قبضہ، بیع اور سود کے مسائل: قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل فقہی تجزیہ

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل کتاب البیوع:جلد 02: صفحہ 33
مضمون کے اہم نکات

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
خریدی ہوئی چیز کی قبضے سے پہلے ہی خرید وفروخت

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

آنے والی سطور میں ہم ان مسائل کو بیان کریں گے جو خریدی گئی چیز کو باقاعدہ قبضے میں لینے سے پہلے فروخت کرنے سے متعلق ہیں۔ اس میں واضح کیا جائے گا کہ کون سی صورت جائز ہے اور کون سی ناجائز، نیز کس حالت میں قبضہ صحیح شمار ہوگا اور کس حالت میں صحیح نہیں ہوگا۔

① قبضے سے پہلے فروخت کرنے کا حکم

ائمہ کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ کسی چیز کو خرید لینے کے بعد، اس پر قبضہ کرنے سے پہلے فروخت کرنا جائز نہیں، بشرطیکہ وہ چیز ماپ، ناپ، وزن یا گنتی سے متعلق ہو۔ بلکہ صحیح اور راجح قول کے مطابق دیگر اشیاء کا بھی یہی حکم ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ”
"جس نے اناج خریدا وہ اس وقت تک فروخت نہ کرے جب تک(اس کا ناپ اور وزن کرکے) اسے پوراحاصل نہ کرلے۔” [صحیح البخاری البیوع باب الکیل علی البائع والمعطی،،حدیث 2126۔وصحیح مسلم البیوع باب بطلان بیع المبیع قبل القیض حدیث 1525۔]

ایک روایت میں ہے: "حتى يقبضه” یعنی یہاں تک کہ اسے اپنے قبضے میں لے لے۔ اور ایک روایت میں ہے: "حَتَّى يَكْتَالَهُ ” یعنی یہاں تک کہ اسے ماپ لے۔ [صحیح مسلم البیوع باب بطلان بیع المبیع قبل القبض حدیث 1525۔]

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے: "وأحسب كل شيء مثله”
"(کھانے کی اشیاء کے علاوہ) ہر چیز کا میں یہی حکم سمجھتا ہوں۔” [جامع الترمذی البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ بیع الطعام حتی یستوفیہ بعد الحدیث 1291۔]

بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی فرمان ہے: "إذا اشتريت بيعا فلا تبعه حتى تقبضه”
"جب بھی کوئی شے خریدو تو اس پر قبضہ کیے بغیر آگے فروخت نہ کرو۔” [مسند احمد 3/402۔]

ابوداود رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے: "فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُبَاعَ السِّلَعُ حَيْثُ تُبْتَاعُ حَتَّى يَحُوزَهَا التُّجَّارُ إِلَى رِحَالِهِمْ "
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی جگہ میں جہاں سے سامان خریدا ہے وہیں پر سامان بیچنے سے منع فرمایا ہے،یہاں تک کہ تاجراپنا سودا اپنے اپنے گھروں میں اٹھا کر لے جائیں۔” [سنن ابی داود البیوع باب فی بیع الطعام قبل ان یستوفی حدیث3499۔]

قبضے سے پہلے بیع کی ممانعت کی حکمت

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے شاگرد رشید ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خریدی ہوئی چیز کو قبضے سے پہلے بیچنے کی ممانعت کی وجہ غالباً یہ ہے کہ خریدار ابھی اس پر مکمل قابو نہیں رکھتا۔ ممکن ہے کہ بائع وہ چیز حوالے کرے اور ممکن ہے نہ کرے۔ خاص طور پر اگر بائع دیکھے کہ خریدار کو زیادہ نفع ہو رہا ہے تو وہ بیع کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، یا انکار کرے یا کسی حیلے سے فسخ کی راہ نکالے۔ اس کی تائید اس قاعدے سے بھی ہوتی ہے کہ جس چیز کے نقصان کا ذمہ دار نہ ہو، اس کا نفع بھی نہیں لے سکتا۔ [اعلام الموقعین 3/134،والفتاویٰ الکبری 5/391۔]

لہٰذا ہر مسلمان پر لازم ہے کہ جب کوئی چیز خریدے تو مکمل قبضہ حاصل کیے بغیر اسے فروخت نہ کرے۔

آج کل بہت سے لوگ اس مسئلے میں غفلت کرتے ہیں یا لاعلمی کی وجہ سے خریدی ہوئی چیز کو مکمل قبضے کے بغیر آگے فروخت کر دیتے ہیں۔ مثلاً: سامان خریدنے کی جگہ ہی بوریوں، پیکٹوں یا ڈبوں کی گنتی کر لی، پھر کسی اور کو بیچ دیا، حالانکہ شرعی قبضہ حاصل نہیں ہوا تھا، اس لیے ایسی فروخت جائز نہیں تھی۔

