مضمون کے اہم نکات
قادیانی نابالغ کے جنازے میں شرکت کا شرعی حکم
سوال:
علماء کرام سے استفسار ہے کہ ایک قادیانی شخص کا دس دن کا بچہ حال ہی میں فوت ہوا۔ اس بچے کی نماز جنازہ ایک مسلمان شخص نے پڑھائی اور دیگر مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔ امام اور مقتدی دونوں اس بات سے واقف تھے کہ یہ قادیانی بچے کا جنازہ ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے شریعت کا کیا حکم ہے؟
(المستفتی: سرور شعیب)
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
قادیانی، لاہوری، ربوی مرزائی: سب اسلام سے خارج
✿ سوال میں بیان کردہ صورت میں یہ بات واضح ہو کہ قادیانی، لاہوری اور ربوی مرزائی تینوں فرقے کافر اور دینِ اسلام سے خارج ہیں۔
✿ اس عقیدے پر اجماعِ امت ہے۔
✿ یہی حکم ان کی اولاد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
نابالغ قادیانی بچے کا جنازہ پڑھنا:
✿ جس طرح بالغ قادیانی مرد کا جنازہ پڑھنا کفر ہے، اسی طرح نابالغ قادیانی کا جنازہ پڑھنا بھی کفر ہے۔
✿ شریعت میں اصول ہے کہ اولاد کا حکم والدین کے تابع ہوتا ہے۔
✿ لہٰذا اگر والدین کافر ہیں تو ان کی نابالغ اولاد کو بھی اسلامی احکام میں مسلمان تصور نہیں کیا جاتا۔
قرآن مجید سے واضح دلائل:
﴿ما كانَ مُحَمَّدٌ أَبا أَحَدٍ مِن رِجالِكُم وَلـكِن رَسولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَىءٍ عَليمًا﴾
… سورةالأحزاب: 40
’’محمد ﷺ تم میں کسی مرد کا باپ نہیں ہے، بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور پیغمبروں کا خاتمہ کرنے والا ہے۔‘‘
✿ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔
احادیث مبارکہ سے دلائل:
(1) حدیث طُفیل بن ابی بن کعب:
«عن الطفيل بن ابى بن كعب عن ابيه عن النبى ﷺ… فأنا في النبيين موضع تلك اللبنة»
(أحمد بن حنبل، ترمذی، تفسیر ابن کثیر ج3، ص509)
✿ نبی ﷺ نے فرمایا:
"میں انبیاء میں اس آخری اینٹ کی مانند ہوں جس سے مکان نبوت مکمل ہو گیا۔”
(2) حدیث انس بن مالک:
«قال رسول الله ﷺ إن الرسالة والنبوة قد انقطعت…»
(مسند احمد، ترمذی، تفسیر ابن کثیر ج3، ص509)
✿ نبی ﷺ نے فرمایا:
"نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم ہو چکا، اب میرے بعد نہ کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی رسول۔”
(3) حدیث ابوہریرہ:
«قال رسول الله ﷺ… وختم بي النبيون»
(صحیح مسلم، مشکوٰۃ ج2، ص512؛ تفسیر ابن کثیر ج3، ص510)
✿ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"مجھے دیگر انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے… اور میرے ذریعے نبوت کا خاتمہ ہوا۔”
(4) حدیث جابر بن عبداللہ:
«فأنا موضع اللبنة ختم بي الأنبياء عليهم الصلاة والسلام»
(بخاری، مسلم، ترمذی، تفسیر ابن کثیر ج3، ص9)
(5) حدیث جبیر بن مطعم:
«وأنا العاقب الذي ليس بعدي نبي»
(صحیح بخاری جلد1، ص501)
اجماعِ امت اور فقہاء کی آراء:
امام ابن کثیر رحمہ اللہ:
’’وَقَدْ أَخْبَرَ اللَّه… فَهُوَ كَذَّاب أَفَّاك دَجَّال ضَالّ مُضِلّ…‘‘
(تفسیر القرآن العظیم، ج3، ص510)
✿ اللہ تعالیٰ نے قرآن اور نبی کریم ﷺ نے متواتر احادیث میں وضاحت فرما دی ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
✿ جو بھی اس کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، گمراہ اور دجال ہے۔
شیخ الحدیث مولانا محمد عبدہ الفلاح حفظہ اللہ:
✿ فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰؑ کا نزول ختم نبوت کے منافی نہیں کیونکہ وہ شریعت محمدی ﷺ پر ہی عمل کریں گے۔
✿ لہٰذا ختم نبوت کا انکار کرنے والا قطعی کافر اور ملتِ اسلامیہ سے خارج ہے۔
مولانا ابو الوفا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ:
(فتاویٰ ثنائیہ، جلد1، ص375)
✿ مرزائی گروہ نبی کریم ﷺ کی احادیث کے مقابلے میں مرزا غلام احمد کے اقوال کو فوقیت دیتا ہے۔
✿ اس گروہ سے مسلمانوں کا کوئی تعلق جائز نہیں۔
شیخ الکل فی الکل سید نذیر حسین محدث رحمہ اللہ:
’’…فهو گمراه، كافر، خالد مخلد دوزخ کا کندہ بن کر رہے گا…‘‘
(فتاویٰ نذریہ، جلد1، ص12)
✿ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی خاتم النبیین ہونے کا انکار کرے، وہ گمراہ، کافر اور دوزخی ہے۔
نتیجہ و شرعی حکم:
✿ قادیانی، لاہوری، ربوی مرزائی تمام فرقے کافر اور اسلام سے خارج ہیں۔
✿ ان کے کفر پر اجماع ہے اور اسے تسلیم کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
✿ جو شخص:
➊ ان کے کفر میں شک کرے،
➋ ان کی خوشی یا غمی میں شریک ہو،
➌ ان کا جنازہ پڑھے یا پڑھائے،
وہ اسی حکم میں ہے (یعنی کافر) جب تک وہ توبہ نہ کرے۔
✿ ان کے ساتھ:
➊ میل جول، کھانا پینا، رشتہ داری، تقریبات میں شرکت – سب شرعاً حرام اور ناجائز ہے۔
➋ ان کو مسلمان سمجھنا بھی درست نہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب