فضائلِ مدینہ اور آدابِ زیارتِ مسجد نبویﷺ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالسلام ریسرچ سینٹر کی شائع کردہ کتاب مسنون حج و عمرہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مدینہ منورہ اور مسجد نبویﷺ

مدینہ منورہ:

مسلمانوں کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے۔ اس کے باسیوں نے انتہائی مخدوش اور کڑے حالات میں نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سینے سے لگایا۔ یوں یہ مسلمانوں کا ،،دَارُ الهِجْرَة،، پہلی اسلامی مملکت کا دارالخلافہ اور مجاہدین اسلام کا مرکز و محور بنا۔ [صحيح البخاري، فضائل المدينة، حديث: 1871]

اسے لوگ یثرب کا نام دیا کرتے تھے اور نبی اکرم ﷺ  نے اسے طابہ کا نام دیا۔ [صحیح البخاري، فضائل المدينة، حديث: 1872]

یہ حرم مکی ہی کی طرح حرم [محترم] قرار دیا گیا۔ [صحيح البخاري ، فضائل المدينة، حديث: 1867]

یہ قیامت سے پہلے کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کر دینے والی بھٹی ہے۔ [صحیح البخاري، فضائل المدينة ، حديث: 1883,1871]

یہ بلدہ جمال قیامت تک سلامت رہے گا۔ اس کے خلاف جو بھی مکر و فریب کے جال بنے گا، تباہ و برباد ہو جائے گا۔ [صحيح البخاري، فضائل المدينة، حديث:1877]

اس کے باسیوں کا عمل ایک عرصے تک اسلامی فقہ کا ماخذ رہا۔ اس نے تاریخ اسلام کو فقہائے سبعہ کا تحفہ دیا۔ یہاں بدعات کی ترویج کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت برستی ہے۔ [صحيح البخاري، فضائل المدينة، حديث: 1867]

یہاں مرنا سراسر سعادت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ سے مدینہ منورہ میں شہید ہونے کی دعا کیا کرتے تھے جسے اللہ نے شرف قبولیت سے نوازا۔ [صحيح البخاري، فضائل المدينة، حديث: 1890]

جب آپ ﷺ کسی سفر سے پلٹتے تو مدینہ منورہ کو دیکھتے ہی فرط مسرت سے اپنی سواری کی رفتار تیز فرما دیتے۔ [صحيح البخاري، فضائل المدينة، حديث: 1886] جب ہر طرف تاریکیوں اور فتنوں کا راج ہوگا، ایمان مدینہ میں سمٹ آئے گا۔ [صحيح البخاري ، فضائل المدينة، حديث: 1876]

ہاں یہی وہ مدینہ منورہ ہے جس کے لیے امام الانبیاء ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے برکت کی خصوصی دعا فرمائی: [اللهم اجعل بالمدينة ضعفي ما جعلت بمكة من البركة]

یا اللہ! جتنی برکت تو نے مکہ کو عطا فرمائی ہے مدینہ کو اس سے دگنی برکت عطا فرما۔ [صحيح البخاري، فضائل المدينة، حديث: 1885]

مدینہ منورہ میں کبھی طاعون کی بیماری نہیں پھیلے گی:

نبی ﷺ نے فرمایا:مدینہ کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں۔ مدینہ میں کبھی طاعون پھیل سکتا ہے نہ دجال ہی داخل ہو سکے گا۔ [صحيح البخاري ، فضائل المدينة، حديث: 1880]

مسجد نبوی کی زیارت:

مسجد نبوی ان تین مقامات میں سے ایک ہے جن کی اجر و ثواب کے ارادے سے زیارت کرنا صحیح احادیث سے ثابت ہے، تاہم یہ زیارت حج اور عمرے کے اعمال میں سے نہیں۔ اگر کوئی شخص مسجد نبوی کی زیارت کیے بغیر واپس چلا جاتا ہے تو اس کا حج اور عمرہ مکمل تو ہو جاتا ہے لیکن اسے اس عظیم اجر وثواب سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔ [صحیح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حديث: 1189]

مسجد نبوی ﷺ میں نماز کی فضیلت:

