فوت شدہ نمازوں کی قضا:
❀ہر نماز اپنے وقت پر فرض ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
(النساء: 103)
بلاشبہ نماز مومنوں پر وقت مقررہ پر ادا کرنا فرض ہے۔
❀لیکن اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کوئی نماز رہ جائے تو اسے بعد میں ادا کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے غزوہ احزاب کے موقع پر جو نمازیں رہ گئی تھیں ان کی بعد میں قضا ادا کی تھی۔
❀قضا نماز کو جب ادا کرنے کا موقع ملے تو فوراً ادا کرنا چاہیے، مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احزاب کے موقع پر فوت شدہ نمازوں کو وقت ملتے ہی فوراً ادا کیا۔
سونے یا بھولنے کی وجہ سے قضا نماز کا مسئلہ:
❀جو شخص نماز کے وقت سویا تھا، یا وہ نماز پڑھنا بھول گیا تو وہ جب بھی بیدار ہو، یا اسے اب بھی یاد آئے تو وہ اس وقت نماز ادا کرے، اس کے لیے وہی وقت نماز کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نام عن صلاة أو نسيها فليصلها إذا ذكرها، فإن ذلك وقتها
جو شخص سو جائے یا نماز پڑھنا بھول جائے، تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ یاد آنے پر فوراً نماز ادا کر لے۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة: 684/315]
قضا نماز کی سنن کا مسئلہ:
❀نماز فجر قضا ہو جائے تو اس کے ساتھ سنتیں بھی ادا کریں۔ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نماز فجر قضا ہو گئی، تو طلوع آفتاب کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے سنن ادا کیں، پھر جماعت کروائی۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة: 681]
❀باقی نمازیں قضا ہونے پر ان کی سنتیں ادا کرنا جائز ہے، ضروری نہیں۔ غزوہ احزاب کے موقع پر فوت شدہ نمازوں کی سنتیں ادا کرنے کا ذکر کسی صحیح حدیث سے نہیں ملتا۔
نمازیں جمع کرنے میں ترتیب:
❀جب نمازیں جمع کریں تو انھیں ترتیب سے پڑھیں، کیونکہ جنگ خندق میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عصر کی نماز قضا ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے عصر کی نماز پڑھی، پھر مغرب پڑھی۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى هي صلاة العصر: 631۔ بخاری: 945]
❀بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قضا نمازوں میں ترتیب ضروری نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرد فعل وجوب کی دلیل نہیں۔ لیکن یاد رہے کہ نماز میں ترتیب سے ہٹ کر ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، لہذا خیر اسی میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے نمازوں کو ترتیب ہی سے ادا کیا جائے۔
قضائے عمری کا مسئلہ:
❀ایک شخص نے سستی کی وجہ سے کئی سال تک نماز ادا نہیں کی، پھر ہدایت ملنے پر اس نے نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اب پچھلے برسوں میں ترک کی ہوئی نمازوں کی قضا کو ”قضائے عمری“ کہا جاتا ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ توبہ کرنے والے شخص کو چھوڑی ہوئی تمام نمازوں کی قضا کرنی چاہیے اور وہ اس کا طریقہ یہ بتاتے ہیں کہ ایسا شخص ہر نماز کے ساتھ اسی وقت کی ایک قضا نماز ادا کرے، چونکہ وقت تھوڑا ہوتا ہے، لہذا صرف فرض ادا کرے، سنتیں و نوافل چھوڑ دے۔ اسی طرح عورت اپنے حیض اور نفاس کے ایام کا حساب لگا کر اتنے دن علیحدہ کر لے اور باقی ایام کی قضا کرے۔
قضائے عمری کا دوسرا طریقہ جو بہت زیادہ آسان ہے اور صوبہ سرحد میں رائج ہے، وہ یہ کہ رمضان کے آخری جمعہ کی نماز کے بعد سابقہ فجر کی چھوڑی ہوئی تمام نمازوں کی طرف سے ایک فجر پڑھ لو، ظہر کی چھوڑی ہوئی تمام نمازوں کی طرف سے ایک نماز ظہر پڑھ لو، اسی طرح دیگر نمازیں بھی، یعنی تمام چھوڑی ہوئی نمازوں کی طرف سے پانچ نمازیں پڑھ لو، تمام کی قضا ہو جائے گی۔
شریعت اسلامیہ میں قضائے عمری کا تصور تک نہیں ہے، جبکہ اس کے برعکس ہمیں دلائل ملتے ہیں، مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
پھر ان (انبیائے کرام) کے بعد نالائق لوگ ان کے جانشین بنے، جنھوں نے نماز ضائع کر دی اور خواہشات کے پیچھے لگ گئے، وہ عنقریب گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں گے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور عمل صالح کیے تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ بھر بھی حق تلفی نہ ہو گی۔
(مریم: 59-60)
اس آیت میں نماز ضائع کرنے والوں کے جنت میں داخلے کے لیے سابقہ کوتاہیوں سے توبہ اور ایمان و عمل کی اصلاح کو ضروری قرار دیا گیا ہے، سابقہ نمازیں دہرانے کا حکم نہیں دیا گیا۔
اس کے علاوہ شریعت اسلامیہ نے حیض اور نفاس والی عورت کو ایام حیض و نفاس میں چھوڑی ہوئی نمازیں معاف کر دی ہیں، کیونکہ ان نمازوں کی ادائی مشکل تھی، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ شریعت میں پینتیس نمازیں تو چھوڑ دے لیکن تمھیں پینتیس برس کی نمازوں کی قضا کا حکم دے۔ یہ اصول کے خلاف ہے۔ لہذا ایسا شخص جب با قاعدہ نماز شروع کرے تو اسے پہلے ترک کی ہوئی نمازوں کی توبہ کرنی چاہیے، پہلی نمازیں ادا کرنے کی ضرورت نہیں۔