تخلیق انسانیت کا مقصد:
تخلیق انسانیت کا مقصد عبادت ہے، عبادت قرب الٰہی کا ذریعہ ہے، مومن خیر کا متلاشی ہوتا ہے اور اس میں سبقت لے جانے کے لیے کوشاں رہتا ہے، عبادات میں سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ثانی نہیں، آپ امت کے لیے بہترین نمونہ ہیں، ہر امتی پر لازم ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر رضائے الٰہی کی جستجو کرے، کیونکہ مومن آزاد نہیں ہے، اسوہ محمدی کا پابند ہے۔
نماز کو اولین عبادت کا مقام حاصل ہے، نماز کی ادائیگی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اتباع لازم ہے، ہمارے یہاں بہت ساری نفلی نمازیں ایجاد کر لی گئی ہیں، باقاعدہ ان کی ترغیب دی جاتی ہے، انہیں قربت خداوندی کا ذریعہ بتایا جاتا ہے، وہ لوگ جو فرض کے پابند نہیں ہوتے، بدعت میں سو سو رکعات ادا کر لیتے ہیں، یہ محض رسمی عبادت ہے، عبادت تو بندے کو رب العالمین کے قریب کرتی ہے، تقویٰ و الٰہیّت کا سبب بنتی ہے، دل موم کرتی ہے، حسنات پر ابھارتی اور سیئات سے دور بھگاتی ہے، مگر رسمی عبادت گزاروں کا جائزہ لیں، تو خوف الٰہی سے عاری، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فراری نظر آئیں گے۔ یاد رہے کہ بناوٹی نمازیں ہرگز رضائے الٰہی کا ذریعہ نہیں ہیں اور شریعت کا اصل مقصود عبادت کی کیفیت ہے نہ کہ کمیت۔ ادنیٰ سی عبادت اجر و ثواب کا پہاڑ بن سکتی ہے اگر موافق سنت ہو ورنہ لمبی چوڑی عبادت بھی وبال جان ہو سکتی ہے۔
تکمیل دین اور بدعت :
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
(سورۃ المائدہ: 3)
آج میں نے تمہارا دین مکمل کر دیا، اپنی نعمت تمام کر دی اور تمہارے لیے دین اسلام پسند کیا۔
یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر نازل ہوئی، دین اسلام کے کامل و اکمل ہونے کا مژدہ جان فزا سنایا گیا، دین میں کوئی اضافہ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول نہیں، بلکہ یہ قبیح فعل ہے۔ بعض لوگ زبان حال سے تو تکمیل دین کے اقراری ہیں لیکن زبان حال سے باور کراتے ہیں کہ دین مکمل نہیں، اس لیے وہ دین میں اضافہ کرتے رہتے ہیں، کبھی تو قرآن و حدیث کا من پسند مفہوم متعین کر کے اپنے بدعی مذہب کو سہارا دیتے ہیں، کبھی بدعات کو حسنہ کا نام دے کر سند جواز فراہم کرتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ہماری بدعات قرآن و حدیث کے خلاف نہیں اور کبھی رٹ لگاتے ہیں کہ اگر ہماری ایجاد کردہ بدعت شریعت سے ثابت نہیں تو اس کے خلاف بھی نہیں، یوں اپنا دامن بدعات و مکروہات سے لبریز کر لیتے ہیں۔ قاعدہ یہ ہے کہ عبادت کا ممنوع یا مباح ہونا نص ہی سے متعین ہو سکتا ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .
من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد
جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس کی دلیل دین میں نہ ہو، وہ مردود و باطل ہے۔
(صحیح مسلم: 1718)
❀ حافظ ابن رجب رحمۃ اللہ (795ھ) فرماتے ہیں
یہ حدیث اصول دین میں سے ہے، ظاہری اعمال کی کسوٹی ہے، جیسے باطنی اعمال کے لیے حدیث إنما الأعمال بالنيات اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے کسوٹی ہے۔ جس عمل میں رضائے الٰہی مقصود نہ ہو، وہ باعث اجر و ثواب نہیں ہوتا، اسی طرح وہ عمل جس پر اللہ و رسول کی مہر نہ ہو، کرنے والے کے منہ پر مار دیا جائے گا، جس نے دین اسلام میں ایسی چیز ایجاد کی، جس کی اجازت اللہ و رسول نے نہیں دی، اس کی دین میں کوئی حیثیت نہیں۔
(جامع العلوم والحكم، ص 8)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں
إن تصرفات العباد من الأقوال والأفعال نوعان: عبادات يصلح بها دينهم، وعادات يحتاجون إليها فى دنياهم، فباستقراء أصول الشريعة نعلم أن العبادات التى أوجبها الله أو أحبها لا يثبت الأمر بها إلا بالشرع
اقوال و افعال کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ جس سے دین درست ہوتا ہے اور دوسری جس کی دنیوی زندگی میں احتیاج ہے، اصول شریعت کے گہرے مطالعہ سے معلوم ہوا ہے کہ جو عبادات اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں یا انہیں مستحب ٹھہرایا ہے، وہ صرف شریعت سے ثابت ہو سکتی ہیں۔
(القواعد النورانية، ص 78، 79)
❀ نیز فرماتے ہیں
أما القول بأن هذا الفعل مستحب أو منهي عنه أو مباح فلا يثبت إلا بدليل شرعي فالوجوب والندب والإباحة والاستحباب والكراهة والتحريم لا يثبت شيء منها إلا بالأدلة الشرعية
کسی بھی کام کو مستحب، ممنوع اور مباح صرف دلیل شرعی سے کہہ سکتے ہیں، چنانچہ واجب، مسنون، مباح، مستحب، مکروہ اور حرام بھی دلائل شرعیہ سے ہی ثابت ہو سکتے ہیں۔
(مجموع الفتاوى: 396/27)
❀ مزید فرماتے ہیں :
وہی اعمال مستحب اور دین ہو سکتے ہیں، جو قرآن و سنت اور سلف صالحین سے ثابت ہوں، ایجاد کردہ اعمال مستحب کا درجہ نہیں پا سکتے، بھلے وہ اپنے اندر عارضی فوائد رکھتے ہوں، کیونکہ ان کا نقصان فوائد سے زیادہ ہے۔
(إقتضاء الصراط المستقيم، ص 462)
❀ نیز فرماتے ہیں :
من ظن أنه يأخذ من الكتاب والسنة بدون أن يقتدي بالصحابة ويتبع غير سبيلهم فهو من أهل البدع والضلال ومن خالف ما أجمع عليه المؤمنون فهو ضال
جو یہ دعویٰ کرے کہ میں صحابہ کرام کی اقتدا اور سبیل مومنین کی پیروی کے بغیر خود کتاب و سنت سے مسائل و احکام اخذ کرتا ہوں، وہ بدعتی اور گمراہ ہے۔ نیز مومنوں کے اجماع کا مخالف گمراہ ہے۔
(مختصر الفتاوى المصرية، ص 556)
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث :
فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کے متعلق جو مشہور ہے، اس کا اطلاق ان نمازوں پر نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کا تعلق تو ان اعمال کے ساتھ ہے، جن کی اصل اور مشروعیت قرآن کریم اور صحیح حدیث سے ثابت ہو، جبکہ یہ نمازیں اصول محدثین سے ثابت نہیں، جو عمل قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو، اس کے بارے میں ضعیف حدیث پر عمل کیسے جائز ہو سکتا ہے؟ ثواب کی نیت سے عمل کرنا دین ہے، دین ضعیف حدیث سے ثابت نہیں ہوتا، تو ضعیف احادیث میں بیان ہونے والی نمازیں کیوں کر جائز ہو سکتی ہیں؟
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
لم يقل أحد من الأئمة إنه يجوز أن يجعل الشيء واجبا أو مستحبا بحديث ضعيف ومن قال هذا فقد خالف الإجماع
ائمہ دین میں سے کوئی بھی ضعیف حدیث کی بنیاد پر کسی عمل کو واجب یا مستحب نہیں کہتا۔ اس کا مدعی اجماع امت کا مخالف ہے۔