صحیح احادیث کی روشنی میں مسجد حرام کے سوا مسجد نبوی ﷺ میں ایک نماز دیگر مساجد کی نسبت ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ [صحيح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حديث : 1190]

رَوْضَةٌ مِّن رِّيَاضِ الْجَنَّة:

مسجد نبوی میں منبر رسول ﷺ سے لے کر آپ ﷺ کے حجرہ مبارکہ تک کی جگہ کو نبی ﷺ نے روضة من رياض الجنة [باغات بہشت میں سے ایک باغ] قرار دیا ہے۔ [صحیح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حديث: 1195]

نوٹ:

آج کل اس مخصوص جگہ پر ہلکا سبز رنگ کا قالین بچھا ہوا ہے اور ستونوں کا رنگ بھی دیگر ستونوں سے قدرے مختلف ہے۔

مسجد نبوی میں چالیس نمازیں پڑھنے کی فضیلت:

مسجد نبوی میں چالیس نمازوں کی فضیلت کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں، اس لیے وہاں چالیس نمازیں پوری کرنا ضروری نہیں۔

زیارت مسجد نبوی اور درود وسلام:

زائرین کرام ! بلاشبه مدینه منورہ، مسجد نبوی اور روضہ پاک، ان تمام چیزوں کا تعلق ہمارے پیارے نبی ﷺ سے ہے اور اللہ تعالیٰ کے بعد آپ ﷺ کے ہم پر بڑے احسانات ہیں، اس لیے ہمارا فرض ہے کہ ہم دل وجان سے آپ کی تعلیمات اور سنت پر عمل پیرا ہوں۔ آپ کا بیان کیا ہوا مسئلہ سمجھ لینے کے بعد اسے باقی تمام باتوں پر مقدم رکھیں۔ آپ پر، آپ ہی کے سکھلائے ہوئے الفاظ کے ساتھ کثرت سے درود و سلام پڑھیں، تا کہ ہماری دعائیں قبول، سختیاں دور، گناہ معاف اور درجات بلند ہوں۔ اس عظیم تر مقصد کے پیش نظر صحیح احادیث کی روشنی میں مسنون درود و سلام، فضائل و مسائل اور روضہ رسول ﷺ کے آداب زیارت کا بیان درج ذیل ہے:

درود شریف پڑھنے کی فضیلت:

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

[من صلى علي صلاة واحدة صلى الله عليه عشر صلوات وحطت عنه عشر خطيئات ورفعت له عشر درجات]

جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا اللہ تعالیٰ اُس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل فرمائے گا، دس گناہ معاف کرے گا اور دس درجےبلند فرمائے گا۔ [سنن النسائي، السهو، حديث: 1298]

مجلس میں ذکر الہی اور درود شریف کی فضیلت:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس مجلس میں لوگ اللہ کا ذکر نہ کریں اور نبی اکرم ﷺ پر درود نہ بھیجیں وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے باعث حسرت ہوگی، اگر چہ وہ اعمال صالحہ اور ثواب کی بنا پر جنت میں داخل بھی ہو جائیں۔ [مسند أحمد:9965]،[الصحيحة للألباني، حديث:76]

رسول اللہﷺ نے فرمایا : جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا گیا، وہ مجلس قیامت کے روز ان کے لیے باعث حسرت و ندامت ہوگی اور جو آدمی کسی راستے پر چلا اور اس میں اللہ کا ذکر نہ کیا تو یہ چلنا بھی اس کے لیے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگا اور جو آدمی بستر پر لیٹا پھر اللہ کا ذکر نہ کیا تو یہ لیٹنا بھی اس کے لیے قیامت کو باعث ندامت و شرمندگی ہوگا۔ [السنن الكبرى للنسائي، حديث: 10166]،[الصحيحة للألباني، حديث:79]

کثرت سے درود شریف کا ورد:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جب تک کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے اُس وقت تک فرشتے بھی اس کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں، اب چاہے تو کوئی کم پڑھے یا زیاده [سنن ابن ماجه الصلاة حديث: 907]،[فضل الصلاة على النبي للقاضي إسمعيل بن إسحاق الجهضمي، ص: 27]

