قبولیتِ اعمال صالحہ کی 3 بنیادی شرائط قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

قبولیت اعمال صالحہ کی شرائط

کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں درج ذیل تین شرائط کے بغیر شرف قبولیت حاصل نہیں کر سکتا:
① نیت خالص ہو۔
② عقیدہ کتاب و سنت اور سلف صالحین کے مطابق ہو۔
③ عمل سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو۔

① اخلاص نیت

اخلاص نیت کا مفہوم :

اخلاص نیت کے بغیر کوئی بھی عمل صالح قبول نہیں ہوتا۔ نیت کا مرکز انسان کا دل ہے۔ نیت کے الفاظ حدیث شریف میں ثابت نہیں ہیں۔ صرف دل کی توجہ پوری کوشش سے اللہ تعالیٰ ہی کی طرف کرنی چاہیے۔
یا ارحم الراحمین یہ عمل صرف تیری توفیق سے تیری رضا کے لیے سرانجام دے رہا ہوں۔ (وما توفيقي إلا بالله)
اس عمل کو اپنی توفیق خاص سے ذاتی اغراض سے مبر افرما اس عمل میں قوم و ملک کا کوئی حصہ نہ ہو اور ان مفاسد سے دل کی نیت کو پاک کرتا ہوں۔
چنانچہ فرمان رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں ہے:
عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إنما الأعمال بالنيات
”نیک اعمال کی قبولیت کا انحصار صرف نیتوں پر ہے۔“
(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 54، صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1907، سنن أبي داود، حدیث نمبر: 2201، سنن النسائی، حدیث نمبر: 76، جامع الترمذی، حدیث نمبر: 1647)

راوی کا تعارف : سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔

امیر المؤمنین سیدنا حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو حفص ہے۔ یہ عدوی قریشی ہیں۔ نبوت کے چھٹے سال دائرہ اسلام میں داخل ہوئے۔ ان سے پہلے چالیس مرد اور گیارہ عورتیں حلقہ بگوش اسلام ہوئیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انتہائی دلیر اور بہادر تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شرکت کی۔ سب سے پہلے خلیفہ ہیں جو امیر المؤمنین کے لقب سے پکارے گئے۔ آپ سرخی مائل گورے رنگ، لمبے قد کے نوجوان تھے۔
26 ذوالحجہ سن 23 ہجری کو مغیرہ بن شعبہ کے غلام ابو لؤلؤ فیروز نے مدینہ طیبہ میں فجر کی نماز کے دوران آپ کو زہر آلود خنجر سے زخمی کر دیا۔ 10 محرم سن 24 ہجری میں جان جان آفریں کے سپرد کی صحیح قول کے مطابق آپ کی عمر 63 سال تھی۔ آپ دس سال چھ ماہ مسند خلافت پر جلوہ افروز رہے۔ آپ کی نماز جنازہ سیدنا حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی۔ آپ سے کثیر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے روایات حاصل کیں۔ آپ 22 مربع میل کے فاتح اور حکمران تھے۔
(فتوحات عمر از تاریخ الخلفاء مصنف نجیب اکبر آبادی، مختصر حالات دیکھیں: مرعاة المفاتیح جلد 1-32)
یہ حدیث خبر متواتر کا درجہ رکھتی ہے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کا تذکرہ اڑھائی سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کیا۔ موجودین صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس پر اتفاق فرمایا۔ اس حدیث کو بعض آئمہ کرام نے ثلث دین کہا ہے اور بعض نے ربع دین کہا ہے۔
(تفصیلات کے لیے دیکھیں: صحیح البخاری مع فتح الباری ص 1/15، مکتبہ دار السلام الریاض، مرعاة المفاتیح 21تا22 جلد 1مرقاۃ شرح مشکوۃ 39 تا 47ج/1، جامع العلوم والحکم، ابن رجب)

اخلاص نیت کے بغیر اعمال کی بربادی :

خالق کائنات کا عظیم الشان فرمان ہے:
﴿مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ﴾
”جو شخص دنیا کی زندگی اور اس کی زینت پر فریفتہ ہوا ہو ہم ایسوں کو ان کے کل اعمال (کا بدلہ) انہیں دیتے ہیں یعنی دنیا میں بھرپور پہنچا دیتے ہیں اور یہاں انہیں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔“
(سورة هود: 15)
﴿أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ ۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾
”ہاں یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں سوائے آگ کے اور کچھ نہیں اور جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا سب اکارت جائے گا اور جو عمل وہ کرتے رہے سب برباد ہو گئے۔“ (اللهم لا تجعلنا منهم)
(سورة هود: 16)
﴿وَلَا تَدْعُ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ ۘ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ ۚ لَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾
”اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں۔ ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اس کا منہ (اور ذات) اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔“
(سورة القصص: 88)
اس آیت مبارکہ سے اہل اللہ یہ مفہوم بھی نکالتے ہیں کہ جو عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیا جائے گا وہی کام آئے گا، دوسرا برباد اور ضائع ہو جائے گا۔

اخلاص نیت کے بغیر عالم، سخی اور مجاہد کا عبرتناک انجام :

نیت صالحہ کے بغیر قیمتی جان کے خون کے آخری قطرے، مال و دولت کے مخیر حضرات نے ملت اسلامیہ کی ضروریات پر دولت کی بارش برسائی۔ اہل علم نے علم کی اشاعت کے لیے اپنی جانیں کھپا دیں۔ مذکورہ تینوں عمل ملک و ملت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن نیت کے فاسد ہو جانے کی وجہ سے رضائے الہی کی بجائے اللہ رحیم و کریم کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔ (اللهم لا تجعلنا منهم)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أول الناس يقضى عليه يوم القيامة رجل أتي به فعرفه نعمه فعرفها فقال فما عملت فيها قال قاتلت فيك حتى استشهدت قال كذبت ولكن قاتلت لأن يقال جريء فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي فى النار ورجل تعلم العلم وعلمه وقرأ القرآن فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال ما عملت فيها فتعلمت العلم وعلمته وقرأت فيك القرآن قال كذبت ولكنك تعلمت العلم ليقال إنك عالم وقرأت القرآن ليقال هو قارئ فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه حتى ألقي فى النار ورجل وسع الله عليه وأعطاه من أصناف المال كله فأتي به فعرفه نعمه فعرفها قال فما عملت فيها قال ما تركت من سبيل تحب أن ينفق فيها إلا أنفقت فيها لك قال كذبت ولكنك فعلت ليقال هو جواد فقد قيل ثم أمر به فسحب على وجهه ثم ألقي فى النار
سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمیوں میں سب سے پہلے قیامت کے دن شہید کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کو لایا جائے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں معلوم کرائے گا وہ ان نعمتوں کو پہچانے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو نے ان میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا تیری راہ میں لڑتا رہا یہاں تک کہ میں شہید کیا گیا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا ہے تو تو اس لیے لڑ رہا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے تو وہ تجھے کہا گیا ہے، پھر اس کے لیے حکم کیا جائے گا اور وہ منہ کے بل کھینچا جائے گا یہاں تک کہ اس کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔ اور ایک وہ شخص کہ اس نے خود علم سیکھا اور آگے لوگوں کو سکھلایا اور قرآن پڑھا اس کو لایا جائے گا اللہ رب العزت اس کو اپنی نعمتوں کا تعارف کرائیں گے جب وہ پہچان جائے گا تو اللہ تعالیٰ پوچھے گا تو نے اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا میں نے علم سیکھا اور اس کو آگے سیکھلایا اور تیرے راستے میں قرآن پڑھا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا ہے تو نے علم اس لیے سیکھا کہ تجھے عالم کا لقب دیا جائے اور تو نے قرآن اس لیے پڑھا کہ تجھے قاری کہا جائے، تجھے ایسے کہا گیا پھر اس کے بارے میں حکم ہوگا اور اس کو منہ کے بل کھینچا جائے گا یہاں تک کہ آگ میں ڈالا جائے گا۔ ایک شخص وہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر رزق کو فراخ کیا اور ہر قسم کا مال عطا فرمایا اس کو لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتوں کی پہچان کرائے گا وہ ان کو پہچان جائے گا۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو نے اس میں کیا عمل کیا؟ وہ جواب دے گا میں نے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی کہ جسے تو پسند فرماتا ہو کہ اس میں خرچ کیا جائے مگر میں نے اس میں تیرے لیے خرچ کیا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو نے جھوٹ بولا ہے لیکن تو نے تو اس لیے خرچ کیا تا کہ تجھے سخی کے لقب سے یاد کیا جائے تو تجھے ایسا کہا گیا، پھر اس کے لیے حکم کیا جائے گا کہ اس کو منہ کے بل کھینچا جائے گا یہاں تک کہ اس کو آگ میں پھینک دیا جائے گا۔
(رواہ مسلم، حدیث نمبر: 152 ، 1950، سنن النسائی، حدیث نمبر: 3137، مسند احمد 322/2)

راوی کا تعارف : سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ :

(سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کے نام اور ان کے والد کے نام میں اختلاف ہے، ان کے نام کے بارے میں 30 اقوال ہیں۔ ابن عبد البر کا کہنا ہے کہ دو نام ایسے ہیں جن پر دل کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اور وہ ہیں عبد اللہ یا عبد الرحمن بن صخر الدوسي، خیبر کے موقع پر مسلمان ہوئے۔ ان کا شمار محدثین صحابہ رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے، آٹھ سو سے زائد رواۃ نے ان سے حدیث رسول روایت کی ہے آپ ہمیشہ صحبت نبوی میں رہتے خلیفہ ثانی سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں مفتی مقرر ہوئے۔ مدینہ منورہ کے گورنر مقرر ہوئے۔ سن 59 ہجری میں وفات پائی اور جنت البقیع میں مدفون ہیں، سیدنا ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی کل مرویات 5374 ہیں۔)

فوائد الحدیث :

حالانکہ جہاد جیسا عظیم عمل جو قوم کی حیات کا سبب ہے، مشہور مقولہ ہے شہید کی موت قوم کی حیات ہے راہ جہاد میں ایک رات خلوص نیت سے پہرہ دینا جنت میں داخلے کا سبب ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
وعن ابن عائذ قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فى جنازة رجل فلما وضع قال عمر بن الخطاب رضى الله عنه لا تصل عليه يا رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنه رجل فاجر فالتفت رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الناس فقال هل رآه أحد منكم على عمل الإسلام فقال رجل نعم يا رسول الله صلى الله عليه وسلم حرس ليلة فى سبيل الله فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وحثى عليه التراب وقال أصحابك يظنون إنك من أهل النار وأنا أشهد أنك من أهل الجنة وقال يا عمر إنك لا تسأل عن أعمال الناس ولكن تسأل عن الفطرة
”سیدنا حضرت ابن عائذ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے جنازہ میں شریک ہوئے۔ جب جنازہ کو رکھا گیا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں کیونکہ یہ فاجر آدمی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں سے کسی نے اس کو اسلام پر عمل کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ تو ایک آدمی نے عرض کی: ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس نے ایک رات اللہ تعالیٰ کے راستے میں چوکیداری کی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز جنازہ پڑھی اور اس پر مٹی ڈالی اور ارشاد فرمایا: تیرے ساتھی گمان کرتے ہیں کہ تو دوزخیوں میں سے ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تو بہشتیوں میں سے ہے۔ اور فرمایا: اے عمر! تو لوگوں کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا لیکن تجھے دین اسلام کے متعلق پوچھا جائے گا۔“
(رواہ البيهقي في شعب الإيمان، حدیث: 4297، مشکاة المصابیح، حدیث: 3860)
مذکورہ حدیث پر غور فرمائیں کہ اخلاص نیت سے صرف ایک رات کا پہرہ دینے سے جنت کا مستحق ٹھہرا حالانکہ طبعی موت پر فوت ہوا اور جہاد میں شمولیت بھی نہیں کی۔ جبکہ غیر مخلص مجاہد نے اپنی پیاری جان کی قربانی دے دی لیکن غیر مخلص ہونے کی وجہ سے جہنم کا مستحق ٹھہرا۔
(اللهم أخلص نياتنا)
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ آمین۔
فضائل علم کے متعلق امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سینکڑوں سے متجاوز روایات کتب حدیث میں موجود ہیں اختصار کے ساتھ چند روایات قارئین کی نظر کی جاتی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
عن كثير بن قيس قال كنت جالسا مع أبى الدرداء فى مسجد دمشق فجاءه رجل فقال يا أبا الدرداء إني جئتك من مدينة الرسول لحديث بلغني أنك تحدثه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم ما جئت لحاجة قال فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من سلك طريقا يطلب فيه علما سلك الله به طريقا من طرق الجنة وإن الملائكة لتضع أجنحتها رضا لطالب العلم وإن العالم يستغفر له من فى السماوات ومن فى الأرض والحيتان فى جوف الماء وإن فضل العالم على العابد كفضل القمر ليلة البدر على سائر الكواكب وإن العلماء ورثة الأنبياء وإن الأنبياء لم يورثوا دينارا ولا درهما إنما ورثوا العلم فمن أخذه أخذ بحظ وافر
”سیدنا حضرت کثیر بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں دمشق میں سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا۔ ان کے پاس ایک شخص آیا۔ اس نے آ کر کہا: اے ابو درداء رضی اللہ عنہ! میں مدینہ الرسول سے حاضر ہوا ہوں اور صرف ایک حدیث کی خاطر حاضر ہوا ہوں۔ مجھے معلوم ہوا ہے آپ اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بالمشافہ نقل فرماتے ہیں اور میرے آنے کا مقصد بھی صرف اس حدیث کو حاصل کرنا ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میں نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص (صرف) طلب علم کے لیے سفر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو جنت کے راستوں پر چلاتے ہیں۔ اور آسمانوں میں رہنے والے فرشتے اس کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔ زمین اور آسمانوں میں رہنے والی مخلوقات اس کے لیے بخشش کی دعائیں کرتی ہیں۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسے ہی ہے جیسے چودھویں رات کے چاند کو ستاروں پر اور علماء انبیاء کے وارث ہوا کرتے ہیں اور انبیاء اپنے ورثہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑ کر جاتے بلکہ علم چھوڑ کر جاتے ہیں۔ جس کسی نے علم حاصل کیا اس نے کامل حصہ حاصل کیا۔“
(جامع الترمذی، حدیث: 2682، سنن أبي داود، حدیث: 3641، سنن ابن ماجه: 223، سنن دارمی: 342، مشکاة المصابیح، حدیث: 212)

سیدنا کثیر بن قیس رحمہ اللہ تعالیٰ :

”سیدنا کثیر بن قیس شامی اوساط التابعین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ابن حبان نے ان کو ثقات میں ذکر کیا۔ “
(مرعاة المفاتیح: ج/ 1، 316)
عن أبى أمامة الباهلي رضى الله عنه قال ذكر عند رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلان أحدهما عابد والآخر عالم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فضل العالم على العابد كفضلي على أدناكم ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله وملائكته وأهل السماوات والأرض حتى النملة فى جحرها وحتى الحوت ليصلون على معلم الناس الخير
”سیدنا حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں کا تذکرہ کیا گیا۔ ان دونوں میں ایک عالم تھا جبکہ دوسرا عابد تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عالم کی فضیلت عابد پر اس طرح ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو امت کے معمولی آدمی پر پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین میں بسنے والے یہاں تک کہ اپنے بلوں میں رہنے والی چیونٹیاں اور مچھلیاں بھی اس شخص کے لیے دعا گو ہوتی ہیں جو لوگوں کو خیر (علم) سکھلاتا ہے۔“
(جامع الترمذی، حدیث: 2685، مشکاة المصابیح: 213)

سیدنا ابو امامۃ باہلی رضی اللہ عنہ :

سیدنا ابو امامۃ الباہلی رضی اللہ عنہ کا نام صدی بن عجلان الباہلی ہے مصر میں قیام پذیر ہوئے بعد ازاں حمص میں ہی 86 ہجری میں وفات پائی۔ ان کے بہت زیادہ شاگرد ہیں جنہوں نے ان سے روایات حاصل کیں۔ ان کی عمر 91 سال تھی شام کے علاقہ میں سب سے آخری صحابی فوت ہونے والے سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيه واحد أشد على الشيطان من ألف عابد
مفسر قرآن سیدنا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ایک عالم شیطان پر ایک ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔
(جامع الترمذی، حدیث: 2681، ابن ماجه، حدیث: 222)

مفسر قرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ :

سیدنا عبد اللہ بن عباس بن عبد المطلب قریشی ہاشمی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام الفضل لبابۃ الکبریٰ بنت الحارث ہے جو ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کی بہن ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عن ہجرت سے تین سال پہلے پیدا ہوئے۔ جب سید الانبیاء نے رحلت فرمائی اس وقت ان کی عمر صرف 13 سال تھی۔ بعض نے کہا کہ صرف 15 سال تھی۔ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ کثرت علم کی وجہ سے ان کو الحبر اور البحر کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور اسی طرح ترجمان القرآن بھی ان کا لقب ہے۔ رؤف الرحیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کے لیے ڈھیروں دعائیں نکلیں جیسا کہ حکمت اور تفسیر الدین علم اور تاویل الکتاب کی خصوصی دعائیں ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سیرت و صورت اور گفتار میں بے مثال تھے۔
مفسر قرآن رضی اللہ عنہ کی کل مرویات 1660 ہیں جن میں 75 احادیث متفق علیہ ہیں، 28 احادیث میں امام بخاری منفرد ہیں اور 39 احادیث میں امام مسلم منفرد ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد ہیں۔ طائف میں سن 68 ہجری کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ محمد بن حنفیہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(مرعاة المفاتیح جلد 1-70، مکتبہ سلفیہ لاہور)

اہم ترین نوٹ :

فائدہ: مذکورہ تمام روایات کے مطالعہ سے خوب واضح ہوتا ہے کہ اخلاص نیت کے بغیر یہ فضائل نصیب نہیں ہو سکتے تا وقتیکہ دل میں اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کی نیت نہ ہو۔
تقریباً تمام محدثین إنما الأعمال بالنيات روایت کو سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں تاکہ اساتذہ کرام اور طلباء علم اور ان کے ساتھ تعاون کرنے والے رضائے الہی کی نیت سے تمام امور انجام دیں تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے۔