قاضی کے خط، شہادت، قسم اور اقرار کے فقہی احکام قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، قضا کے مسائل:جلد 02: صفحہ 521
مضمون کے اہم نکات

قاضی کا دوسرے قاضی کی طرف خط

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عام طور پر ایک قاضی کو دوسرے قاضی کے نام خط لکھنے کی ضرورت پیش آتی ہے، کیونکہ بعض اوقات کسی شخص کا حق دوسرے شہر میں ہوتا ہے، اور اس حق کو ثابت کرنے اور اس کا مطالبہ کرنے کے لیے یہی صورت رہ جاتی ہے کہ وہ اپنے شہر کے قاضی کے سامنے اپنا حق ثابت کرے، پھر اس مقصد کے لیے دوسرے شہر کے قاضی کی طرف تحریری مراسلہ بھیجا جائے تاکہ عدالتی کارروائی مکمل ہوسکے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ گواہوں کو سفر کروا کر عدالت میں حاضر کرنا دشوار ہوتا ہے۔ مزید یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی گواہ ایک شہر میں معروف ہو لیکن دوسرے شہر میں اسے کوئی نہ جانتا ہو۔ ایسی صورت میں ایک قاضی کا دوسرے قاضی سے خط و کتابت کرنا ہی حق کے اثبات کا ذریعہ بنتا ہے۔

اگر ایک قاضی دوسرے قاضی کو خط لکھے تو اس کے قبول کیے جانے پر امتِ مسلمہ کا اجماع ہے، تاکہ حقوق ثابت ہوسکیں اور ان کا نفاذ بھی ممکن ہو۔ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے ملکہ بلقیس کی طرف خط بھیجا تھا۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی، قیصر اور کسریٰ کے نام خطوط روانہ فرمائے تھے، جن میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ مزید برآں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمال اور اہل کاروں کو بھی خطوط بھیجا کرتے تھے، جن میں حالات کے مطابق ضروری ہدایات درج ہوتی تھیں۔ ان تمام دلائل سے معلوم ہوا کہ تحریری طور پر بھیجی گئی ہدایات اور معلومات پر عمل کرنا، اور فیصلوں میں انہیں معتبر سمجھنا شرعاً درست ہے۔

وہ خط قابل قبول ہوگا جو کسی انسان کے حق سے متعلق ہو، البتہ حدود اللہ سے متعلق کوئی خط قبول نہیں کیا جائے گا، جیسے زنا کی حد یا شراب کی حد وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حقوق اللہ میں جہاں تک ممکن ہو پردہ پوشی مطلوب ہے، اور محض شک و شبہ کی بنیاد پر حدود نافذ نہیں کی جاتیں۔

① قاضی کا قاضی کی طرف خط: اس کی دو قسمیں

پہلی قسم:
قاضی اپنا فیصلہ لکھ کر دوسرے قاضی کی طرف بھیجے تاکہ وہ اسے نافذ کرے۔ ایسا خط قابل قبول ہوگا، اگرچہ خط لکھنے والا اور جس کے نام خط لکھا گیا ہو، دونوں ایک ہی شہر میں رہتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حاکم کا فیصلہ ہر حال میں نافذ کرنا ضروری ہے، ورنہ احکام معطل ہوجائیں گے اور نزاعات میں اضافہ ہوگا۔

دوسری قسم:
قاضی دوسرے قاضی کو ایسی بات تحریر کرے جو اس کے نزدیک متحقق اور ثابت شدہ ہو، تاکہ دوسرا قاضی اس کی روشنی میں فیصلہ کرے۔ اس نوعیت کی تحریر اسی وقت قبول ہوگی جب دونوں قاضیوں کے درمیان کم از کم اتنی مسافت ہو جتنی نمازِ قصر کے لیے مقرر ہے، کیونکہ قربِ مسافت کی صورت میں ایک جگہ کی گواہی دوسری جگہ منتقل کرنا جائز نہیں۔

ثابت شدہ معاملے کی اطلاع دوسرے قاضی کو اس طرح دی جائے گی کہ وہ لکھے:

” میرے نزدیک یہ بات متحقق اور ثابت ہے کہ فلاں شخص کافلاں پر یہ یہ حق ہے۔”

