مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

فوت شدہ بیٹے کی اولاد (یتیم بچوں) کے لیے وصیت کا حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

فوت شدہ بیٹے کے بیٹوں (یتیم بچوں) کے لیے وصیت

تمہارے لیے تمہارے فوت شدہ بیٹے کی اولاد کے لیے تیسرے حصے کی یا اس سے کم وصیت کرنا جائز ہے، کیونکہ وہ تمہارے وارث نہیں۔
[اللجنة الدائمة: 18918]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