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ کے کچھ مخصوص فرشتے زمین میں گشت کرتے رہتے ہیں اور میری امت کی طرف سے بھیجا گیا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔ [سنن النسائي، السهو، حديث: 1283]،[فضل الصلاة على النبي، صفحه: 36]

جمعہ اور جمعہ کی رات درود شریف پڑھنے کی تاکید:

رسول الله ﷺ نے فرمایا: [أكثروا الصلاة علي يوم الجمعة وليلة الجمعة فمن صلى علي صلاة صلى الله عليه عشرا]

جمعے کے دن اور جمعے کی رات مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو جس نے مجھ پر ایک دفعہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اُس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا۔ [السن الكبرى للبيهقي:5994]،[الصحيحة للألباني، حديث:3004،1407]

بخیل کون؟

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخیل وہ ہے جس کے ہاں میرا تذکرہ کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔ [جامع الترمذي، الدعوات، حديث: 3546]

تذکرۂ رسول کے وقت درود شریف نہ پڑھنے پر سخت وعید:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:وہ آدمی ذلیل و رسوا ہو جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ درود نہ پڑھے، وہ آدمی ذلیل و رسوا ہو جس نے رمضان کا پورا مہینہ پایا اور وہ اپنے گناہ نہ بخشوا سکا، وہ آدمی بھی ذلیل و رسوا ہو جس کی زندگی میں اُس کے ماں باپ بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جائیں اور وہ ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہو۔ [جامع الترمذي، الدعوات، حديث: 3545]

درود و سلام

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ  [صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء ، حديث: 3370]

◈ سیدنا کعب بن عجرہ رضي اللہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اے اللہ کے رسول! اللہ نے ہمیں [آپ پر] سلام بھیجنا تو سکھلا دیا لیکن آپ ﷺ پر درود کیسے پڑھیں؟ تب آپ نے ان کو درود ابراہیمی کی تعلیم فرمائی۔ [صحيح البخاري، أحاديث الأنبياء، حديث: 3370]

مذکورہ حدیث میں سلام سے مراد مندرجہ ذیل سلام ہے:

السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللهِ الصَّلِحِينَ

اے اللہ کے نبی! آپ پر سلامتی اور اللہ کی رحمت و برکات ہوں۔ ہم پر اور اللہ کے صالح بندوں پر بھی سلامتی ہو۔ [صحيح البخاري، الأذان، حديث: 831]

اس حدیث کی روشنی میں ،،سلام،، کے یہی الفاظ آپ ﷺ کی قبر مبارک پر بھی کہے جاسکتے ہیں۔

مختصر اور مسنون درود و سلام:

فرمانِ الہی ہے: یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا

اے ایمان والو! تم بھی دور د بھیجو اس [ﷺ] پر اور بہت زیادہ سلام بھیجو۔ [الأحزاب:56]

اس فرمان کے مطابق نبی کریم پر صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے الفاظ سے بھی درود و سلام بھیجنا جائز ہے۔ جس کی دلیل صحیح بخاری کی وہ حدیث ہے جس میں خود نبی ﷺ نے انھی الفاظ سے سیدنا موسی علیہ السلام پر درود وسلام بھیجا ہے۔ حدیث کے الفاظ یوں ہیں: [عن النبي ﷺ قال: قام موسى النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا في بني إسرائيل] [صحیح البخاري، العلم، حديث:122]

مذکورہ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم السلام کے لیے بھی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے الفاظ سے درود وسلام بھیجنا جائز ہے۔ نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین عظام اور فقہائے محدثین رحمہم اللہ کے دور سے لے کر آج تک اس مختصر درود و سلام پر مسلسل اور تواتر کے ساتھ عمل چلا آ رہا ہے۔

سیدنا ابو بکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضي اللہ عنہما کے لیے سلام : نبی کریم ﷺ کے روضہ مبارک میں دو جلیل القدر صحابی، خلیفہ رسول سیدنا ابوبکر صدیق اور امیر المؤمنین عمر فاروق  رضی اللہ عنہما استراحت فرما ہیں۔ اس موقع پر ان پر بھی سلام بھیجنا مسلمانوں کا حق ہے، مثلاً: کہا جا سکتا ہے: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا بَكْر، السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا عُمَر

