فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید

فونٹ سائز:
مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون فقہِ حنفی میں شراب کے احکام اور اس کی مختلف اقسام کے جواز یا حرمت سے متعلق مروی نصوص، فتاویٰ اور عملی رجحانات کا تحقیقی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس میں امام ابو حنیفہ اور ان کے شاگردوں کے اقوال، کتبِ معتبرہ جیسے "الجامع الصغير” اور "الهداية” کی عبارات، اور حنفی اکابر کی آراء کو اصل عربی متن اور معتبر حوالہ جات کے ساتھ نقل کیا گیا ہے۔ مضمون میں قوت یا علاج کے لیے شراب پینے کے جواز، شراب کو سرکہ بنانے، اور شراب نوشی پر حد کے حنفی اصولوں کا احادیثِ صحیحہ کے ساتھ تقابل کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، امام ابو عوانہ کی گواہی اور فقہِ حنفی میں غیر انگوری شرابوں کے جواز سے متعلق شواہد بھی شامل کیے گئے ہیں، تاکہ قاری کے سامنے اس مسئلے کی مکمل اور غیر جانبدار تصویر واضح ہو سکے۔

محمد بن حسن الشیبانی اور مرغینانی کی تصریحات

1️⃣ محمد بن حسن الشیبانی کا قول

اصل متن:

مُحَمَّد عَن يَعْقُوب عَن أبي حنيفة (رَضِي الله عَنْهُم) قَالَ: الْخمر حرَام قليلها وكثيرها وَالسكر وَهُوَ الَّتِي من مَاء التَّمْر ونقيع الزَّبِيب إِذا اشْتَدَّ حرَام مَكْرُوه والطلا وَهُوَ الَّذِي ذهب أقل من ثُلثَيْهِ من مَاء الْعِنَب وَمَا سوى ذَلِك من الْأَشْرِبَة فَلَا بَأْس بِهِ
(الجامع الصغير وشرحه النافع الكبير لمحمد بن الحسن الشيباني، المتوفى 189ھ)

ترجمہ:
محمد بن حسن الشیبانی اپنے شیخ امام ابو حنیفہ سے نقل کرتے ہیں: خمر (انگور کا کچا رس) حرام ہے، سُکر (کھجور کا کچا مشروب) اور نقیع الزبیب (کشمش کا کچا مشروب) جب سخت ہو جائے (یعنی نشہ پیدا ہو) تو حرام اور مکروہ ہے، طلاء (انگور کا مشروب جس میں سے دو تہائی نہ گیا ہو) بھی اسی میں شامل ہے، اور اس کے علاوہ باقی مشروبات میں کوئی حرج نہیں۔

📌 نکتہ: یہاں ابو حنیفہ کے نزدیک خمر، سکر، نقیع الزبیب اور طلاء کے علاوہ دیگر تمام نشہ آور مشروبات میں کوئی قباحت نہیں، چاہے وہ کم مقدار میں نشہ آور ہوں۔

2️⃣ مرغینانی حنفی کی وضاحت

اصل متن:

"وقال في الجامع الصغير: وما سوى ذلك من الأشربة فلا بأس به” قالوا: هذا الجواب على هذا العموم والبيان لا يوجد في غيره، وهو نص على أن ما يتخذ من الحنطة والشعير والعسل والذرة حلال عند أبي حنيفة، ولا يحد شاربه عنده وإن سكر منه.
(الهداية في شرح بداية المبتدي، برهان الدين المرغيناني، المتوفى 593ھ)

ترجمہ:
"جامع صغیر” میں فرمایا: اس کے علاوہ جو بھی مشروبات ہیں ان میں کوئی حرج نہیں۔ علماء کہتے ہیں: یہ جواب عموم پر ہے اور اس جیسی وضاحت کسی اور کتاب میں نہیں، اور یہ نص ہے کہ گیہوں، جو، شہد اور جوار سے بنائی گئی شراب امام ابو حنیفہ کے نزدیک حلال ہے، اور اس کو پینے والے پر کوئی حد (شرعی سزا) نہیں لگائی جائے گی، خواہ اس کو پینے سے نشہ بھی پیدا ہو۔

📌 نکتہ: مرغینانی نے صاف لفظوں میں حنفی موقف بیان کیا کہ گیہوں، جو، شہد اور جوار کی بنی ہوئی شراب مباح ہے اور نشہ ہونے پر بھی حد نہیں لگائی جائے گی۔

