السلام: 1760/4]
❀ گذشتہ روایات سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عرب غلام بنائے جا سکتے ہیں ۔ جمہور ، مالکیہ اور احناف کا یہی مذہب ہے ۔
[نيل الأوطار: 701/4 ، سبل السلام: 1760/4]