ان الفاظ سے سلام بھیجنا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے عمل سے بھی ثابت ہے۔ [فضل الصلاة على النبي للمحدث الإمام إسماعيل بن إسحاق الجهضمي، ص: 84]

روضہ رسول کی زیارت کے لیے سفر:

مدینہ منورہ پہنچ کر روضہ رسول ﷺ کی زیارت کرنا یقینا ایک مستحب عمل ہے لیکن مسجد نبوی سے صرف نظر کرتے ہوئے صرف روضہ پاک کی زیارت کو مقصود اصلی بنا کر مدینہ طیبہ کا سفر کرنا درست نہیں کیونکہ نبی ﷺ نے مسلمانوں کو صرف تین مساجد [مسجد حرام، مسجد نبوی اور مسجد اقصیٰ] کی طرف نیکی کی نیت سے سفر کی اجازت دی ہے۔ [صحیح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة، حديث: 1189]

اس لیے زائر کو چاہیے کہ مدینہ منورہ جاتے وقت مسجد نبوی کی زیارت کو مقصود اصلی بنائے اور اس کے بعد روضہ رسول ﷺ کی زیارت کی چاہت بھی کرے تا کہ مذکورہ حدیث پر کما حقہ عمل ہو سکے۔

روضہ رسول ﷺ کی زیارت کے وقت نہایت خاموشی اور ادب و احترام کے ساتھ روضہ مبارک کے سامنے سے گزرتے ہوئے مذکورہ مسنون درود و سلام پڑھ کر حُب رسول ﷺ کا حق ادا کیجیے۔

مسجد قبا کی زیارت:

نبی کریم ﷺ کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر مسجد قبا کی زیارت فرمایا کرتے تھے۔ [صحيح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة حديث: 1193]

مسجد قبا میں نماز پڑھنے کی فضیلت:

نبی ﷺ نے فرمایا: جو شخص [گھر سے] مسجد قبا میں آ کر نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے عمرے کے برابر ثواب ہے۔ [سنن النسائي، المساجد، حديث: 700]

زیارت قبور:

مسجد نبوی کے قریب ہی بَقِيعُ الْغَرْقَد المعروف جَنَّةُ البقيع، یعنی قبرستان ہے جہاں سینکڑوں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ائمہ حدیث اور صلحائے امت یہ مدفون ہیں۔ اسی طرح جبل احد کے دامن میں ستر شہدائے احد دفن ہیں۔ ان سب کے لیے دعائے مغفرت کرنی چاہیے۔نبی ﷺ جب بقیع غرقد کی زیارت فرماتے تو یہ دعا پڑھتے تھے:

يَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِينَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ

اللہ تعالیٰ ہم میں سے آگے آنے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں پر رحم فرمائے۔ اے اللہ! اہل بقیع الغرقد کو معاف فرما دے۔ [صحیح مسلم، الجنائز، حدیث: 974]

آخرت کو یاد کرنے کے لیے قبروں کی زیارت کرنی چاہیے اور زیارت کے وقت یہ دعا کرنی چاہیے:  السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلَاحِقُونَ [يَرْحَمُ اللهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَ الْمُسْتَأْخِرِينَ]نَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ

اے ان گھروں کے رہنے والے مومنو اور مسلمانو! تم پر سلامتی ہو، بلا شبہ ہم بھی إِن شَاءَاللہ تمھارے پاس آنے والے ہیں۔ اللہ ہمارے پہلوں اور پچھلوں پر رحم فرمائے۔ ہم اپنے لیے اور تمھارے لیے اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم، الجنائز ، حديث: 975]

مدینہ منورہ کے یہ وہ تین مقامات ہیں جن کی زیارت مسنون ہے۔ باقی رہیں مساجد سبعه، مسجد قبلتین اور دیگر کچھ مقامات تو ان کی زیارت کا ثواب سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہاں البتہ اسلامی تاریخ کی حیثیت سے ان کی زیارت کی جاسکتی ہے۔

حج سے واپسی:

