فضائل تعمیر مساجد قرآن کی نظر میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس الشیخ محمد منیر قمر کی کتاب احکام مساجد سے ماخوذ ہے۔

فضائل تعمیر مساجد قرآن کی نظر میں

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورۃ التوبہ آیت 17 اور 18 میں تعمیر مساجد کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:
﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ ‎.‏ إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ .﴾
مشرکوں کا کام نہیں کہ آباد کریں اللہ کی مسجدیں اور تسلیم کر رہے ہوں اپنے اوپر کفر کو، ان کے تمام اعمال برباد ہو گئے اور ہمیشہ نار جہنم میں رہیں گے۔ اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتا ہے جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اور نماز قائم کرتا ہو، اور زکوٰة ادا کرتا ہو، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتا ہو۔ سو امید ہے کہ وہ لوگ ہدایت والوں میں سے ہوں گے۔
اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے مذاہب باطلہ و افکار ضالہ کے لئے شمشیر برمنہ فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ امرتسری جن کے ساتھ مباہلہ کے نتیجے میں مرزائیوں کا پاگل پیشوا مرزا غلام احمد اپنے انجام کو پہنچا، وہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں:
مشرکوں کو بھی ایک غلط خیال جم رہا ہے کہ ہم مسجد الحرام کی تعمیر و آبادی کرتے ہیں، اللہ کے ہاں ہمیں ثواب ملے گا، حالانکہ قانون الہی میں مشرکوں سے ممکن ہی نہیں کہ جس حالت میں وہ اپنے حق میں کفر کے مقر ہوں، وہ اللہ کی مسجدیں بھی آباد کریں کیونکہ مسجدیں خالص توحیدی عبادت کے لئے ہیں اور یہ کام خالص موحدین کا حصہ ہے۔ ان مشرکوں کے تو اعمال ضائع و برباد ہیں، اور یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ حقیقت میں اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں، اور خود نماز پڑھتے ہیں، زکوٰة ادا کرتے ہیں، اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے، کیونکہ مسجد کی آبادی یہ ہے کہ اس میں اللہ کی خالص عبادت ہو۔
تفسیر ثنائی ص 226 طبع ثنائی اکیڈمی لاہور
غرض تعمیر و آبادی مسجد کی خدمت انجام دینے والوں کو اللہ کی طرف سے یہ سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے کہ وہ ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔ ان دونوں آیتوں کی تفسیر کے لئے ابن کثیر (341،340/2 – دار المعرفہ)، تفسیر قرطبی (58/6/4 دار الکتب العلمیہ)، تفسیر مولانا شبیر احمد عثمانی (254 مغربی جرمنی) اور دیگر کتب تفسیر دیکھی جا سکتی ہیں۔