ہدایہ کی حیثیت اور دیوبندی اعتراض کا جواب

حنفی مذہب میں "الهداية في شرح بداية المبتدي” کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اس پر دیوبندی مکتبِ فکر کے بعض لوگ اس وقت اعتراض کرتے ہیں جب اس میں ایسے فتاویٰ آجائیں جو عام عوام یا مخالفین کے سامنے شرمندگی کا باعث ہوں، جیسا کہ شراب کی بعض اقسام کے جواز والا مسئلہ۔ ایک دیوبندی ناظم عباسی نے مرغینانی کے بیان پر یہ کہہ کر جان چھڑانے کی کوشش کی کہ "یہ مرغینانی کا وہم ہے”۔ حالانکہ خود حنفی اکابر نے ہدایہ کو غیر معمولی درجہ دیا ہے۔

1️⃣ عماد الدین (مرغینانی کے بیٹے) کی مدح

اصل متن:

كتاب الهداية يهدي الهدى .. إلى حافظيه ويجلو العمى .. فلازمه واحفظه ياذا الحجى .. فمن ناله نال أقصى المنى
(الهداية شرح بداية المبتدي)

ترجمہ:
کتاب "ہدایہ” اپنے حفظ کرنے والوں کو ہدایت دیتی ہے اور اندھے پن کو دور کرتی ہے، اے عقل مند! اس کو لازم پکڑ اور حفظ کر، سو جس نے اسے پالیا اس نے اپنی تمام امیدوں کو پا لیا۔

2️⃣ حاجی خلیفہ (کاتب جلبي حنفی) کی تعریف

اصل متن:

إن (الهداية) كالقرآن قد نسخت * ما صنفوا قبلها في الشرع من كتب
فاحفظ قواعدها واسلك مسالكها * يسلم مقالك من زيغ ومن كذب
(كشف الظنون عن أسامي الكتب والفنون، حاجي خليفة، المتوفى 1067ھ)

ترجمہ:
"ہدایہ” قرآن کی مانند ہے کہ اس نے اپنے سے پہلے شرعی کتب کو منسوخ کردیا ہے، اس کے قواعد کو یاد کر اور اس کے طریقے پر چل، تاکہ تیرا کلام کجی اور جھوٹ سے محفوظ رہے۔

3️⃣ انور شاہ کشمیری دیوبندی کی رائے

اصل متن:

ليس في أسفار المذاهب الأربعة كتاب بمثابة كتاب الهداية في تلخيص كلام القوم، وحسن تعبيره الرائق، والجمع للمهمات في تفقه نفس، بكلمات كلها درر وغرر. وقد صدق من قال من بعض أفاضل الشيعة: إن كتب الأدب العربي في المسلمين ثلاثة: التنزيل العزيز. وصحيح البخاري. وكتاب الهداية.
(نصب الراية لأحاديث الهداية مع حاشيته بغية الألمعي)

ترجمہ:
چاروں مذاہب کی کتب میں ہدایہ جیسی کوئی کتاب نہیں جو قوم کے کلام کا خلاصہ، عمدہ تعبیر، اہم مسائل کا مجموعہ اور فقہ میں گہرائی رکھتی ہو۔ اور بعض افاضل شیعہ نے سچ کہا کہ مسلمانوں کے ہاں عربی ادب کی تین کتابیں ہیں: قرآن، صحیح بخاری اور کتاب ہدایہ۔

4️⃣ محمد عوامہ حنفی کی رائے

اصل متن:

فكتاب "الهداية” منقطع النظير في قبوله بين كتب المذهب الحنفي خاصة، وكتب المذاهب الأخرى عامة.
(الهداية شرح بداية المبتدي)

ترجمہ:
کتاب "ہدایہ” اپنی مقبولیت میں حنفی مذہب کی کتب میں خاص اور دیگر مذاہب کی کتب میں عام طور پر بے نظیر ہے۔

📌 نتیجہ:
جب خود حنفی اکابر ہدایہ کو اس قدر بلند مقام دیتے ہیں کہ اسے قرآن کی مانند، ادبِ عربی کی اعلیٰ ترین کتابوں میں شمار کرتے ہیں، تو اس کے کسی فتویٰ کو "وہم” کہہ کر رد کرنا اپنی ہی مسلکی بنیاد پر ضرب لگانے کے مترادف ہے۔