نبی ﷺ جب جنگ یا حج اور عمرے سے مدینہ منورہ لوٹتے تو [دوران سفر] اونچی جگہ [ٹیلے اور پہاڑی وغیرہ] پر چڑھتے ہوئے تین مرتبہ ،،اللهُ أَكْبَرُ،، کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ ، وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، آيِبُونَ ، تَائِبُونَ ، عَابِدُونَ ، سَاجِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ

اللہ کے سوا کوئی [سچا] معبود نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس کے لیے بادشاہت اور اسی کے لیے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ ہم واپس آنے والے، تو بہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، سیر کرنے والے، سجدے کرنے والے اور اپنے رب کی حمد بیان کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔ اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے [مخالف] لشکروں کو شکست دی۔ [صحيح المسلم، الحج، حديث: 1344]

واپسی پر کھانے کا اہتمام کرنا:

رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ سفر سے واپس آتے شکرانے اور خوشی کے طور پر اونٹ یا گائے ذبح کرتے۔ [صحیح البخاري، الجهاد، حديث: 3089]

لہذا حجاج کرام اور معتمرین حضرات کو چاہیے کی اس مقدس سفر کے آغاز میں دعوت کا اہتمام کرنے کی بجائے واپسی پر دعوت کو معمول بنائیں۔یہی اسوۂ رسول ﷺ ہے۔

چند ضروری ہدایات

◈ حجاج کرام کو چاہیے کہ وزارت مذہبی امور کی طرف سے جاری کردہ جملہ ہدایات کا بغور مطالعہ کریں، اور ان پر سنجیدگی سے عمل کریں اور ہر موقع پر ملکی وقار کا خیال رکھیں اور اسلامی شعائر کا اہتمام کریں۔

◈ حج کے موضوع پر لکھی گئی اس کتاب کا اچھی طرح سے مطالعہ کریں، اور وقتا فوقتا راسخ اور مستند علمائے کرام سے رہنمائی حاصل کرتے رہیں۔ مکہ مکرمہ میں سرکاری طور پر بھی جگہ جگہ دارالافتاء قائم کئے گئے ہیں، جہاں تقریبا ہر زبان کے علماء موجود ہوتے ہیں وہاں سے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

◈ حج و عمرے کے سفر سے قبل سابقہ گناہوں سے توبہ کریں اور آئندہ سنت کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کریں۔

◈ اپنے ساتھ نہایت ضروری اور کم سے کم سامان لے جائیں اور اپنی سفری دستاویزات اور ان کی نقول بھی حفاظت سے رکھیں۔

◈ عمر رسیدہ بزرگ حضرات یا چھوٹے بچے ان کو وہاں کی کمپنی کے علاوہ اپنا ذاتی کارڈ ضرور دیں جس پر آپکے اپنے ذاتی ایک دو نمبر اور پتا درج ہو، کیونکہ کمپنیوں کے دیئے گئے کارڈ ہر آدمی نہیں سمجھ سکتا۔

◈ مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد اپنا جملہ سامان اپنی رہائشگاہ پر حفاظت سے رکھیں۔

◈ طواف سعی اور اجتماعی مناسک کے دوران میں اپنے پاس ضرورت سے زائد نقدی یا قیمتی چیز نہ رکھیں۔

◈ منی، عرفات اور مزدلفہ جاتے ہوئے صرف ضرورت کا سامان لے جائیں۔

◈ مکہ منی اور عرفات میں دھوپ میں چھتری استعمال کریں اور پانی خوب پیئیں اور زائد ازضرورت کھانے پینے سے از حد احتیاط برتیں۔

◈ عمومی اور خصوصی دعاؤں میں اپنے عزیز واقارب، دوست احباب، تمام اہل اسلام، علماء، مجاہدین اور اپنے وطن عزیز کی سلامتی کے لیے بھی دعائیں کریں۔

◈ہم بھی تمام حجاج کرام کے لیے تہ دل سے دعا گو ہیں کہ رب کریم تمام کو اپنی حفظ و امان میں رکھے، خیریت سے لے جائے اور عافیت سے لے آئے اور تمام مسلمانوں کی عبادات کو شرف قبولیت سے نوازے۔