قاضی کے فیصلے کا شرعی ضابطہ: اقرار اور گواہی کی بنیاد

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

قاضی مدعی علیہ کے اقرار یا دو مردوں کی شہادت یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت کے ساتھ فیصلہ کرے گا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وافد يا أنيس إلى امرأة هذا فإن اعترفت فارجمها
”اے انیسں! صبح اس کی بیوی کے پاس جاؤ اور اگر وہ (زنا کا ) اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دینا ۔“
[بخاری: 2696 ، 2695 ، ابو داود: 4445 ، ترمذي: 1433 ، نسائي: 240/8 ، ابن ماجة: 2549 ، احمد: 115/4 ، حميدي: 811]
جب اقرار کے ذریعے رجم کیا جا سکتا ہے تو رجم سے ہلکا فیصلہ بالا ولٰی درست ہے ۔
ارشاد باری تعالی ہے کہ :
وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِن رِّجَالِكُمْ ۖ فَإِن لَّمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ [البقرة: 282]
”اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو ، پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کرو ۔“