قبر پرستی، مزارات پر بدعات اور غیر شرعی وسیلوں و تبرکات کا منہجِ عمرؓ کی روشنی میں رد

مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اسلام کی بنیاد خالص توحید پر ہے، اور صحابہ کرام بالخصوص حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اپنے عمل سے واضح کر دیا کہ دین میں کسی قبر، درخت، پتھر یا فوت شدہ بزرگ کو غیبی اثر یا ذریعہ سمجھنا نہ صرف باطل ہے بلکہ توحید کے منافی ہے۔ انہوں نے بیعت رضوان والے درخت کو کاٹ ڈالا جب لوگوں نے اس سے تبرک لینا شروع کیا، نبی دانیال علیہ السلام کی لاش کو چھپا دیا تاکہ کوئی اس سے وسیلہ نہ بنائے، نبی کریم ﷺ کی قبر موجود ہونے کے باوجود حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو دعا کے لیے آگے کیا، اور حجر اسود کو چومتے ہوئے اعلان کیا کہ یہ محض ایک پتھر ہے جو نفع و نقصان نہیں دے سکتا۔ ان افعال سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام شرک کے ہر دروازے کو بند رکھنے کے لیے نہایت حساس تھے، اور ان کا منہج ہمیں آج کے دور کے ان تمام شرکیہ نظریات اور افعال کا رد سکھاتا ہے جو قبروں، مزارات، وسیلوں اور مردوں سے وابستہ کیے جا رہے ہیں۔

❌ قبروں سے تبرک لینا – شرعی منہج کے خلاف

عَنْ نَافِعٍ قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ نَاسًا يَأْتُونَ الشَّجَرَةَ الَّتِي بُويِعَ تَحْتَهَا، فَنَهَى النَّاسَ عَنْ إتْيَانِهَا، فَقُطِعَتْ.

 نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خبر پہنچی کہ لوگ اس درخت کے پاس آتے ہیں جس کے نیچے بیعت کی گئی تھی (یعنی بیعت رضوان)، تو انہوں نے لوگوں کو وہاں آنے سے روکا، اور وہ درخت کاٹ دیا گیا۔ 

(مصنف ابن ابی شیبہ، جلد: 7، صفحہ: 176، حدیث نمبر: 33819، سند: صحیح)

📌 خلاصہ نکات:

 ✅ بیعت کا مقام قرآن میں محفوظ تھا، مگر عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی ظاہری نشانی کو بھی باقی نہ رہنے دیا۔

 ✅ صرف اس لیے درخت کاٹ دیا کیونکہ لوگ اس سے برکت لینے لگے تھے۔

✅ تبرک کا دروازہ بند کر دیا گیا تاکہ بعد میں شرک کا ذریعہ نہ بنے۔

 ✅ یہ واقعہ قبروں پر چادریں چڑھانے، عرس و میلاد منانے جیسے بدعات کے لیے بھی واضح رد ہے۔

❌ قبروں کو وسیلہ، مدد یا حاجت روائی کا ذریعہ بنانا – سنتِ عمر رضی اللہ عنہ کے خلاف

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا فَتَسْقِينَا، وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا، فَيُسْقَوْنَ۔

 سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب قحط ہوتا تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ذریعے بارش کی دعا کرتے اور کہتے: اے اللہ! ہم پہلے تیرے نبی ﷺ کو وسیلہ بناتے تھے تو تُو ہمیں سیراب کرتا تھا، اب ہم تیرے نبی کے چچا کو وسیلہ بناتے ہیں، لہٰذا ہمیں بارش عطا فرما، چنانچہ انہیں بارش ملتی۔

 (صحیح البخاری، حدیث: 1010)

📌 خلاصہ نکات:

 ✅ نبی ﷺ کی قبر موجود تھی، پھر بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے زندہ انسان کو وسیلہ بنایا۔ 

✅ نہ انہوں نے نبی ﷺ کی قبر سے مانگا، نہ "یا رسول اللہ” کہا۔ 

✅ اس ایک روایت سے قبروں کو وسیلہ بنانے،فوت شدہ اولیاء و انبیاء سے مدد طلب کرنے اور "مشکل کشا” ماننے جیسے تمام عقائد باطل قرار پاتے ہیں۔