یاد رہے کہ اس قسم کی تحریر کو بذاتِ خود فیصلہ قرار نہیں دیا جائے گا، بلکہ یہ صرف ایک ثابت شدہ امر کی خبر ہوگی، جس کی روشنی میں دوسرا قاضی اپنا فیصلہ صادر کرے گا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” مکتوب الیہ(قاضی) غیر معین بھی ہوسکتا ہے،مثلاً:قاضی کہے:میری یہ تحریر بلاتعین مسلمانوں کے ان تمام قاضیوں کی طرف ہے جن کو یہ خط پہنچے ،لہذا یہ تحریر جس قاضی تک پہنچ جائے اسے قبول کرنا ایسے ہی ضروری ہے جیسے کسی معین قاضی کی طرف لکھی گئی تحریر۔”

② قاضی کا خط دوسرے قاضی کے لیے کب قابل قبول ہوگا؟

قاضی کا خط دوسرے قاضی کے لیے اسی وقت معتبر ہوگا جب لکھنے والا اپنی تحریر پر دو عادل گواہوں کی شہادت بھی ثبت کرے۔ اس مسئلے میں اہلِ علم کی ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ اگر دوسرا قاضی لکھنے والے قاضی کے طرزِ تحریر کو پہچانتا ہو تو اس کے لیے اس تحریر پر عمل کرنا جائز ہے، اور ایسی صورت میں گواہوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے یہی قول منقول ہے۔ موجودہ دور میں گواہوں کے بجائے اگر قاضی اپنی تحریر کے نیچے اپنے دستخط کردے اور عدالت کی مہر بھی ثبت ہوجائے تو یہی کافی ہے۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ تحریر پر اعتماد کرکے کاروائی کرنا درست ہے۔خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی اس پر عمل کرتے رہے۔علم کے میدان میں تحریرکا ذریعہ ہمیشہ سے قابل اعتماد رہاہے۔اس پر عمل چھوڑدیا جائے تو شریعت کے بہت سے احکام معطل ہوکررہ جائیں۔” [اعلام الموقعین 2/127]

شہادت پر شہادت

شہادت پر شہادت سے مراد یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے: "میری فلاں گواہی پر گواہ رہو” یا یہ کہے: "گواہ رہو کہ میں فلاں فلاں بات کی گواہی دیتا ہوں” وغیرہ۔ اس میں نیابت کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ فقہ کی اصطلاح میں اصل گواہ کو شاہد الاصل اور اس کے نائب کو شاہد الفرع کہا جاتا ہے۔

علامہ ابوعبید رحمۃ اللہ علیہ نے مالی معاملات میں گواہی پر گواہی کے جواز پر حجاز اور عراق کے علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگوں کی ضرورت ہے۔ اگر اسے قبول نہ کیا جائے تو وہ گواہیاں ضائع ہوجائیں گی جو وقف وغیرہ جیسے امور سے متعلق ہوں، اور ان کو حاکم کے سامنے ثابت کرنے میں تاخیر ہوجائے یا اصل گواہ وفات پا جائیں۔ اس صورت میں لوگوں کو نقصان پہنچے گا اور شدید مشقت پیش آئے گی۔ لہٰذا جیسے اصل گواہ کی گواہی قبول کی جاتی ہے، اسی طرح گواہی پر گواہی کو بھی قبول کرنا ضروری ہے۔

③ گواہی پر گواہی کے قبول ہونے کی شرائط

شاہد الاصل اپنے شاہد الفرع کو اجازت دے، کیونکہ شاہد الفرع کا کام نیابت کے حکم میں ہے، اور نیابت اصل کی اجازت کے بغیر درست نہیں ہوتی۔

یہ شہادت ایسے معاملے میں ہو جس میں قاضی کی تحریر دوسرے قاضی کے لیے قابل قبول ہوتی ہے، یعنی یہ حقوق العباد سے متعلق ہو، حقوق اللہ سے متعلق نہ ہو۔

شہادۃ الفرع اسی جگہ قبول ہوگی جہاں شہادۃ الاصل پیش کرنا دشوار ہو، اور یہ دشواری موت، مرض، طویل سفر، ایسی مسافت جس میں نماز قصر ہوسکے، یا بادشاہ کے خوف وغیرہ کی صورت میں ہوسکتی ہے۔