قوت کے لیے شراب پینے کا جواز – حنفی فتاویٰ بمقابلہ احادیث

1️⃣ علاء الدین البخاری حنفی (730ھ)

اصل متن:

[الْقَسْم الثَّانِي السُّكْر بِطَرِيقِ غَيْر مُبَاح]
قَوْلُهُ (وَكَذَا السُّكْرُ مِنْ النَّبِيذِ الْمُثَلَّثِ) عَصِيرُ الْعِنَبِ إذَا طُبِخَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَاهُ بِالنَّارِ وَبَقِيَ ثُلُثُهُ ثُمَّ رُقِّقَ بِالْمَاءِ وَتُرِكَ حَتَّى اشْتَدَّ يُسَمَّى مُثَلَّثًا وَيَحِلُّ شُرْبُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ لِاسْتِمْرَاءِ الطَّعَامِ وَالتَّدَاوِي وَالتَّقَوِّي دُونَ التَّلَهِّي وَاللَّعِبِ.

(كشف الأسرار شرح أصول البزدوي)

ترجمہ:
انگور کا شیرہ جب پکایا جائے یہاں تک کہ اس کا دو تہائی حصہ اُڑ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے، پھر اسے پانی ملا کر چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ اس میں شدت پیدا ہو (یعنی نشہ پیدا ہو)، تو اسے مثلث کہتے ہیں، اور امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف کے نزدیک اسے بطورِ ہاضمہ، علاج اور قوت کے لیے پینا جائز ہے، مگر لہو و لعب کے لیے نہیں۔

2️⃣ بدر الدین عینی حنفی (855ھ)

اصل متن:

[حكم شرب عصير العنب إذا طبخ حتى ذهب ثلثاه وبقي ثلثه]
(قال: وعصير العنب إذا طبخ حتى ذهب ثلثاه وبقي ثلثه حلال وإن اشتد) وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف، وقال محمد ومالك والشافعي: حرام، وهذا الخلاف فيما إذا قصد به التقوي.

(البناية شرح الهداية)

ترجمہ:
انگور کا شیرہ جب پکایا جائے یہاں تک کہ اس کا دو تہائی حصہ اُڑ جائے اور ایک تہائی باقی رہ جائے تو یہ حلال ہے اگرچہ اس میں کتنی ہی شدت (نشہ) پیدا ہو، اور یہ امام ابو حنیفہ اور قاضی ابو یوسف کا موقف ہے، جبکہ امام محمد، مالک اور شافعی کے نزدیک یہ حرام ہے۔ یہ اختلاف اس وقت ہے جب پینے کا مقصد قوت حاصل کرنا ہو۔

3️⃣ مفتی تقی عثمانی حنفی

اقتباس:
مفتی تقی عثمانی لکھتے ہیں کہ:

"انگور کی شراب کے علاوہ دوسری نشہ آور اشیاء کو اتنا کم پینا جس سے نشہ نہ ہو، امام ابو حنیفہ کے نزدیک قوت حاصل کرنے کے لیے جائز ہے۔”
(تقلید کی شرعی حیثیت)

4️⃣ حدیثِ نبوی ﷺ – نشہ آور اشیاء کی حرمت

اصل متن:

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَالَ: «مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ»
(سنن الترمذي، رقم: 1865، وصححه الألباني)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرے اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔”

📌 تقابل:

  • احادیثِ صحیحہ کے مطابق اگر کسی مشروب کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے تو اس کی کم مقدار بھی حرام ہے۔

  • فقہ حنفی کے مطابق کچھ شرابیں بطورِ قوت یا علاج کم مقدار میں پینا جائز ہے، چاہے اس میں نشہ کا امکان ہو، بشرطیکہ مقصد لہو و لعب نہ ہو۔

شراب کو سرکہ بنانے کا مسئلہ – فقہ حنفی بمقابلہ صحیح احادیث

1️⃣ ابو الحسن مرغینانی حنفی (593ھ) – فقہ حنفی کا فتویٰ

اصل متن:

قال: "وإذا تخللت الخمر حلت سواء صارت خلا بنفسها أو بشيء يطرح فيها، ولا يكره تخليلها”
(الهداية في شرح بداية المبتدي)