② صحیح قبضہ کی صورتیں

اگر سوال ہو کہ صحیح قبضہ کس طرح حاصل ہوگا؟ تو جواب یہ ہے کہ قبضہ ہر چیز کی نوعیت کے مطابق مختلف ہوگا۔

◈ جو چیز گنتی والی ہو، اس کا قبضہ گنتی سے ہوگا۔
◈ جو چیز ناپ یا وزن سے متعلق ہو، اس کا قبضہ ناپ یا وزن کر لینے سے ہوگا، اور اسے اپنی جگہ منتقل کر کے محفوظ کرنا بھی ضروری ہوگا۔
◈ کپڑے، جانور یا گاڑیاں ہوں تو انہیں اپنی تحویل میں لے جانا قبضہ ہوگا۔
◈ جو چیز ہاتھ میں لی جا سکتی ہو، جیسے جواہر یا کتابیں، تو ہاتھ میں لینا قبضہ ہے۔
◈ جو چیز منتقل نہ ہو سکتی ہو، جیسے زمین، مکان یا درختوں پر لگے پھل، تو قبضہ یہ ہے کہ خریدار کو اس پر مکمل تصرف اور کنٹرول حاصل ہو جائے۔
◈ مکان کے قبضے کے لیے چابی حاصل کرنا اور دروازہ کھول کر اختیار سنبھال لینا کافی ہے۔

بہت سے لوگ سودا طے ہونے کے بعد قبضہ لینے میں کوتاہی کرتے ہیں اور شرعی قبضہ کے بغیر تصرف کر بیٹھتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جھگڑے، اختلافات، ندامت، بلکہ مقدمہ بازی تک کی نوبت آ جاتی ہے۔ جو شخص حکمِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے، اس کے حصے میں ندامت اور پریشانی ہی آتی ہے۔

③ اقالہ (بیع ختم کرنا) کی فضیلت

اگر بیع کے بعد بائع یا مشتری کو ندامت ہو جائے، یا خریدار کو اس چیز کی ضرورت نہ رہے، یا قیمت ادا کرنے میں دشواری پیش آئے، تو اسلامی تعلیم یہ ہے کہ بھائی کی مجبوری کو دیکھتے ہوئے بیع ختم کر دی جائے اور اسے مجبور نہ کیا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "من أقال مسلما أقال الله عثرته يوم القيامة”
"جس نے مسلمان کے ساتھ اقالہ کیا(اس کے مطالبے پرعقد کو ختم کیا) اللہ تعالیٰ روزقیامت اس کی لغزشیں واپس(معاف) کرے گا۔” [سنن ابی داود البیوع باب فی فضل الاقالۃ حدیث 3460 وسنن ابن ماجہ التجارات باب الاقالۃ حدیث 2199۔واللفظ لہ۔]

اقالہ کا مطلب یہ ہے کہ عقد ختم کر دیا جائے اور دونوں فریق اپنی اپنی چیز بغیر کمی بیشی کے واپس لے لیں۔ یہ حسنِ معاملہ اور اسلامی اخوت کا تقاضا ہے۔

④ سود اور اس کا حکم

سود ایک نہایت اہم اور سنگین مسئلہ ہے جس کی حرمت پر تمام سابقہ شریعتیں متفق رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سود خوروں کے لیے سخت وعید بیان فرمائی ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿الَّذينَ يَأكُلونَ الرِّبو‌ٰا۟ لا يَقومونَ إِلّا كَما يَقومُ الَّذى يَتَخَبَّطُهُ الشَّيطـٰنُ مِنَ المَسِّ…﴿٢٧٥﴾… سورة البقرة
"جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) اس شخص کی طرح کھڑے ہوں گے جسے شیطان نے چھو کر خبطی(بدحواس) کردیا ہو۔” [البقرۃ 2/275۔]

اسی آیت میں آگے فرمایا: ﴿وَمَن عادَ فَأُولـٰئِكَ أَصحـٰبُ النّارِ هُم فيها خـٰلِدونَ ﴿٢٧٥﴾… سورة البقرة
"اور جس نے پھر بھی(سودی کاروبار) کیا تو وہ جہنمی ہے ،ایسے لوگ ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے۔” [البقرۃ:2/275۔]

اور فرمایا: ﴿يَمحَقُ اللَّهُ الرِّبو‌ٰا۟ …﴿٢٧٦﴾… سورةالبقرة
"اللہ سود کو مٹاتا ہے۔” [البقرۃ:2/276۔]

نیز فرمایا: ﴿يَمحَقُ اللَّهُ الرِّبو‌ٰا۟ وَيُربِى الصَّدَقـٰتِ وَاللَّهُ لا يُحِبُّ كُلَّ كَفّارٍ أَثيمٍ ﴿٢٧٦﴾… سورةالبقرة
"اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقے کو بڑھاتا ہے اور اللہ کسی ناشکرے اورگناہ گار کو دوست نہیں رکھتا۔” [البقرۃ:2/276۔]

اور اعلانِ جنگ فرمایا: ﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَروا ما بَقِىَ مِنَ الرِّبو‌ٰا۟ إِن كُنتُم مُؤمِنينَ ﴿٢٧٨﴾ فَإِن لَم تَفعَلوا فَأذَنوا بِحَربٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسولِهِ وَإِن تُبتُم فَلَكُم رُءوسُ أَمو‌ٰلِكُم لا تَظلِمونَ وَلا تُظلَمونَ ﴿٢٧٩﴾… سورة البقرة
"اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور جو سود باقی رہ گیا ہے وہ چھوڑ دو، اگر تم سچ مچ ایمان والے ہو (278) اور اگر ایسا نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑنے کے لئے تیار ہو جاؤ، ہاں اگر توبہ کرلو تو تمہارا اصل مال تمہارا ہی ہے، نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے گا” [البقرۃ 2/278،279۔]

احادیث میں بھی سود کے بارے میں سخت وعید آئی ہے:
◈ سود کو ہلاک کرنے والے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا۔ [صحیح البخاری الوصایا باب قول اللہ تعالیٰ:(إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى…)(النساء 4/10) حدیث 2766۔]
◈ سود کھانے، کھلانے، لکھنے اور گواہی دینے والوں پر لعنت کی گئی۔ [صحیح مسلم المساقاۃ باب لعن آکل الربا ومؤکلہ حدیث 1598۔]
◈ فرمایا: "سود کا ایک درہم تینتیس یا چھتیس بار زنا سے بھی بدتر ہے۔” [مسند احمد 5/225۔]
◈ فرمایا: "سود کے بہتر درجے ہیں، ان میں سب سے ادنیٰ یہ ہے کہ آدمی اپنی ماں سے نکاح کرے۔” [المعجم الاوسط للطبرانی 8/74 حدیث 7147۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سود کی حرمت جوا سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ سود میں محتاج پر یقینی ظلم ہوتا ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 20/346،347۔]

⑤ سود کی اقسام

عربی میں سود کو "ربا” کہتے ہیں، جس کے لغوی معنی اضافہ ہیں، اور شریعت میں مخصوص اضافے کو ربا کہتے ہیں۔ اس کی دو قسمیں ہیں:

① ادھار کا سود
② اضافے کا سود

① ادھار کا سود

اس کی دو صورتیں ہیں:

◈ جاہلیت کا سود: مدت پوری ہونے پر قرض بڑھا دینا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِن كانَ ذو عُسرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلىٰ مَيسَرَةٍ…﴿٢٨٠﴾… سورة البقرة
"اور اگر کوئی تنگی والاہوتو اسے آسانی تک مہلت دینی چاہیے۔” [البقرۃ:2/280۔]

◈ ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں ادھار کرنا، جیسے سونے کا سونے سے، چاندی کا چاندی سے، گندم کا گندم سے تبادلہ ادھار پر۔

② اضافے کا سود

ہم جنس اشیاء کے تبادلے میں کمی بیشی کرنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلاً بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ "
"سونا ،سونے کے بدلے اور چاندی،چاندی کے بدلے اور گندم ،گندم کے بدلے اور جو ،جو کے بدلے اور کھجور،کھجور کے بدلے اور نمک،نمک کے بدلے برابر اورنقد ونقد بیع ہو۔” [صحیح مسلم المساقاۃ باب الصرف وبیع الذھب بالورق نقداً حدیث 1587 ومسند احمد 3/49،50۔]

اور فرمایا: "فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الأَصْنَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ”
"جب یہ اشیاء مختلف ہوں تو جس طرح چاہو فروخت کرو بشرط یہ کہ دست بدست تبادلہ ہو۔” [صحیح مسلم المساقاۃ باب الصرف وبیع الذھب بالورق نقدا حدیث 1587۔]

اور فرمایا:
"سونے کی سونے کے ساتھ اور چاندی کی چاندی کے ساتھ خریدوفروخت وزن کرکے کی جائے۔ گندم کی گندم کے بدلے اور جو کی جوکے بدلے خریدوفروخت ماپ کے ساتھ کی جائے۔” [السنن الکبری للبیہقی:5/291۔]

نتیجہ یہ ہے کہ:
◈ اگر جنس اور علت دونوں متحد ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں۔
◈ اگر علت متحد ہو مگر جنس مختلف ہو تو ادھار حرام، کمی بیشی جائز ہے بشرطیکہ نقد ہو۔
◈ اگر جنس اور علت دونوں مختلف ہوں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں جائز ہیں۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب