تحریر: عمران ایوب لاہوری
بعض اوقات قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہوتے ہیں
حدیث نبوی ہے کہ :
إذا تواجه المسلمان بسيفهما فقتل أحدهما صاحبه فالقاتل والمقتول فى النار فقيل هذا القاتل فما بال المقتول؟ قال قد أراد قتل صاحبه
”جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے سامنے آجائیں اور ان میں سے ایک اپنے (دوسرے ) ساتھی کو قتل کر دے تو قاتل اور مقتول دونوں آگ میں جائیں گے ۔ دریافت کیا گیا کہ یہ قاتل (تو جہنمی ہے ) مقتول کیوں آگ میں جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (کیونکہ ) وہ بھی اپنے مدمقابل ساتھی کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔“
[بخاري: 6875 ، كتاب الديات: باب قول الله تعالى ومن أحياها ، مسلم: 2888 ، احمد: 43/5 ، ابو داود: 4668 ، نسائي: 125/7 ، ابن ماجة: 3965 ، ابن حبان: 5945 ، طيالسي: 884 ، بيهقي: 190/8]