❌ انبیاء و اولیاء کی لاشوں یا قبروں سے غیبی برکات، فیض یا بارش طلب کرنا – دانیال نبیؑ کی لاش کا چھپایا جانا

عَن أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا فَتَحْنَا تُسْتَرَ، وَجَدْنَا رَجُلًا مَيِّتًا فِي تَابُوتٍ… فَكَتَبَ عُمَرُ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَنْبِيَاءِ اللَّهِ… فَادْفِنُوهُ حَيْثُ لَا يَعْلَمُهُ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ۔

 سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے تستر فتح کیا تو ایک نبی (دانیال علیہ السلام) کی لاش ملی، جس سے لوگ برکت اور بارش مانگتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ اللہ کے نبی ہیں، زمین ان کے جسم کو نہیں کھاتی، لہٰذا انہیں ایسی جگہ دفن کرو جہاں کسی کو علم نہ ہو۔ 

(مصنف ابن ابی شیبہ، حدیث: 33819، نیز: دلائل النبوة للبیہقی، ج 1، ص 381)

📌 خلاصہ نکات:

✅ نبی کی لاش بھی شرک و تبرک کا ذریعہ بن سکتی ہے، تو عام اولیاء کی قبریں کہاں جائز ہوں گی؟ 

✅ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انبیاء کی قبر کو بھی چھپوا دیا تاکہ کوئی غلو یا فیض کا عقیدہ نہ بنا لے۔

❌ غیر اللہ سے نفع و ضرر کی امید رکھنا – عمر رضی اللہ عنہ کا اعلان توحید

إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ، وَلَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ۔

 حضرت عمر رضی اللہ عنہ حجر اسود کے پاس آئے، بوسہ دیا اور فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے، نہ نفع دے سکتا ہے نہ نقصان۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا، تو کبھی نہ چومتا۔

 (صحیح البخاری، حدیث: 1597)

📌 خلاصہ نکات:

✅ عمر رضی اللہ عنہ نے صرف سنت کی اتباع میں حجر اسود کو چوما، نہ کہ فیض یا عقیدت کے طور پر۔ 

✅ یہی اصول تمام مقامات، پتھروں، مزارات اور قبروں پر لاگو ہوتا ہے۔ 

✅ کوئی مقام، قبر، یا مزار فیض و حاجت روائی کا ذریعہ نہیں بن سکتا، چاہے وہ حجر اسود جیسا مقام ہی کیوں نہ ہو۔

📌 مضمون کا خلاصہ:

خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عقیدہ توحید کی حفاظت کی اور ہر اس دروازے کو بند کیا جس سے شرک یا غلو پیدا ہو سکتا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے بیعتِ رضوان والے درخت کو کاٹنے کا حکم اس لیے دیا کہ لوگ اس سے تبرک لینے لگے تھے۔ دانیال نبی علیہ السلام کی لاش کو خفیہ دفن کروایا تاکہ لوگ اسے وسیلہ یا فیض کا ذریعہ نہ بنائیں۔ نبی اکرم ﷺ کی قبر موجود ہونے کے باوجود قحط کے موقع پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو وسیلہ بنایا، اور حجر اسود جیسے مقدس مقام کو چومتے ہوئے اعلان فرمایا کہ یہ محض ایک پتھر ہے جو نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا۔ ان تمام افعال سے حضرت عمرؓ نے واضح کر دیا کہ اسلام میں غیر اللہ سے دعا مانگنا، قبروں سے حاجتیں طلب کرنا، اور مزارات سے فیض و تبرک لینا نہ صرف خلافِ سنت ہے بلکہ توحید کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔

اللّٰهُمَّ اجعلنا من أهل التوحيد، ووفّقنا للاقتداء بمنهج صحابة نبيك، وثبّتنا على الحق حتى نلقاك، ونجّنا من الشرك والبدع، يا أرحم الراحمين۔

اے اللہ! ہمیں اہلِ توحید میں شامل فرما، صحابہ کے منہج پر چلنے کی توفیق دے، ہمیں حق پر ثابت قدم رکھ اور شرک و بدعت سے محفوظ فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️