قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت
اور یہاں یہ بات بھی ذکر کر دیں کہ جہاں مسجد کی صفائی رکھنے کی اتنی فضیلت ہے۔ وہیں مسجد میں کسی بھی طرح گندگی پھیلانے کی سخت ممانعت ہے۔ حتیٰ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ دیکھا کہ مسجد کی قبلہ جہت والی یعنی مغربی دیوار پر رینٹ (یعنی سینے یا سر سے آنے والی بلغمی تھوک) دیکھی تو غصہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس متغیر ہو گیا۔ اور بعض احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اور قبلہ رو تھوکنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے۔
جب کہ کچھ لوگ انتہائی لاپرواہی سے سلام پھیرتے ہی اٹھتے ہیں، اور مسجد کی قبلہ رو کھلنے والی کھڑکی کھول کر قبلہ رو کھنکارنے اور تھوکنے لگتے ہیں۔ حالانکہ یہ احترام قبلہ کے سراسر منافی فعل ہے۔ اور یہ فعل صرف مسجد کے اندر ہی نہیں، بلکہ کسی اور بھی جگہ کسی بھی حالت میں روا نہیں ہے۔
جب یہ موضوع سامنے آہی گیا ہے، تو کیوں نہ اس کی قدرے تفصیلی وضاحت کر دی جائے تاکہ مسجد کے آداب و احترام کے ساتھ ساتھ ہی احترام قبلہ اور تھوکنے کے بعض آداب بھی واضح ہو جائیں۔ اور ان سب مسائل کی بنیاد چونکہ تھوکنے کے صحیح و غیر صحیح طریقہ سے ہی تعلق رکھتی ہے۔ لہذا اس کی مختلف صورتوں کے ذکر کرنے اور قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت کے دلائل کے تذکرہ سے یہ مسائل کھل کر سامنے آجائیں گے۔
قبلہ رو تھوکنے کی چار صورتیں
قبلہ رو تھوکنے کی عموماً چار ہی صورتیں ہو سکتی ہیں:
➊ مسجد میں کھڑے ہو کر یا بیٹھے بیٹھے قبلہ رو تھوکنا۔
➋ نماز کی حالت میں قبلہ رو تھوکنا۔
➌ مسجد سے باہر کسی بھی جگہ پر قبلہ رو تھوکنا۔
➍ حالت نماز کے بغیر یعنی عام حالت میں قبلہ رو تھوکنا۔
یہ چار ہی کل صورتیں ہو سکتی ہیں، اور ان چاروں کی ممانعت کتب حدیث میں وارد ہوئی ہے۔
پہلی دو صورتوں کی ممانعت
ان میں سے پہلی دو صورتوں یعنی مسجد میں اور بحالت نماز قبلہ رو تھوکنے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت وعید فرمائی ہے۔
چنانچہ بخاری شریف اور دیگر کتب یعنی مسلم، ابو داود، ترمذی اور نسائی میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ جانب والی دیوار پر رینٹ (یعنی بلغمی تھوک) دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بہت ہی گراں گزرا۔
حتیٰ کہ اس گرانی و ناراضگی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ اقدس پر دیکھے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفس نفیس اٹھے اور اسے کھرچ کر زائل کیا اور فرمایا:
إن أحدكم إذا قام فى صلاته فإنه يناجي ربه وإن ربه بينه وبين القبلة فلا يبصقن أحدكم قبل قبلته ولكن عن يساره وتحت قدميه
بخاری مع الفتح 508/1 – مسلم مع نووی 4015/3 – صحیح ابی داؤد 450-449 – صحیح ترمذی 468 – صحیح نسائی 698
تم میں سے جب کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ یا پھر فرمایا کہ اس کا پروردگار اس کے اور قبلہ کے مابین ہوتا ہے، لہذا اسے قبلہ رو قطعاً نہیں تھوکنا چاہئے۔ بلکہ اپنی بائیں جانب یا پھر پاؤں کے نیچے تھوک لے۔
آگے یہ الفاظ بھی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کا ایک کنارہ پکڑا اور اس میں تھوک کر باہم مل دیا اور فرمایا:
او يفعل هكذا
یا پھر اس طرح کر لے۔
اس حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے علامہ بدرالدین عینی حنفی نے عمدۃ القاری میں امام قرطبی رحمہ اللہ کا قول نقل کیا ہے۔ جس میں وہ فرماتے ہیں:
الحديث دال على تحريم البصاق فى القبلة
عمدۃ القاری 150/2 دار الفکر بیروت
یہ حدیث قبلہ رو تھوکنے کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
اور خود علامہ عینی نے بھی مختلف اقوال ذکر کرنے کے بعد اس بات کو ترجیح دی ہے کہ قبلہ رو تھوکنا حرام ہے۔ اور اس حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ممانعت کا جو سبب ذکر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نمازی اور قبلہ کے مابین ہوتا ہے۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قبلہ رو تھوکنا حرام ہے۔ یہ مسجد میں ہو یا باہر۔
فتح الباری 508/1
اور بخاری شریف کی اس سے اگلی حدیث میں جو کہ مسلم، ابو داؤد اور موطا امام مالک میں بھی ہے۔ اس میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ والی جہت والی دیوار پر تھوک دیکھی تو اسے کھرچ ڈالا، اور لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
إذا كان أحدكم يصلي فلا يبصقن قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى
بخاری 509/1 – مسلم مع نووی 3810/3 – صحیح ابی داؤد 454 – موطا مع تنویر 200/1 – صحیح ترغیب 114/1 – شرح النسہ 384/2 المکتب الاسلامی – ابن ماجه 763
تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اپنے سامنے نہ تھوکے، کیونکہ نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے۔
نماز کی حالت میں اللہ تعالیٰ نمازی کے سامنے اور اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ اس حالت میں اس کی طرف تھوکنا کتنا ناگوار فعل ہے۔ یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں مثال دے کر سمجھائی ہے۔ چنانچہ ابو داؤد، صحیح ابن خزیمہ، مسند احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے گچھے والی ٹیڑھی لکڑی ہاتھ میں رکھنا بہت پسند تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں انہی میں سے ایک لکڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ والی دیوار پر کئی جگہ رینٹ لگی دیکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جگہوں کو خوب صاف کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غضب ناک ہو کر لوگوں سے فرمایا:
أيحب أحدكم أن يستقبله رجل فيبصق فى وجهه؟
کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی دوسرا اس کے سامنے آئے اور اس کے منہ پر تھوک دے؟
اور یہ مثال دے کر سمجھاتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید فرمایا:
إن أحدكم إذا قام إلى الصلاة فإنما يستقبل ربه والملك عن يمينه فلا يبصق بين يديه ولا عن يمينه
صحیح ابی داؤد 445 – صحیح ابن خزیمہ 46/2 تحقیق ڈاکٹر مصطفی اعظمی – صحیح ترغیب 115/1
جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار کے روبرو ہوتا ہے، اور اس کی دائیں جانب فرشتہ ہوتا ہے۔ لہذا اسے اپنے سامنے اور دائیں جانب نہیں تھوکنا چاہیے۔
ایسے ہی صحیح مسلم، نسائی، سنن ابن ماجه اور مسند احمد میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ جانب والی دیوار پر رینٹ لگی دیکھی تو (غصہ کی حالت میں) لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:
ما بال أحدكم يقوم مستقبل ربه فيتنخع أمامه، أيحب أحدكم أن يستقبل فيتنخع فى وجهه، إذا ابصق أحدكم فليبصق عن شماله أو ليتفل هكذا فى ثوبه
تم میں سے کوئی کس طرح گوارا کر لیتا ہے کہ اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا ہو کر اپنے سامنے ہی تھوک لیتا ہے۔ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے سامنے ہی کوئی تھوک دے؟ (پھر فرمایا) جب تم میں سے کوئی شخص تھوکے تو اسے چاہیے کہ اپنی بائیں جانب تھوکے یا پھر یوں کپڑے میں تھوک (کر اسے مل) لے۔
اور آگے راوی حدیث بیان کرتے ہیں کہ پھر اسماعیل بن علیہ نے اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل کر دکھایا۔
مسلم مع نووی 40/5/3 – ابن ماجه 761 – صحیح الجامع 5570 – صحیح ترغیب 115/1
