سوال:
قبروں پر پھول ڈالنا کیسا ہے؟
جواب:
اولیا اور صالحین کی قبروں پر پھول، چادریں چڑھانا عجمی تہذیب کا شاخسانہ اور قبیح بدعت ہے۔ یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ سلف رحمہم اللہ کی سراسر مخالفت ہے۔ اگر اس عمل میں دینی منفعت و مصلحت ہوتی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضرور اس کی طرف رہنمائی فرماتے اور سلف صالحین رحمہم اللہ ضرور اسے اپناتے۔ شیطان اسے سند جواز فراہم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ شہر خموشاں شرک و بدعت کی آماجگاہ بن جائیں۔ ان کی خاموشی کو راگ رنگ، شور و شر اور فسق و فجور میں بدل دیا جائے۔ لوگ قبروں کے نام کی نذر و نیاز دیں اور ان پر چڑھاوے چڑھائیں، عرس میلے لگائیں، مزامیر اور مشرکانہ اشعار سے محفل سماع سجائیں، تا کہ قبروں پر لوگوں کا آنا جانا لگا رہے۔
بدعت اللہ اور اس کے حبیب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیش قدمی کا نام ہے۔ سلف رحمہم اللہ اس سے متنفر تھے اور اس کی شدید مذمت کرتے تھے۔
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
سلف صالحین رحمہم اللہ اور ائمہ دین رحمہم اللہ بدعت کا سختی سے رد کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے اہل بدعت کو زمین کے کونے کونے سے للکارا اور لوگوں کو ان کے فتنے سے بہت ڈرایا۔ انہوں نے اس کی اتنی مخالفت کی کہ اتنی مخالفت فحاشی اور ظلم و زیادتی جیسے گناہوں کی بھی نہیں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بدعت کی مضرت اور اس سے دین کو نقصان باقی گناہوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔
(مدارج السالكين: 1/372)
شیطان جب دیکھتا ہے کہ لوگوں کو بدعت سے بچنے کی تلقین کی جا رہی ہے، تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہو لیتا ہے جنہیں بدعت سے منع کیا جا رہا ہے، بدعت کے لیے دلائل تراش کر ان کے منہ ڈالتا ہے اور وہ نادان اس بدعت کو دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں، اکثر وہ عمومی دلائل سے استدلال کرتا ہے۔ اس سلسلے میں سمجھ لینا چاہئے کہ ان دلائل سے اگر وہ بدعت ثابت ہو رہی ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ علیہم السلام اور تابعین اس کی وضاحت ضرور کرتے۔
❀ علامہ شاطبی ماللہ (790 ھ) فرماتے ہیں:
جنہوں نے یہ مفہوم سمجھے ہیں اور ان بدعتی مسالک کو اپنایا ہے، دو ہی صورتیں ہیں، یا تو اہل بدعت نے شریعت کا ایسا فہم حاصل کر لیا ہے جو سلف کو حاصل نہیں تھا، یا خود انہیں غلطی لگ گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ دوسری بات ہی درست ہے، کیونکہ سلف صراط مستقیم پر تھے۔ جو دلائل اہل بدعت پیش کرتے ہیں ،سلف نے ان دلائل سے جو سمجھا اس پر عمل پیرار ہے۔ یہ بدعات میں موجود نہ تھیں، نہ انہوں نے ان پر عمل کیا۔ اس سے معلوم ہوا ان نصوص کے یہ معنی (جواہل بدعت نے کیسے ہیں ) کسی صورت درست نہیں ہو سکتے ، بلکہ سلف کا ان کے خلاف عمل اجماعی دلیل ہے کہ اہل بدعت استدلال و عمل میں غلطی پر ہیں اور سنت کی مخالفت کر رہے ہیں، نیز جو لوگ ایسے استدلال کرتے ہیں، ان سے پوچھا جائے کہ جس معنی کا تم نے استنباط کیا ہے، وہ سلف صالحین کے عمل میں ملتا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ کہیں کہ نہیں اور انہیں یہی کہنا پڑے گا ، تو پھر ان سے پوچھا جائے کہ کیا سلف ان معانی سے غافل یا جاہل تھے جن کا آپ علم ہوا ہے؟ وہ کسی صورت بھی ہاں میں جواب نہیں دے سکتے کیونکہ ایسا کہنے سے وہ خود رسوا ہو جائیں گے اور اجماع کے مخالف قرار پائیں گے اور اگر وہ کہیں کہ سلف ان نصوص کے معانی بھی اسی طرح جانتے تھے جس طرح دوسری نصوص کے معانی سے واقف تھے، تو انہیں جواب دیا جائے گا کہ پھر سلف صالحین کو ان معانی کے مطابق عمل کرنے میں کون سی چیز رکاوٹ تھی کہ انہوں نے یہ کام چھوڑ کر اس کے خلاف کیا ؟ جھوٹو! ایک ہی بات ہو سکتی ہے کہ اسلاف غلطی پر جمع ہو گئے تھے، لیکن شرعی و فطری دلائل تمہارے اس گھٹیا خیال کی مخالفت کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ جو کام بھی سلف صالحین کے طریقہ کار کے خلاف ہو، وہ یقینی طور پر گمراہی ہوتا ہے۔
(الموافقات : 73/3)