(مجموع الفتاوى: 251/1)
❀ نیز فرماتے ہیں :
من تعبد لعبادة ليست واجبة ولا مستحبة، وهو يعتقدها واجبة أو مستحبة، فهو ضال مبتدع بدعة سيئة، لا بدعة حسنة، باتفاق أئمة الدين، فإن الله لا يعبد إلا بما هو واجب أو مستحب
ایسی عبادت جو شریعت میں واجب یا مستحب نہیں ہے، اسے واجب یا مستحب سمجھ کر بجا لانے والا گمراہ اور بدعتی ہے۔ اس پر ائمہ دین کا اتفاق ہے کہ اس کی یہ بدعت سیئہ ہے، حسنہ نہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت صرف اسی طریقہ سے کی جائے گی، جو شریعت میں واجب یا مستحب ہے۔
(مجموع الفتاوى: 1608)
❀ علامہ شاطبی رحمۃ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں
في كثير من الأمور يستحسنون أشياء، لم يأت فى كتاب ولا سنة ولا عمل بأمثالها السلف الصالح، فيعملون بمقتضاها ويثابرون عليها، ويحكمونها طريقا لهم مهيعا وسنة لا تخلف، بل ربما أوجبوها فى بعض الأحوال
اہل بدعت بہت سے ایسے کام مستحب سمجھتے ہیں، جن پر کتاب و سنت میں کوئی دلیل نہیں، نہ ہی سلف صالحین نے اس طرح کا کام کیا ہے۔ بدعتی دوام کے ساتھ اس طرح کے کام کرتے ہیں اور انہیں اپنے لیے واضح راستہ اور سنت غیر معارضہ سمجھتے ہیں، بلکہ بعض اوقات اسے واجب بھی قرار دیتے ہیں۔
(الاعتصام: 212/1)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمۃ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں :
صاروا يبتدعون من الدلائل والمسائل ما ليس بمشروع، ويعرضون عن الأمر المشروع
بدعتی ایسے دلائل و مسائل گھڑنے کے درپے ہیں، جن کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں اور جو کام شریعت سے ثابت ہیں، ان سے اعراض برتتے ہیں۔
(شرح العقيدة الطحاوية: 593)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں :
باب العبادات والديانات والتقربات متلقاة عن الله ورسوله، فليس لأحد أن يجعل شيئا عبادة أو قربة إلا بدليل شرعي
عبادات، مسائل دینیہ اور قرب الٰہی کے امور اللہ و رسول سے ہی اخذ کیے جاتے ہیں۔ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ دلیل شرعی کے بغیر کوئی عبادت یا قرب الٰہی کا کوئی طریقہ اختیار کرے۔
(مجموع الفتاوی: 35/31)
❀ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں
لا دين إلا ما شرعه الله، فالأصل فى العبادات البطلان حتى يقوم دليل على الأمر
دین وہی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مشروع قرار دیا ہے۔ عبادات میں قاعدہ یہ ہے کہ جب تک کسی دینی امر پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے، وہ باطل ہے۔
(إعلام الموقعين: 3448)
❀ حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ (774ھ) عبادات کے متعلق فرماتے ہیں
باب القربات يقتصر فيه على النصوص، ولا ينصرف فيه بأنواع الأقياس والآراء
قرب الٰہی کے امور نصوص شرعیہ پر موقوف ہیں۔ ان میں آرا اور قیاس کا کوئی عمل دخل نہیں۔
(تفسير ابن كثير: 401/4)
❀ علامہ شاطبی رحمۃ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں
لا تجد مبتدعا ممن ينسب إلى الملة إلا وهو يستشهد على بدعته بدليل شرعي، فينزله على ما وافق عقله وشهوته
آپ اسلام کے نام لیوا ہر بدعتی کو دیکھیں گے کہ وہ اپنی بدعت پر دلیل شرعی سے استدلال کرتا ہے، پھر اسے اپنی عقل و خواہش کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔
(الاعتصام: 1348)
یاد رہے کہ عبادات کے لیے وقت یا جگہ کا تعین کرنا شریعت کا حق ہے، بندوں کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ عبادات کے لیے جگہ یا وقت کا تقرر کرتے پھریں۔ سلف صالحین نے سختی سے اس کا رد کیا ہے۔
❀ علامہ شاطبی رحمۃ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں
من ذلك تخصيص الأيام الفاضلة بأنواع من العبادات التى لم تشرع بها تخصيصا كتخصيص اليوم الفلاني بكذا وكذا من الركعات أو بصدقة كذا وكذا، أو الليلة الفلانية بقيام كذا وكذا ركعة أو بختم القرآن فيها أو ما أشبه ذلك
عام دنوں کو ایسی عبادات کے ساتھ خاص کرنا، جو ان میں مشروع نہیں ہیں، مثلاً کسی دن کو تعداد رکعات یا مخصوص صدقہ کے ساتھ خاص کرنا یا فلاں رات اتنی اتنی رکعات نماز ادا کرنا یا کسی خاص رات میں قرآن کریم مکمل کرنا وغیرہ۔
(الاعتصام: 12/2)
❀ علامہ ابو شامہ رحمۃ اللہ (665ھ) فرماتے ہیں۔
لا ينبغي تخصيص العبادات بأوقات لم يخصصها بها الشرع، بل يكون جميع أفعال البر مرسلة فى جميع الأزمان، ليس لبعضها على بعض فضل إلا ما فضله الشرع، وخصه بنوع من العبادة، فإن كان ذلك، اختص بتلك الفضيلة تلك العبادة دون غيرها كصوم يوم عرفة وعاشوراء والصلاة فى جوف الليل والعمرة فى رمضان، ومن الأزمان ما جعله الشرع مفضلا فيه جميع أعمال البر كعشر ذي الحجة وليلة القدر التى هي خير من ألف شهر، أى العمل فيها أفضل من العمل فى ألف شهر ليس فيها ليلة القدر، فمثل ذلك يكون أى عمل من أعمال البر حصل فيها كان له الفضل على نظيره فى زمن آخر، فالحاصل أن المكلف ليس له منصب التخصيص، بل ذلك إلى الشارع، وهذه كانت صفة عبادة رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبادات کے لیے وہ وقت خاص کرنا، جو شریعت نے خاص نہیں کیا، جائز نہیں، بلکہ نیکی کا ہر کام کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں کسی وقت کو دوسرے وقت پر فضیلت نہیں، ہاں ان اوقات کو فضیلت حاصل ہے، جنہیں شریعت نے استثنا دیا ہو اور کسی عبادت کے ساتھ خاص کر دیا ہو۔ اگر شریعت نے کوئی وقت کسی عبادت کے لیے خاص کر دیا ہے، تو فضیلت اسی عبادت کے ساتھ خاص ہوگی، دوسری عبادات اس کے ثواب میں شامل نہیں ہو سکتیں، مثلاً یوم عرفہ و عاشورا کا روزہ، آخری رات کی عبادت اور رمضان میں عمرہ۔ بعض اوقات ایسے ہیں، جن میں انسانوں کے تمام اعمال کو فضیلت حاصل ہو جاتی ہے، جیسا کہ ذی الحجہ کے دس دن اور لیلۃ القدر، جو ہزار سال سے بہتر ہے، اس رات کا عمل ایسے ہزار سال کے عمل سے بہتر ہے، جن میں لیلۃ القدر نہ ہو۔ اسی طرح ہر وہ نیکی کا کام، جس میں خاص فضیلت مقرر کر دی گئی ہو، اسے دوسرے وقت میں اپنے جیسے نیکی کے کام پر فضیلت ہوگی۔ خلاصہ کلام یہ کہ مکلف (امتی) کے لیے تخصیص کا منصب نہیں ہے، بلکہ تخصیص شارع کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح عبادت کیا کرتے تھے۔
(الباعث على إنكار البدع والحوادث، ص 165)
اس کتاب میں تقریباً دو درجن غیر مسنون نمازوں پر علمی تحقیقی اور تنقیدی جائزہ پیش کیا گیا ہے، ان کے علاوہ بھی گمراہ صوفیا نے بہت ساری نمازیں گھڑ رکھی ہیں، جن کا ذکر طوالت کے پیش نظر ترک کر دیا گیا ہے، مثلاً دنوں، مہینوں اور جگہوں کے ساتھ مخصوص نمازیں، نماز حفظ ایمان، نماز دفع نفاق، نماز دیدار الٰہی، نماز دیدار نبی صلی اللہ علیہ وسلم، نماز حفظ قرآن، نماز محبت، نماز استحباب، نماز نور، نماز قهر نفس، نماز احیائے قلب، نماز عصمت، نماز خصما، نماز ملاقات الٰہی، نماز لیلۃ الدفن، نماز سعادة الدارین، نماز کفایہ، نماز استعاذہ، نماز فرقان، نماز ادائے حقوق والدین، نماز ہدیۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز صحت، نماز عمر، نماز سعادت اولاد، نماز حفظ جان و مال و اولاد، نماز استخارہ یومیہ، نماز برائے گمشدگی اور صلاۃ الکوثر وغیرہ۔ مولائے کریم سے التجا ہے کہ وہ اس کاوش کو اپنی جناب میں قبول فرما لے، آمین!