شاہد الاصل کا عذر مقدمے کے فیصلے تک باقی رہے۔

شاہد الاصل اور شاہد الفرع دونوں فیصلہ ہونے تک عدالت، یعنی تقویٰ اور نیکی، پر قائم رہیں۔

شاہد الفرع کو شاہد الاصل نے متعین کیا ہو، تاکہ معلوم ہو کہ وہ کس کی طرف سے گواہی دے رہا ہے۔

گواہوں کا رجوع

اگر گواہ اپنی گواہی سے رجوع کرلیں تو اس مسئلے میں درج ذیل تین صورتیں قابلِ توجہ ہیں:

اگر مالی معاملات میں فیصلہ ہوچکنے کے بعد گواہ رجوع کریں تو فیصلہ متاثر نہیں ہوگا، کیونکہ اس کے تقاضے مکمل ہوچکے ہیں، اس لیے فیصلہ نافذ رہے گا۔ البتہ گواہوں پر تاوان لازم ہوگا، کیونکہ وہ قصوروار قرار پائیں گے کہ انہوں نے حق دار کے بجائے دوسرے شخص کو مال کا مالک بنانے کی کوشش کی۔

اگر قاضی ایک گواہ اور مدعی کی قسم کی بنیاد پر فیصلہ دے، پھر گواہ رجوع کرلے، تو سارے مال کا تاوان صرف اسی گواہ پر ہوگا، کیونکہ دعویٰ میں اصل حجت وہی تھا۔ رہی مدعی کی قسم، تو وہ ایک فریق کے قول کے درجے میں تھی، اور فریق کا قول محض اپنے طور پر فیصلہ کے لیے کافی نہیں ہوتا، بلکہ وہ صرف فیصلہ کے لیے ایک شرط ہوتا ہے۔

اگر قاضی کے فیصلہ دینے سے پہلے ہی گواہ اپنی گواہی سے رجوع کرلیں تو ساری کارروائی کالعدم ہوجائے گی۔ اب نہ اس گواہی کے مطابق فیصلہ ہوگا اور نہ کسی پر تاوان لازم آئے گا۔ والله اعلم۔

دعوے میں قسم اٹھانے کا بیان

قسم بھی فیصلہ کرنے کے طریقوں میں شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"واليمين على من أنكر”
"۔۔۔اور قسم اس پر ہے جو(دعوے) انکار کرے۔” [سنن الدارقطنی 3/111و 4/217 حدیث 3165و4462]

قسم منکرِ دعویٰ، یعنی مدعا علیہ، کی طرف سے ہوگی، بشرطیکہ مدعی کے پاس دلیل موجود نہ ہو۔ قسم جھگڑے کو ختم کردیتی ہے، یعنی مدعا علیہ قسم اٹھالے تو فیصلہ اس کے حق میں ہوجائے گا، لیکن اگر وہ قسم کھا کر کسی چیز پر ناحق قبضہ کرے تو وہ چیز اس کے لیے حلال نہیں ہوگی۔ اگر مدعی، مدعا علیہ کی قسم کے بعد گواہ پیش کردے تو ان گواہوں کی شہادت سنی جائے گی، اور ان کی بنیاد پر مدعی کے حق میں فیصلہ بھی کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر مدعا علیہ قسم کھالینے کے بعد رجوع کرلے اور لیا ہوا مال واپس کردے تو اس کا یہ عمل قبول ہوگا، اور مدعی کے لیے وہ مال وصول کرنا جائز ہوگا۔

④ قسم کے متعلق اہم احکام

قسم صرف حقوق العباد کے دعوؤں کے ساتھ خاص ہے۔ حقوق اللہ میں قسم نہیں لی جائے گی، جیسے عبادات اور حدود وغیرہ۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کہے: "میں نے زکاۃ ادا کردی ہے” یا "میرے ذمے کفارہ یا نذر نہیں ہے” تو اس سے قسم نہیں لی جائے گی۔ اسی طرح اگر کسی پر ایسی جنایت کا الزام ہو جس کی وجہ سے حد قائم ہوسکتی ہو، مگر وہ انکار کررہا ہو، تو اس سے بھی قسم کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ایسے معاملے کو چھپانا مستحب ہے۔ نیز اگر کسی نے حد کا اقرار کیا، پھر اپنے اقرار سے رجوع کرلیا، تو اس کا رجوع قبول ہوگا اور اسے چھوڑ دیا جائے گا۔ اس بنا پر جب اقرار کے بعد رجوع معتبر ہے تو اقرار نہ ہونے کی صورت میں قسم کا مطالبہ بدرجۂ اولیٰ نہیں کیا جائے گا۔

حقوق العباد کے دعوے میں قسم کی اہمیت اور اعتبار اسی وقت ہوگا جب مدعی گواہ پیش نہ کرسکے، پھر قاضی مدعا علیہ کو قسم اٹھانے کا حکم دے۔ اس طرح مدعا علیہ کی قسم مدعی کے دعوے کے جواب میں ہوگی۔

قسم کا ادا ہونا قاضی کی مجلس میں ضروری ہے۔

قسم صرف اللہ تعالیٰ کے نام کی ہوسکتی ہے، غیر اللہ کی قسم شرک ہے۔

قسم میں اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کافی ہے۔ اگر کوئی شخص کہے: "اللہ کی قسم” تو یہی کافی ہے، کیونکہ یہ قسم کتاب اللہ میں وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

"وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ”
"ان لوگوں نے اللہ کے نام کی پختہ قسمیں کھائیں۔” [الانعام 6/109]

اسی طرح فرمایا:

"فَيُقْسِمٰنِ بِاللّٰهِ”
"پھر وہ دونوں اللہ کی قسم کھائیں۔” [المائدۃ:5/107]

اور ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا:

"أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ ۙ "
"چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کرکہے۔” [النور 6/24]

اس کی علت یہ ہے کہ لفظ "اللہ” اللہ تعالیٰ کا ذاتی نام ہے، اور یہ اس کے سوا کسی اور پر بولا نہیں جاتا۔

قسم میں تاکید کے الفاظ صرف ان معاملات میں استعمال ہوں گے جو غیر معمولی اہمیت کے حامل ہوں، مثلاً ایسا جرم جس سے قصاص، دیت یا کفارے کے طور پر غلام آزاد کرنا واجب نہ ہوتا ہو۔ ایسی صورت میں قاضی تاکیدی الفاظ کے ساتھ قسم دلوا سکتا ہے، مثلاً یوں کہے: ” اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو پوشیدہ اور ظاہر معاملات سے باخبر ہے جو مواخذہ کرسکتا ہے،غالب ہے،جو نفع نقصان کا مالک ہے ،جو آنکھوں کی خیانت اور دلوں کی پوشیدہ باتوں سے باخبر ہے۔”

اگر مدعی ایک سے زیادہ افراد ہوں اور مدعا علیہ صرف ایک شخص ہو، تو مدعا علیہ ہر مدعی کے لیے الگ الگ قسم اٹھائے گا، کیونکہ ہر ایک کا حق الگ ہے۔ البتہ اگر سب مدعی ایک ہی قسم پر راضی ہوجائیں تو ایک قسم کافی ہوگی، کیونکہ اس صورت میں سب نے اپنے حقِ مطالبۂ قسم سے خود دستبرداری اختیار کرلی۔

اقرار کے احکام

اقرار سے مراد کسی دوسرے کے حق کو تسلیم کرنا ہے۔ یہ لفظ "مقر” سے بنا ہے، جس کے معنی "مکان” کے ہیں، گویا اقرار کرنے والا حق کو اس کے اصل مقام پر رکھ دیتا ہے۔

اقرار کی حقیقت یہ ہے کہ کوئی شخص دوسرے کے حق کے بارے میں سچی خبر دے۔ اس کے برعکس کسی نئے حق کو پیدا کرنا یا ثابت کرنا اقرار نہیں کہلاتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” تحقیقی بات یہ ہے کہ اگرمخبر ایسے حق کی خبر دے جسے اس نے ادا کرنا ہے تو یہ اقرارہے اور اگر ایسے حق کی خبر دے جو اس نے دوسرے سے لینا ہے تو وہ مدعی ہے اور اگر ایسے حق کے بارے میں خبر دے جوکسی نے کسی اورشخص سے لینا ہے(اگر اس کے پاس وہ حق بطور امانت تھا) تو اسے مخبر کہیں گے ورنہ وہ گواہ کہلائےگا،لہذا قاضی ،وکیل،کاتب،یعنی منشی اور وصی(وصیت کرنے والا) یہ تمام حضرات اپنی اپنی ذمے داری کو ادا کرنے کی وجہ سے امانت دار ہیں،لہذا وکیل وغیرہ اپنے منصب سے معزول ہونے کے بعد جو خبر دیں وہ اقرار نہیں،عام خبر ہے۔اقرار کسی نئی ذمے داری کانام نہیں بلکہ جو چیز یاصورت حال پہلے سے موجود ہے اسی کا اظہار اوراطلاع ہے۔” [الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ الاقرار 5/581]

⑤ اقرار کے متعلق تفصیلی احکام

اقرار کے صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اقرار کرنے والا عاقل اور بالغ ہو۔ اس لیے بچے، مجنون اور سوئے ہوئے شخص کا اقرار معتبر نہیں ہوگا۔ البتہ اگر بچے کو تجارت میں محدود لین دین کی اجازت ہو تو اسی محدود دائرے میں اس کا اقرار معتبر سمجھا جائے گا۔

اقرار کرنے والے کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ اپنی مرضی اور اختیار کی حالت میں اقرار کرے، لہٰذا مجبور کیا گیا اقرار قابل اعتبار نہ ہوگا۔

اقرار کی صحت کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ اقرار کرنے والا ایسا شخص نہ ہو جسے مالی تصرف سے روک دیا گیا ہو۔ اس بنا پر اگر نادان یا بے وقوف شخص کسی مال کا اقرار کرے تو وہ معتبر نہ ہوگا۔

یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسی چیز کا اقرار نہ کرے جو کسی دوسرے کے قبضے یا سرپرستی میں ہو۔ مثلاً کوئی اجنبی شخص کسی بچے کے ذمے کسی چیز کا اقرار کرے، یا کوئی شخص کسی دوسرے کے زیر انتظام وقف کے متعلق یہ اقرار کرے کہ اس وقف کی چیز کے ذمے فلاں فلاں ادائیگی ہے، تو ایسا اقرار معتبر نہ ہوگا۔

اگر اقرار کرنے والا یہ دعویٰ کرے کہ اسے اقرار پر مجبور کیا گیا تھا اور اس نے اپنی رضا سے اقرار نہیں کیا، تو اس کی بات اس شرط کے ساتھ قبول کی جائے گی کہ اس کے دعوے کی سچائی پر کوئی قرینہ یا گواہ موجود ہو۔

اگر کوئی مریض اپنے مال کے بارے میں کسی ایسے شخص کے حق میں اقرار کرے جو شرعاً اس کا وارث نہیں ہے، تو اس کا اقرار صحیح مانا جائے گا، کیونکہ ایسی صورت میں تہمت کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ نیز مرض کی حالت میں انسان عموماً اپنے معاملے میں زیادہ محتاط ہوتا ہے، اس لیے اس سے خلافِ واقعہ بات کی توقع کم ہوتی ہے۔

اگر ایک شخص کسی چیز کا دعویٰ کرے اور دوسرا فریق، یعنی مدعا علیہ، اس کی تصدیق کردے، تو یہ تصدیق درست مانی جائے گی اور اسے اقرار شمار کیا جائے گا۔ کشف الخفاء میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے:

"لاعذر لمن أقر”
"جس نے اقرارکرلیا اس کا کوئی عذر باقی نہ رہا۔” [کشف الخفاء للعجلونی 2/493]

جس لفظ سے بھی اقرار کا مفہوم ادا ہوجائے، وہی صحیح ہوگا۔ مثلاً مدعا علیہ کہے: "تم نے سچ کہا” یا صرف "ہاں” کہہ دے، یا یہ کہے: "میں اس کا اقرار کرتا ہوں”۔

اقرار میں نصف یا نصف سے کم مقدار کا استثناء درست ہے۔ مثلاً اگر کسی نے کہا: "میرے ذمے فلاں کے دس روپے ہیں مگر پانچ” تو اس پر پانچ روپے لازم ہوں گے۔ استثناء اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بھی وارد ہوا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