ترجمہ:
اگر شراب سرکہ بن جائے تو حلال ہے، چاہے وہ خود بخود سرکہ بن جائے یا اس میں کوئی چیز ڈال کر سرکہ بنایا جائے، اور اس کو خمیر کرنا مکروہ نہیں۔

📌 فقہی نتیجہ:
فقہ حنفی میں جان بوجھ کر شراب کو سرکہ میں تبدیل کرنا جائز ہے۔

2️⃣ مصنف ابن ابی شیبہ – ابو حنیفہ کا موقف

اصل متن:

36147 – وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، "أَنَّ أَيْتَامًا وَرِثُوا خَمْرًا، فَسَأَلَ أَبُو طَلْحَةَ النَّبِيَّ ﷺ أَنْ يَجْعَلَهُ خَلًّا، قَالَ: لَا” وَذُكِرَ أَنَّ أَبَا حَنِيفَةَ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ
(مصنف ابن أبي شيبة)

ترجمہ:
انسؓ بیان کرتے ہیں کہ کچھ یتیموں نے شراب وراثت میں پائی، تو ابو طلحہؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ کیا اس کو سرکہ بنا سکتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں”۔ اور ذکر کیا گیا کہ ابو حنیفہ نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں۔

3️⃣ صحیح مسلم – ممانعتِ نبوی ﷺ

اصل متن:

عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ سُئِلَ عَنِ الْخَمْرِ تُتَّخَذُ خَلًّا، فَقَالَ: «لَا»
(صحيح مسلم، رقم: 1983)

ترجمہ:
انسؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ سے شراب کو سرکہ بنانے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "نہیں”۔

📌 تقابل:

  • فقہ حنفی: شراب کو جان بوجھ کر سرکہ میں تبدیل کرنا جائز۔

  • حدیثِ صحیح: نبی ﷺ نے اس عمل سے منع فرمایا۔

شراب نوشی پر حد – فقہ حنفی کے اصول اور احادیث

1️⃣ ابن عابدین شامی (1252ھ) – غیر خمر شراب پر حد نہیں

اصل متن:

وَقَالَ فِي الْخَانِيَّةِ: وَفِيمَا سِوَى الْخَمْرِ مِنْ الْأَشْرِبَةِ الْمُتَّخَذَةِ مِنْ التَّمْرِ وَالْعِنَبِ وَالزَّبِيبِ لَا يُحَدُّ مَا لَمْ يَسْكَرْ
(رد المحتار على الدر المختار)

ترجمہ:
خانِيّہ میں کہا: خمر (انگور کی شراب) کے علاوہ کھجور، انگور اور کشمش سے بنی دیگر شرابوں کے بارے میں جب تک نشہ پیدا نہ ہو، اس پر کوئی حد (شرعی سزا) نہیں۔

2️⃣ مرغینانی حنفی – آخری پیالے کا نشہ

اصل متن:

ولأن المفسد هو القدح المسكر وهو حرام عندنا وإنما يحرم القليل منه
(الهداية في شرح بداية المبتدي)

ترجمہ:
کیونکہ فساد پیدا کرنے والا وہ پیالہ ہے جو نشہ پیدا کرے اور وہ ہمارے نزدیک حرام ہے، اور اس کی کم مقدار اسی وقت حرام ہے جب وہ نشہ پیدا کرے۔

3️⃣ فتاویٰ عالمگیری – نو پیالے پی کر نشہ دسویں پر آئے تو حد نہیں

اصل متن:

إذَا شَرِبَ تِسْعَةَ أَقْدَاحٍ مِنْ نَبِيذِ التَّمْرِ فَأُوجِرَ الْعَاشِرَ فَسَكِرَ لَمْ يُحَدَّ؛ لِأَنَّ السُّكْرَ يُضَافُ إِلَى مَا هُوَ أَقْرَبُ إِلَيْهِ
(الفتاوى الهندية)

ترجمہ:
اگر کسی نے کھجور کی نبیذ کے نو پیالے پیئے اور نشہ نہ آیا، اور دسویں پیالے کے بعد نشہ آیا، تو حد نہیں لگائی جائے گی، کیونکہ نشہ کو اسی کے ساتھ منسوب کیا جائے گا جو اس کے قریب تر ہے۔

4️⃣ ابن نجیم المصری (970ھ) – نشے کی تعریف

اصل متن:

