مضمون کے اہم نکات
قبرستان کی زیارت
قبرستان کی زیارت کی اہمیت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
زوروا القبور فإنها تذكركم الآخرة
”قبرستان کی زیارت کرو، یہ تمھیں آخرت کی یاد دلاتی ہے۔“
(سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء في زيارة القبور: 1569 – صحیح)
عورتوں کا قبرستان جانا:
❀ عورتوں کو قبرستان میں جانے کی اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإن جبريل أتاني …. فقال إن ربك يأمرك أن تأتي أهل البقيع فتستغفر لهم
”جبریل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے: بلاشبہ آپ کے رب نے آپ کو حکم دیا ہے کہ آپ بقیع (قبرستان) میں جائیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“
( مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول المقابر …… الخ: 974/103)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”میں نے کہا: میں (قبرستان جاؤں تو) ان کے لیے کیسے دعا کروں؟“ (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں دعا سکھائی)
❀ عبد اللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک دن قبرستان سے آرہی تھیں تو میں نے پوچھا: اے ام المومنین! آپ کہاں سے تشریف لا رہی ہیں؟ فرمانے لگیں: اپنے بھائی عبد الرحمن بن ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قبر سے۔ میں نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا تھا؟ فرمانے لگیں: ہاں منع کیا تھا، پھر اجازت دے دی تھی۔“
(مستدرك حاکم: 376/1، ح: 1392 – صحیح)
❀ لیکن عورتوں کو قبرستان کی زیارت کے لیے کثرت سے نہیں جانا چاہیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبرستان میں کثرت سے جانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔“
(سنن ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء في كراهية زيارة القبور للنساء: 1056 – حسن)
❀محرم (10 محرم) کو جو عورتیں بن سنور کر قبرستان جاتی ہیں، یہ ٹھیک نہیں ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف قبرستان جانے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، بلکہ بے پردگی بھی ہوتی ہے۔
قبرستان میں کرنے کے کام:
❀ قبرستان میں دل کی غفلت دور کرنے، اپنی موت اور آخرت کی یاد کے لیے جانا چاہیے۔
❀قبرستان میں داخل ہوتے ہوئے مندرجہ ذیل دعاؤں میں سے کوئی پڑھ لیں:
السَّلَامُ عَلَىٰ أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلَاحِقُونَ
”ان گھروں میں رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلام ہو، اللہ تعالیٰ ہم میں سے پہلے پہنچنے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحمت فرمائے اور ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول المقابر …… الخ: 974/103)
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَآتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ
”مومن قوم کے گھر والو! تم پر سلام ہو، جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا کہ کل پاؤ گے، وہ تم نے پا لیا، ایک مدت کے بعد اور ہم بھی اگر اللہ نے چاہا تو تم سے ملنے والے ہیں۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول المقابر …… الخ: 974)
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَاحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ
”ان گھر والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلام ہو، ہم بھی ان شاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور تمھارے لیے عافیت کا طلب گار ہوں۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول المقابر ……. الخ: 975)
❀قبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
جاء البقيع فقام فاطال القيام ثم رفع يديه
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں تشریف لائے، دیر تک کھڑے رہے، پھر ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ما يقال عند دخول المقابر ….. الخ: 974/103)
❀ بلند قبر کو زمین سے ایک بالشت کے برابر چھوڑ کر اوپر والی گرا دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا:
أن لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته
”تو جو بھی تصویر دیکھے اسے مٹا دے اور جو بھی اونچی قبر ہو اسے برابر کر دے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الأمر بتسوية القبر: 969)
قبرستان میں ممنوع کام:
❀ فوت شدہ کی خوشنودی کے لیے اس کی قبر کی زیارت کرنا حرام ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة: 1189 – صحیح مسلم: 1397)
❀قبرستان میں جوتے پہن کر چلنا جائز نہیں، ہاں اگر کوئی ضرورت و حاجت ہو تو پھر جائز ہے، جیسا کہ ابو داود کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو منع کیا اور بخاری کی حدیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الميت يسمع خفق النعال: 1338 – سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب المشي في النعل بين القبور: 3230 – حسن)
❀قبر پر بیٹھنا۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النهي عن الجلوس على القبر والصلاة عليه: 972)
❀قبر پر پاؤں رکھنا اور قبرستان میں پیشاب کرنا۔(مصنف ابن أبي شيبة: 219/3، من قول عقبة بن عامر – إسناده صحیح)
❀قبرستان میں مسجد بنانا۔(صحیح بخاری، کتاب المساجد، باب الصلاة في البيعة: 434 – صحیح مسلم: 531)
❀قبرستان میں نماز پڑھنا۔(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النهي عن الجلوس على القبر والصلاة عليه: 972)
❀قبرستان میں قرآن مجید پڑھنا۔(صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة النافلة في بيته…… الخ: 780)
❀قبر کے پاس جانور ذبح کرنا۔(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب كراهية الذبح عند القبر: 3222 – صحیح)
❀بلا عذر باہر سے مٹی لا کر قبر پر ڈالنا اور قبر پر کتبہ لگانا۔(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب في البناء على القبر: 3225، 3226 – صحیح)
❀قبروں کو پختہ بنانا، ان پر عمارات (قبہ، گنبد وغیرہ) بنانا اور قبر پر (مجاور بن کر) بیٹھنا۔(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النهي عن تخصيص القبر ….. الخ: 970)
جنازے کی رسوم و بدعات:
❀قریب الموت شخص کے پاس سورۃ یٰسین کی تلاوت کرنا۔
❀قریب الموت کا بستر قبلہ رخ کرنا۔ یہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں، لہذا یہ بدعت ہے۔(إرواء الغليل: 150/3، ح: 688)
❀کفن کو زمزم سے دھونا۔
❀کفن پر کلمہ، سورتیں، اہل بیت کے نام یا دیگر دعائیں لکھنا۔ یہ شریعت سے ثابت نہیں اور نہ یہ چیزیں کوئی فائدہ دے سکتی ہیں۔ میت کے لیے اس کے نیک اعمال مفید ہوتے ہیں، پھر اس طریقے سے ان چیزوں کی توہین بھی ہوتی ہے، کیونکہ کچھ وقت کے بعد بعض متیں پھٹ جاتی ہیں اور انھیں آلودہ کر دیتی ہیں۔
❀اپنی زندگی میں قبر تیار کرنا۔
❀اظہار افسوس کے لیے سیاہ لباس پہننا۔
❀قبر رات کو تیار ہو جائے اور تدفین اگلے دن تک مؤخر ہو تو رات کو ایک آدمی قبر میں سوتا ہے، کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ قبر کو رات بھر خالی رکھنا مناسب نہیں۔ یہ جہالت اور توہم پرستی ہے۔
❀جنازے کے ساتھ کلم بر شہادت وغیرہ کا ورد کرنا۔ حدیث میں ہے کہ جنازے کے ساتھ خاموشی سے جانا چاہیے۔
❀جنازے کے ساتھ آگ لے کر جانا ممنوع ہے، لہذا قبر پر اگر بتیاں، موم بتیاں اور چراغ وغیرہ کا اہتمام کرنا ممنوع، حدیث کی مخالفت اور بدعت ہے۔
❀قبر پر اذان کہنا۔
❀دفن کرنے کے بعد ستر قدم پیچھے ہٹ کر دعا کرنا۔
❀کسی مخصوص جگہ (پھوڑی پر) بیٹھنا کہ لوگ تعزیت کے لیے وہاں آئیں۔
❀کسی قبر پر عرس وغیرہ لگانا شرک ہے۔ اگر یہ جائز ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر میلہ لگاتے، کیونکہ ان سے بڑھ کر کون زیادہ مرتبے والا ہے۔