"فَلَبِثَ فِيهِمْ أَلْفَ سَنَةٍ إِلَّا خَمْسِينَ عَامًا "
"(اور بلاشبہ ہم نے نوح علیہ السلام کو اس کی قوم کی طرف بھیجا)،چنانچہ وہ پچاس کم ایک ہزار برس ان کےدرمیان رہا۔” [العنکبوت 29/14]

نصف سے زیادہ مقدار کے استثناء کو بھی علماء کی بڑی تعداد نے جائز قرار دیا ہے۔

10۔ اقرار میں استثناء کے صحیح ہونے کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ الفاظ کے ساتھ متصل ہو۔ اگر کسی نے کہا: "میں نے اس کے سو روپے دینے ہیں” پھر اتنی دیر خاموش رہا کہ اس وقفے میں بات کرنا ممکن تھا، اور اس کے بعد کہا: "کھوٹے” یا "ادھار” تو اس کے ذمے سو روپے کھرے اور نقد لازم ہوں گے۔ خاموشی کے بعد اس کی بات معتبر نہ ہوگی، کیونکہ یہ ایسا حیلہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ذمہ لازم حق کو ختم کرنا چاہتا ہے۔

11۔ اگر کسی نے کوئی چیز بیچ دی، یا ہبہ کردی، یا غلام یا لونڈی کو آزاد کردیا، پھر بعد میں اقرار کرتے ہوئے کہا کہ یہ چیز دراصل کسی دوسرے شخص کی تھی، تو اس کی یہ بات قبول نہ ہوگی۔ اگر معاملہ بیع کا ہے تو بیع بھی فسخ نہ ہوگی، کیونکہ یہ اقرار کسی دوسرے کے حق میں ہے۔ البتہ اس پر لازم ہوگا کہ جس کے حق کا اس نے اقرار کیا ہے، اس کا نقصان پورا کرے، کیونکہ اس کے تصرف کی وجہ سے وہ مال اصل مالک کے ہاتھ سے نکل چکا ہے۔

12۔ مجمل چیز کا اقرار کرنا درست ہے، یعنی ایسی چیز کا اقرار جس میں اقرار کرنے والے کی مراد دو یا دو سے زیادہ چیزوں میں سے کوئی بھی ہوسکتی ہو۔ مثلاً کوئی شخص کہے: "میں نے فلاں شخص کو کوئی شے ادا کرنی ہے” تو یہ اقرار درست ہوگا، لیکن پھر اقرار کرنے والے سے اس اقرار کی وضاحت طلب کی جائے گی تاکہ اس کی ادائیگی کو اس کے ذمہ لازم کیا جاسکے۔ اگر وہ وضاحت سے انکار کرے تو اسے اس وقت تک قید میں رکھا جائے گا جب تک وہ وضاحت نہ کردے، کیونکہ یہ اس کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ کہے: "مجھے معلوم نہیں کہ میں نے کس چیز کا اقرار کیا ہے” تو اسے قسم اٹھانے کو کہا جائے گا اور اس پر کم از کم جرمانہ عائد ہوگا۔ اگر وضاحت سے پہلے وہ فوت ہوجائے تو اس کے وارثوں سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا، اگرچہ وہ مال چھوڑ کر مرا ہو، کیونکہ یہ احتمال موجود ہے کہ اس نے جس چیز کا اقرار کیا تھا وہ مال نہ ہو۔

13۔ اگر کسی نے کہا: "میں نے فلاں شخص کے ایک ہزار روپے سے کم دینے ہیں” تو استثناء کی مقدار نصف سے کم سمجھی جائے گی۔

14۔ اگر کسی نے کہا: "اس دیوار سے لے کر اس دیوار تک فلاں کی زمین ہے” تو اس اقرار میں دیواریں شامل نہ ہوں گی، کیونکہ اس نے درمیانی جگہ کا اقرار کیا ہے۔