وَاخْتُلِفَ فِي حَدِّ السَّكْرَانِ، فَقِيلَ: مَنْ لَا يَعْرِفُ الْأَرْضَ مِنَ السَّمَاءِ وَالرَّجُلَ مِنَ الْمَرْأَةِ، وَبِهِ قَالَ الْإِمَامُ الْأَعْظَمُ، وَقِيلَ: مَنْ فِي كَلَامِهِ اخْتِلَاطٌ وَهَذَيَانٌ، وَهُوَ قَوْلُهُمَا
(الأشباه والنظائر)

ترجمہ:
نشئی کی تعریف میں اختلاف ہے: کہا گیا کہ وہ شخص جو زمین اور آسمان یا مرد اور عورت میں فرق نہ کر سکے، اور یہ امام اعظم (ابو حنیفہ) کا قول ہے۔ اور کہا گیا کہ جس کی باتوں میں اختلاط اور ہذیان ہو، اور یہ دونوں شاگردوں کا قول ہے۔

5️⃣ زیلعی حنفی (743ھ) – ابو حنیفہ کا قول

اصل متن:

حَدُّ السَّكْرَانِ بِأَنْ زَالَ عَقْلُهُ، وَهُوَ أَنْ لَا يَعْرِفَ الْأَرْضَ مِنَ السَّمَاءِ وَلَا الرِّجَالَ مِنَ النِّسَاءِ … وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ
(تبيين الحقائق)

ترجمہ:
نشئی کی حد یہ ہے کہ اس کی عقل زائل ہو جائے، یہاں تک کہ وہ زمین اور آسمان یا مرد اور عورت میں فرق نہ کر سکے، اور یہ ابو حنیفہ کا قول ہے۔

6️⃣ حدیثِ نبوی ﷺ – معیارِ حرمت

اصل متن:

«مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ»
(سنن الترمذي، صحيح)

ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو چیز زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔”

📌 تقابل:

  • فقہ حنفی: نشہ پیدا کرنے والی مقدار تک پہنچنے سے پہلے پینا ممنوع نہیں، اور بعض صورتوں میں نشہ آنے کے باوجود بھی حد نہیں۔

  • سنتِ نبوی ﷺ: جو مشروب زیادہ مقدار میں نشہ پیدا کرے، اس کی تھوڑی مقدار بھی حرام ہے۔

ابو عوانہ کی گواہی اور فقہِ حنفی کا عمومی رجحان

1️⃣ امام ابو عوانہ الوضاح بن عبد الله اليشكري (176ھ) – ثقہ ثبت کی شہادت

اصل متن:

321 – حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: "سُئِلَ أَبُو حَنِيفَةَ عَنِ الْأَشْرِبَةِ، فَمَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ، إِلَّا قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، وَسُئِلَ عَنِ الْمُسْكِرِ فَقَالَ: حَلَالٌ”
(السنة لعبد الله بن أحمد، وأخرجه الخطيب البغدادي في تاريخ بغداد)

ترجمہ:
ابو عوانہ فرماتے ہیں: "ابو حنیفہ سے شرابوں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو جس چیز کے بارے میں پوچھا گیا، فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، اور جب نشہ آور مشروب کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: حلال ہے۔”

2️⃣ سند کی حالت

  • الخطيب البغدادي ثقة حجة

  • عبد الله بن يحيى السكريصدوق حسن الحديث

  • محمد بن عبد الله الشافعيثقة مأمون

  • محمد بن غالب التمار ثقة

  • موسى بن إسماعيل التبوذكيثقة ثبت

  • أبو عوانة الوضاح بن عبد الله اليشكري ثقة ثبت

📌 سند صحیح ہے اور یہ اثر ابو حنیفہ کے براہِ راست فتوے کی وضاحت کرتا ہے۔

3️⃣ اعتراض اور اس کا رد

بعض معترضین (مثلاً اسد المداری) نے کہا کہ ابو عوانہ نے یہاں نبیذ کو "سُکر” سمجھ لیا۔

رد:

  • نبیذ کھجور کا شربت ہے، جس کو رسول اللہ ﷺ نے نوش فرمایا، جیسا کہ ابو عوانہ ہی اپنی سند سے روایت کرتے ہیں:

اصل متن:

61 – (1999) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يُنْبَذُ لَهُ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ»
(صحيح مسلم)

ترجمہ:
جابر بن عبد اللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے لیے پتھروں کے بنے ہوئے برتن میں نبیذ تیار کی جاتی تھی۔

