سوال:
قبر مکمل ہونے کے بعد اگر کوئی آئے، تو کیا تین لپیں مٹی ڈال سکتا ہے؟
جواب:
قبر مکمل ہونے کے بعد بھی کوئی شخص تین لپیں مٹی ڈال سکتا ہے، کیونکہ قبر پر تین لپیں مٹی ڈالنا مستحب ہے۔
❀ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
توفي رجل فلم تصب له حسنة الا ثلاث حثيات حثاها في قبر فغفرت له ذنوبه
ایک شخص فوت ہوا، اس کے نامہ اعمال میں صرف یہی خالص نیکی تھی کہ اس نے ایک قبر پر تین لپیں مٹی ڈالی تھی، تو اسے معاف کر دیا گیا۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 6731، وسندہ حسن)
❀ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا موقوف حسن في هذا الباب
اس مسئلے میں یہ موقوف روایت حسن ہے۔
❀ میمون بن مہران رحمہ اللہ کے بارے میں ہے:
انه امر ان يحثى عليه التراب حثيا
آپ نے اپنی قبر پر مٹی کی لپیں ڈالنے کا حکم دیا تھا۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 11720، وسندہ صحيح)
❀ عاصم بن بہدلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
شهدت عمر بن عبد العزيز حين دفن يسن عليه التراب سنا
میں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی تدفین کے وقت موجود تھا، آپ کی قبر پر مٹی کی لپیں ڈالی گئیں۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 11721، وسندہ حسن)
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پڑھا، پھر قبر پر تشریف لائے اور سر کی جانب تین لپیں مٹی ڈالی۔
(سنن ابن ماجه: 1565)
سند ضعیف ہے، کیونکہ یحیی بن ابی کثیر مدلس ہیں اور انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔ سلمہ بن کلثوم راوی صدوق حسن الحدیث ہیں، لیکن امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يھم كثيرا
وہ بہت زیادہ وہم کا شکار ہوتا ہے۔
(العِلل: 8/24)
امام ابو حاتم رحمہ اللہ نے اس روایت کو باطل کہا ہے۔
(العلل لابن أبي حاتم: 483)
لہذا متاخرین اہل علم کا اس روایت کی تصحیح کرنا درست نہیں۔
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جب دفن عثمان بن مظعون رضي الله عنه رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي عليه باربع تكبيرات ويقف عند راس القبر ويحثو ثلاث حثيات
جب سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی تدفین ہوئی، تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے چار تکبیرات کے ساتھ نماز جنازہ پڑھائی اور قبر کے سرہانے کھڑے ہو کر تین لپیں مٹی ڈالیں۔
(سنن الدارقطني: 1836)
سند ضعیف ہے، کیونکہ عاصم بن عبید اللہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ (7630) نے اس حدیث کی سند کو ضعیف کہا ہے۔
اس باب میں دیگر مرفوع روایات بھی ضعیف ہیں۔