اور صحیح مسلم و ابو داؤد میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مسجد میں تشریف لائے۔ جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں کھجور کے گچھے والی لکڑی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی قبلہ جہت والی دیوار پر رینٹ لگی دیکھی تو اسے اس لکڑی سے کھرچ کر صاف کر دیا۔ اور پھر فرمایا:
أيحب أن يعرض الله عنه؟ إن أحدكم إذا قام يصلي فإن الله قبل وجهه فلا يبصقن قبل وجهه ولا عن يمينه وليبصقن عن يساره تحت رجله اليسرى فإن عجلت به بادرة فليتفل بثوبه هكذا ووضع على فيه ثم دلكه
مسلم مع نووی 136-137/18/9 – صحیح ابی داؤد 459 – صحیح الترغیب 116/1
کیا کوئی یہ بات پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے؟ تم میں سے جب کوئی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے۔ لہذا اسے اپنے سامنے اور دائیں جانب ہرگز نہیں تھوکنا چاہیے۔ بلکہ اسے اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے۔ اور اگر کبھی ناچار تھوک آ جائے تو اس طرح اپنے کپڑے میں تھوک لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پر کپڑا رکھ کر (اس میں تھوکتے ہوئے) مل کر دکھایا۔
اسی طرح پہلی دو صورتوں کے ممنوع ہونے کا پتہ سنن ابی داؤد، مسند احمد اور صحیح ابن حبان میں مذکور اس واقعہ سے بھی پتا چلتا ہے۔ جس میں حضرت ابو سہیلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے لوگوں کی امامت کروائی، اور قبلہ شریف کی جانب تھوک دیا۔ جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے ایسا کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے، اور جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا:
لا يصلي لكم هكذا
آئندہ یہ شخص تمہیں نماز نہ پڑھائے۔
اس واقعہ کے بعد ایک مرتبہ اس نے لوگوں کو نماز پڑھانا چاہا تو انہوں نے روک دیا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے بارے میں ارشاد سے سنایا۔ اور پھر جب یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاں فرما کر اس ارشاد کی تصدیق فرمائی۔ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
إنك آذيت الله ورسوله
صحیح ابی داؤد 456 – الاحسان فی تقریر صحیح ابن حبان 516/4 – صحیح الترغیب 117/1 – فتح الباری 508/1
تم نے (قبلہ رو تھوک کر) اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائی ہے۔
اور ایسے ہی معجم طبرانی کبیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم فرمایا کہ وہ لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائے۔ اس نے لوگوں کو نماز پڑھانے کے دوران ہی قبلہ رو تھوک دیا۔ اور جب نماز عصر کا وقت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جگہ کسی دوسرے شخص کو نماز پڑھانے کا پیغام بھیجا۔ اس سے پہلا آدمی ڈر گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس نے پوچھا:
اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !
أنزل فى شيء؟
کیا میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہو گیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا، ولكنك نفلت بين يديك وأنت قائم تؤم الناس فآذيت الله والملائكة
طبرانی کبیر بحوالہ صحیح الترغیب 117-118/1
نہیں (آسمان سے تو کوئی حکم نازل نہیں ہوا) لیکن تم نے لوگوں کی امامت کروانے کے دوران ہی کھڑے کھڑے قبلہ رو تھوک کر اللہ اور فرشتوں کو اذیت پہنچائی ہے۔
دوسری دونوں صورتوں میں اور مطلقاً ممانعت
ہماری دنیا کا ایک عام اصول ہے کہ کسی کی طرف منہ کر کے تھوکنا برا سمجھا جاتا ہے۔ اور سامنے والا بگڑ جاتا ہے کہ تم نے میری طرف منہ کر کے تھوکا کیوں ہے؟
کیونکہ عرف عام میں یہ تحقیر کی علامت ہے۔ جب کہ قبلہ و کعبہ اور بیت اللہ شریف اس تحقیر اور توہین آمیز انداز سے کہیں بالا ہیں۔ اس جہت یا جانب کا احترام واجب ہے۔ اور قبلہ رو تھوکنا حرام ہے، وہ مسجد کے اندر ہو یا باہر، کوئی نماز پڑھ رہا ہو یا نماز کے بغیر عام معمول کی حالت میں ہو۔ یہ مطلقاً ہی ممنوع ہے۔
دلائل ممانعت
اور اس ممانعت کے دلائل کے سلسلہ میں جن احادیث سے استدلال کیا جاتا ہے۔
➊ ان میں سے ہی صحیحین و سنن اربعہ الا ابن ماجه والی حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے جو سابقہ نشست میں ذکر کر چکے ہیں۔ اس کے الفاظ ہیں:
فلا يبصقن أحدكم قبل قبلته
تم میں سے کوئی شخص قبلہ کی طرف ہرگز نہ تھوکے۔
ان کی شرح بیان کرتے ہوئے حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں لکھا ہے:
هذا التعليل يدل على أن البصاق فى القبلة حرام سواء كان فى المسجد أم لا، ولا سيما من المصلي
فتح الباری 508/1 – نیل الاوطار 342/2
یہ سبب (کہ اللہ نمازی کے روبرو ہوتا ہے) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قبلہ کی طرف تھوکنا حرام ہے، وہ مسجد کے اندر ہو، کہیں باہر، خصوصاً جب یہ نمازی سے صادر ہو۔
اور آگے موصوف نے تین صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث ذکر کی ہیں۔ جن سے اس نہی کے تحریمی ہونے کی تائید ہوتی ہے۔ اور ان میں سے بعض ہم ذکر کر چکے ہیں۔ اور بعض آگے چل کر آنے والی ہیں۔
➋ علامہ عینی رحمہ اللہ نے عمدۃ القاری میں امام قرطبی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
الحديث دال على تحريم البصاق فى القبلة
یہ حدیث قبلہ رو تھوکنے کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہے۔
➌ اور آگے مختلف اقوال ذکر کرنے کے بارے میں پائے جانے والے اختلاف کی طرف اشارہ کرنے کے بعد لکھا ہے:
والأصح أنه للتحريم
صحیح تر بات یہ ہے کہ ممانعت و نہی تحریمی ہے۔
اور آگے اس نہی کے تحریمی ہونے کے دلائل کے طور پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ذکر کردہ تین احادیث سمیت انہوں نے چار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی احادیث نقل کی ہیں، جن میں سے بعض ہم بھی ذکر کر چکے ہیں، اور بعض کا تذکرہ اپنے موقع پر آنے والا ہے۔
➍ اور صحیحین و ابو داؤد کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث ہم بھی ذکر کر آئے ہیں جس میں ہے:
فلا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه
قبلہ رو مت تھوکے کیونکہ قبلہ کی طرف اس کا پروردگار ہوتا ہے۔
ان الفاظ کی شرح بیان کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ شرح مسلم میں لکھتے ہیں:
فلا يقابل هذه الجهة بالبصاق الذى هو من سخفة بمن يبزق إليه وإهانة وتحقيره
شرح مسلم مع نووی 38/513
یہ قبلہ والی جہت ایسی ہے کہ ادھر تھوکنا نہیں چاہیے، کیونکہ یہ فعل توہین و تحقیر کے مترادف ہے۔
➎ اور بخاری شریف کے ایک ترجمۃ الباب میں امام صاحب، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک اثر لائے ہیں، جسے ابن ابی شیبہ نے صحیح سند کے ساتھ موصولاً روایت کیا ہے۔ اس میں وہ فرماتے ہیں:
إن وطئت على قذر رطب فاغسله وإن كان يابسا فلا
بخاری مع الفتح 509-510/1
اگر تم کسی گیلی غلاظت کو پاؤں تلے روند لو تو پاؤں دھولو۔ اور اگر وہ غلاظت خشک ہو تو پھر پاؤں دھونے کی ضرورت نہیں۔
اور جس بات میں امام بخاری رحمہ اللہ اس اثر کو لائے ہیں، وہ مسجد سے رینٹ کھرچنے کے بارے میں ہے۔ لہذا عام آدمی کو بظاہر اس سے اس کا کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔ لیکن حافظ ابن حجر رحمہ اللہ جیسے راز دار امام بخاری رحمہ اللہ سے وہ تعلق بھی پوشیدہ نہ رہا۔ لہذا انہوں نے فتح الباری میں لکھا ہے:
ومطابقته للترجمة الإشارة إلى أن العلة العظمى فى النهي احترام القبلة لا مجرد التأذي بالبزاق ونحوه
فتح الباری 510/1
اس اثر کی اس باب سے مطابقت یہ ہے کہ اس سے امام صاحب اس بات کی طرف اشارہ فرما گئے ہیں کہ قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت کی اصل اور بڑی علت یا سبب احترام قبلہ ہے۔ تھوک وغیرہ سے محض لوگوں کا اذیت پانا وجہ ممانعت نہیں ہے۔
اور آگے فرماتے ہیں:
اگرچہ لوگوں کے لیے اس کا باعث اذیت ہونا بھی ایک سبب ممانعت ہے۔ لیکن سب سے اہم سبب احترام قبلہ ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رینٹ کے خشک یا تر ہونے میں فرق نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس جن اشیاء کی ممانعت کا سبب فقط ان کا غلیظ یا گندہ ہونا ہے۔ ان میں سے کسی خشک کو روند لینے سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔
ایضاً
➏ مطلقاً قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت کے دلائل میں سے ہی ابو داؤد اور صحیح ابن حبان اور ابن خزیمہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بھی ہے، جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
من تفل تجاه القبلة جاء يوم القيامة وتفله بين عينيه
صحیح ابی داؤد 3239 – موارث الظمآن 332 – ابن خزیمہ 925، 1314 بحوالہ الاحسان 518/4 – صحیح الترغیب 116/1 – فتح الباری 508/1 – نیل الاوطار 342/2 – عمدۃ القاری 150/2
جس نے قبلہ شریف کی طرف منہ کر کے تھو کا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا وہ تھوک اس کی دونوں آنکھوں کے مابین (اس کی پیشانی پر) ہوگا۔
➐ اور صحیح ابن حبان اور ابن خزیمہ (واللفظ له) اور مسند بزار میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
يبعث صاحب النخامة فى القبلة يوم القيامة وهى فى وجهه
ابن حبان الموارد 333 – ابن خزیمہ 1313 – ابن ابی شیبہ 365/2 بحوالہ الاحسان ترتیب ابن حبان 517/4 و سابقہ حوالات و سبل السلام 149/1 مکتبہ تجارية فی مصر
قبلہ کی طرف تھوکنے والا قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ تھوک اس کی پیشانی پر ہوگا۔
➑ اور مطلقاً قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت اس حدیث میں بھی وارد ہوئی ہے ۔جو صحیح بخاری و مسلم اور دیگر کتب میں دو صحابہ کرام رضی اللہ عنہما حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ لگی دیکھی تو ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا اور ارشاد فرمایا:
إذا تنخم أحدكم فلا يتنخمن قبل وجهه ولا عن يمينه، وليبصق عن يساره أو تحت قدمه اليسرى
بخاری مع الفتح 309-511/1 – مسلم مع نووی 38-39،5/3 – مسند احمد 3088058/3 بحوالہ الصحیحہ 1284 – صحیح الجامع 438
تم میں سے کوئی شخص جب تھوکے تو اپنے سامنے (یعنی قبلہ رو) ہرگز نہ تھوکے، اور نہ ہی دائیں جانب تھوکے۔ بلکہ اسے چاہیے کہ اپنی بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے۔
➒ امام نووی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کہ
ہر حالت میں قبلہ رو تھوکنا منع ہے، کوئی نماز میں ہو یا نماز سے خارج، اور مسجد میں ہو یا مسجد سے باہر۔
شرح نووی 39/5/3
➓ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے امام نووی رحمہ اللہ کے اس قول کو نقل کرنے کے بعد مطلقاً ممانعت پر دلالت کرنے والے بعض آثار بھی ذکر کیے ہیں۔
فتح الباری 510/1
⓫ امیر صنعانی رحمہ اللہ نے ”سبل السلام شرح بلوغ المرام“ میں لکھا ہے کہ اس حدیث ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور ابو سعید رضی اللہ عنہ میں مطلقاً قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت آئی ہے (نماز اور مسجد کی کوئی قید نہیں ہے) اور امام نووی رحمہ اللہ سے مطلقاً ممانعت والا قول نقل کیا ہے۔ اور لکھا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں تو نماز کی قید ہے، جب کہ دوسری کئی احادیث میں یہ قید نہیں، بلکہ وہ مطلقاً قبلہ رو تھوکنے کی ممانعت کا پتا دیتی ہیں۔ مسجد کے اندر ہو یا باہر اور نمازی سے ہو یا غیر نمازی سے۔ اور آگے انہوں نے تین احادیث نقل کی ہیں، جو ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں۔
سبل السلام 149/1 مکتبہ التجاریہ الکبری مصر