📌 اس سے معلوم ہوا کہ ابو عوانہ نبیذ اور نشہ آور سُکر میں فرق جانتے تھے، اس لیے ان کی شہادت کو "غلط فہمی” کہنا لغو ہے۔

4️⃣ مجموعی رجحان

ان شواہد سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فقہ حنفی میں:

  • بعض غیر انگوری شرابیں (گیہوں، جو، شہد، جوار وغیرہ سے بنی) نشہ نہ ہو تو مباح، حتیٰ کہ بعض صورتوں میں نشہ ہونے کے باوجود بھی حد نہیں۔

  • شراب کو قوت یا علاج کے لیے پینا، بعض صورتوں میں جائز۔

  • انگور کے شیرے سے مثلث تیار کر کے پینا امام ابو حنیفہ و قاضی ابو یوسف کے نزدیک مباح۔

🔍 خلاصۂ تحقیق

  1. امام ابو حنیفہ اور شاگردوں کے اقوال:

    • محمد بن حسن الشیبانی اور مرغینانی کی صریح تصریحات میں خمر، سُکر، نقیع الزبیب، اور طلاء کے علاوہ دیگر مشروبات میں جواز بیان ہوا۔

    • گیہوں، جو، شہد، جوار وغیرہ سے بنی شراب کو نشہ آنے کے باوجود مباح اور غیر موجبِ حد قرار دیا گیا۔

  2. ہدایہ کی حیثیت:

    • حنفی اکابر نے "الهداية” کو قرآن کے بعد سب سے اہم کتب میں شمار کیا، اس کو حفظ کرنے کی ترغیب دی، اور اسے فقہ حنفی کی بنیاد مانا۔

    • اس کے فتاویٰ پر "وہم” کا الزام لگانا اپنے ہی مسلک پر زد ہے۔

  3. قوت یا علاج کے لیے شراب پینا:

    • علاء الدین البخاری، بدر الدین عینی اور مفتی تقی عثمانی کے فتاویٰ میں مثلث وغیرہ پینے کو بطورِ علاج یا قوت کے لیے جائز کہا گیا۔

    • یہ موقف حدیثِ صحیح "ما أسكر كثيره فقليله حرام” کے خلاف ہے۔

  4. شراب کو سرکہ بنانا:

    • فقہ حنفی میں جان بوجھ کر شراب کو سرکہ بنانے کی اجازت دی گئی، جبکہ صحیح مسلم میں نبی ﷺ نے اس عمل سے منع فرمایا۔

  5. شراب نوشی پر حد:

    • فقہ حنفی میں اس وقت تک حد نہیں لگتی جب تک نشے کی شدید ترین حالت نہ ہو، یا بعض اوقات آخری پیالے کو علت مان کر حد ساقط کر دی جاتی ہے۔

    • احادیث میں معیار یہ ہے کہ جس مشروب کی زیادہ مقدار نشہ پیدا کرے، اس کی کم مقدار بھی حرام اور موجبِ سزا ہے۔

  6. ابو عوانہ کی شہادت:

    • صحیح سند کے ساتھ یہ ثابت ہے کہ ابو حنیفہ ہر قسم کی شراب کے جواز کے قائل تھے، حتیٰ کہ نشہ آور مشروبات کو بھی "حلال” کہا۔

⚖ نتیجہ

  • فقہ حنفی میں بعض غیر انگوری شرابیں مباح قرار دی گئیں، حتیٰ کہ نشہ پیدا کرنے والی مقدار میں بھی حد ساقط کرنے کے اصول ملتے ہیں۔

  • یہ تفریطی رویہ احادیثِ صحیحہ کے معیارِ حرمت سے متصادم ہے، جس میں ہر نشہ آور چیز کو، خواہ کم مقدار میں ہو، حرام قرار دیا گیا ہے۔

  • محدثین کی تنقید اور فقہ حنفی کے اندرونی تضادات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان مسائل میں حنفی فتاویٰ نصوصِ نبویہ کے مطابق نہیں۔

اہم حوالاجات کے سکین

فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 01 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 02 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 03 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 04 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 05 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 06 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 07 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 08 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 09 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 10 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 11 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 12 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 13 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 14 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 15 فقہ حنفی میں غیر انگوری شراب کا جواز: مآخذ، فتاویٰ اور محدثین کی تنقید – 16