15۔ اگر کسی نے اقرار کیا کہ "یہ درخت فلاں کے ہیں” تو اس اقرار کا اطلاق اس زمین پر نہیں ہوگا جہاں یہ درخت موجود ہیں۔ لہٰذا اگر یہ درخت ختم ہوجائیں تو وہ شخص وہاں نئے درخت لگانے کا حق دار نہ ہوگا۔ اور زمین کا مالک بھی ان درختوں کو اکھاڑ نہیں سکتا، کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ درخت قانونی طریقے سے، مثلاً زمین کے مالک کی اجازت سے، لگائے گئے ہوں گے۔ البتہ اگر اقرار میں باغ کا لفظ استعمال کیا گیا ہو تو اس میں درخت، عمارت اور زمین سب شامل ہوں گے، کیونکہ باغ کا اطلاق ان تمام چیزوں پر ہوتا ہے۔

16۔ اگر کسی نے کہا: "میرے ذمے فلاں شخص کی کھجوریں ہیں جو تھیلی میں ہیں” یا "چھری ہے جو کور میں ہے” یا "کپڑا ہے جو رومال میں بندھا ہوا ہے” تو یہ صرف کھجوروں، چھری اور کپڑے کا اقرار ہوگا، تھیلی، کور اور رومال کا نہیں۔ اسی طرح جب بھی کسی چیز کا اقرار کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ وہ دوسری چیز کے اندر ہے، تو اقرار صرف پہلی چیز کا ہوگا، کیونکہ ظرف اور مظروف کا ایک ہی شخص کی ملکیت ہونا ضروری نہیں، اور احتمال کے ساتھ اقرار لازم نہیں ہوتا۔

17۔ اگر کسی نے کہا: "یہ شے میرے اور فلاں شخص کے درمیان مشترک ہے” تو شریک کے حصے کی تعیین کے لیے اقرار کرنے والے کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ چیز دونوں میں آدھی آدھی ہے، کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ مطلق شراکت کا اقرار برابر کے حصے کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کی تائید اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے ہوتی ہے:

"فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ "
"یہ سب ایک تہائی حصے میں شریک ہوں گے۔” [النساء 4/12]

18۔ جس شخص کے ذمہ کسی کا حق ہو، اس پر اس حق کا اقرار کرنا اور اس کی ادائیگی کا انتظام کرنا اسی وقت واجب ہوجاتا ہے جب اس کی ضرورت پیش آئے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ "
"(اے ایمان والو!) عدل وانصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لیے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ،گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو۔” [النساء 4/135]

نیز اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"وَلْيُمْلِلِ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللَّـهَ رَبَّهُ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَإِن كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيهًا أَوْ ضَعِيفًا أَوْ لَا يَسْتَطِيعُ أَن يُمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهُ بِالْعَدْلِ ۚ "
"اور جس کے ذمہ حق ہو وہ لکھوائے اور اپنے اللہ تعالیٰ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور حق میں سے کچھ گھٹائے نہیں، ہاں جس شخص کے ذمہ حق ہے وہ اگر نادان ہو یا کمزور ہو یا لکھوانے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اس کا ولی عدل کے ساتھ لکھوا دے” [البقرۃ 2/282]

شیخ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب الکافی میں لکھتے ہیں:

"آیت میں وارد کلمہ”املال” اقرار کے معنی میں ہے اور اقرار کے سبب فیصلہ دینا واجب ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا”
"اے انیس!علی الصبح اس شخص کی بیوی کے پاس جاؤ اگر وہ زنا کا اعتراف کرے تو اسے رجم کردینا۔” [صحیح البخاری الوکالۃ باب الوکالۃفی الحدود حدیث 2314۔2315]

حدیث میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور بنو غامد قبیلے کی عورت کو ان کے اقرار کی وجہ سے رجم کروایا تھا۔

خلاصہ یہ ہے کہ اقرار کی بنیاد پر حکم اور فیصلہ صادر کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ جب گواہی کی بنیاد پر فیصلہ دینا واجب ہے تو اقرار کی بنیاد پر فیصلہ دینا بدرجۂ اولیٰ واجب ہوگا، کیونکہ گواہی کے مقابلے میں اقرار میں جھوٹ کا احتمال کم ہوتا ہے۔

اللہ رب العالمین کا بے حد شکر ہے کہ یہ مختصر کتاب مکمل ہوئی۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اگر اس کتاب میں کوئی نقص یا خطا واقع ہوئی ہو تو وہ معاف فرمادے، اور اسے ہمارے لیے اور قارئین کرام کے لیے نفع بخش بنائے، اور ہم سب کو علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب