مضمون کے اہم نکات
قبروں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ(سورۃ الحشر 59:7)
جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے تمہیں روک دے اس سے رک جاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
دوسرے مقام پر فرمایا :
يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَاَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا اعمالكم(سورۃ محمد 47:33)
اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال ضائع نہ کرو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزار بنانے سے منع فرمایا
چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لا يجصص القبر وان يقعد عليه ولا يبنى عليه(مسلم كتاب الجنائز حديث : 970)
قبر کو پختہ بنانے پر اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کیا ہے
ایک حدیث میں ہے :
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان تجصص القبور و أن يكتب عليها(ترمذی، کتاب الجنائز، باب في كراهية تجصيص القبور : 1052)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا اور قبروں پرلکھی ہوئی تختیاں لگانے سے بھی منع فرمایا۔
کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دعویداروں نے یہ کام چھوڑ دیے؟
ایک اور حدیث مبارکہ میں حضرت جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وفات سے پانچ دن پہلے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی طرح مجھے بھی اپنا خلیل بنایا اللہ کے علاوہ تم میں سے میرا کوئی خلیل نہیں اگر میں تم میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔
ان من كان قبلكم ، كانوا يتخذون قبور انبيائهم وصالحيهم مساجد الا فلا تتخذوا القبور مساجد اني انهاكم عن ذلك
(مسلم کتاب المساجد حديث : 532)
تم سے پہلے لوگوں نے اپنے نبیوں اور ولیوں کی قبروں کو مسجد بنایا اس لیے میں تمہیں سختی سے منع کرتا ہوں کہ قبروں پر مسجد نہ بناؤ۔
غور فرمائیں
کیا آج نیک لوگوں کی قبروں پر مساجد ہیں کہ نہیں کیا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کا انکار نہیں کیا ؟
حدیث مبارکہ میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
لعن الله اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيائهم مساجد(صحیح بخاری کتاب الجنائز حديث : 1330)
یہود و نصاری پر اللہ کی لعنت ہو انہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنالیا۔
ایک اور حدیث میں ہے :
نهى رسول الله ان يبنى على القبر ويذا عليه ويجصص عليه (نسائی کتاب الجنائز باب الزيادة على القبر حديث : 2027)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ قبروں پر کوئی تعمیر کی جائے یا اس پر اضافی مٹی ڈال کر اس کو زیادہ کیا جائے۔
ایک اور مقام پر فرمایا :
ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبروں کی زیارت کرنے والی عورتوں پر اور قبر پر مسجد بنانے والوں اور چراغ جلانے والوں پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی۔(ترمذى كتاب الصلوة حديث : 320)
کیا ہمارے ملک میں ان احادیث مبارکہ کی کھلی مخالفت نہیں ہو رہی ہمیں اپنے کاروبار چلاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کیوں نظر نہیں آتی؟
مزاروں پر جو بڑی دھوم دھام سے لوگ ڈھول بجاتے ہیں حالانکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔
ان ربي تبارك وتعالى حرم على الخمر والكوبة والقنين (مسند احمد ج 3 صفحه : 422)
اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب ڈھول اور ساز باجے حرام کر دیے ہیں۔
دوسری حدیث میں ہے :
حرم الخمر والميسر والكوبة (ابوداود کتاب الاشربة حديث : 3696)
شراب جوا اور ڈھول حرام کر دیے گئے ہیں۔
کیا قبروں کے عرس میلوں پر اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے کام کھلے عام نہیں ہو رہے؟
حدیث ہے کہ حضرت ابو الھیاج اسدی بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں تجھے ایسے کام کے لیے مقرر نہ کروں جس کے لیے مجھے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے مقر فرمایا تھا وہ یہ کہ جو بھی تصویر ہو اسے مٹا ڈالو اور جو قبر بھی اونچی ہو اسے زمین کے برابر کر دو۔ (مسلم ج 2 حدیث : 969)
قبرپرستوں کی ایک دلیل
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر قبر پر عمارت بنانا منع ہے تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک پر عمارت اور سبز گنبد کیوں ہے؟
الجواب :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ خصوصیات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر کے پاس دفن کیا جائے کچھ نے کہا بقیع میں دفن کیا جائے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نبی صرف اسی جگہ دفن ہوتا ہے جہاں اس کی وفات ہوتی ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا میں فوت ہوئے اور وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھودی گئی۔(مؤطا امام مالك كتاب الجنائز باب ماجاء في دفن الميت)
حجرہ کی تعمیر کا مقصد قبر نبوی نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل خانہ کی رہائش مقصود تھی پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیسے گراتے۔ قبر نبوی کو حجرہ میں بنانے کی ایک وجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خود بیان فرماتی ہیں کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سجدہ گاہ بن جانے کا ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی جگہ پر ہوتی لیکن میں ڈرتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی سجدہ گاہ نہ بنالی جائے۔ (بخاری کتاب الجنائز حدیث : 1330)
دوسرا جواب :
یہ گنبد نہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا نہ بنانے کا حکم دیا اور نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بنوایا۔
بلکہ مفتی احمد یار خان نعیمی گجراتی کے مطابق 678ھ میں سلطان قلاؤن صالحی نے یہ سبز گنبد بنوایا تھا۔ (جاء الحق ج 2 ص 285)
کسی بادشاہ کا عمل ہمارے لیے دلیل نہیں ہے۔ بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل ہمارے لیے دلیل ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل ہمارے لیے دلیل ہے۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مقابلے میں یعنی مرفوع حدیث کے سامنے قول صحابی بھی ہمارے لیے حجت نہیں ہے۔ مسلمانو! اللہ کے لیے کچھ تو خیال کرو مولویوں کے پیچھے لگنے کی بجائے قرآن وحدیث کا خود مطالعہ کرو جو مسلک و مذہب قرآن وحدیث سے ملے اس کو بغیر کسی تردد کے اپنا لو جو قرآن وحدیث سے نہ ملے اسے چھوڑ دو تعصب کی عینک اتار دو اللہ سے ڈر جاؤ اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ یہی کامیابی ہے۔
مسلمان ہے تو دل میں عظمت قرآن پیدا کر
شراب معرفت پی دیدۂ عرفان پیدا کر