فرضیت، فضیلت اور مقصد روزہ :۔
فرضیت :۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ(البقرۃ : 183)
”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔“
اس آیت کریمہ سے معلوم ہوا کہ روزہ ان احکامات شرعیہ میں سے ہے جن کا ذکر سابقہ آسمانی ادیان میں موجود ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
بني الإسلام على خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة والحج وصوم رمضان
بخاري کتاب الايمان باب دعاؤکم ایمانکم (8) ، مسلم کتاب الایمان باب بیان ارکان الاسلام (16)
”اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے : اس بات کی شہادت دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان المبارک کا روزہ رکھنا۔“
روزہ کی فضیلت :۔
اس حدیث نبوی سے معلوم ہوا کہ روزہ اسلام کی ایسی اہم عبادت ہے جسے اسلام کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ روزہ اپنے اندر ایک عجیب خصوصیت رکھتا ہے کہ یہ ریاکاری اور دکھلاوے سے کوسوں دور اور چشمِ اغیار سے پوشیدہ سراپا اخلاص اور عابد و معبود، ساجد و مسجود کے درمیان ایک راز ہے۔ اس کا علم روزہ دار اور حق تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے کو نہیں ہوتا۔ جیسے دیگر عبادات نماز، حج، جہاد وغیرہ کی ایک ظاہری ہیئت و صورت ہوتی ہے، روزے کی اس طرح کوئی ظاہری شکل و صورت موجود نہیں جس کی وجہ سے کوئی دیکھنے والا اس کا ادراک کر سکے۔ جیسے روزہ رازق و مرزوق اور مالک و مملوک کے درمیان ایک سرو راز ہے، اسی طرح اس کے ثواب و بدلہ کا بھی عجیب معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ روزے کا بدلہ اور ثواب جب عطا کرے گا تو فرشتوں کو ایک طرف کر دے گا اور اس کا اجر و ثواب خود عطا کرے گا۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم نقل فرماتے ہیں :
كل عمل ابن آدم يضاعف، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبع مائة ضعف، قال الله تعالى: إلا الصوم فإنه لي وأنا أجزي به، يدع شهوته وطعامه من أجلي
مشكوة (1959) ، بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذا شتم (1904) ، مسلم کتاب الصيام باب فضل الصيام (1151)
”آدم کے بیٹے کے تمام اعمال بڑھا دیے جائیں گے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : روزہ چونکہ صرف میرے لیے ہی رکھا گیا ہے، میں ہی اس کی جزا عطا کروں گا۔ (دنیا میں) روزہ دار نے اپنی خواہش اور کھانا میری خاطر ترک کیا تھا۔“
أجزي لفظ کو اگر بصیغہ مجہول یعنی أجزى پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ ”روزے کا بدلہ میں خود ہوں۔“ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے روزہ دار کے لیے جنت میں ایک خاص دروازہ بنا دیا ہے جس کا نام ”باب الریان“ ہے۔
ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
في الجنة ثمانية أبواب، منها باب يسمى الريان، لا يدخله إلا الصائمون
مشكوة (1957) عن سهل بن سعد رضی اللہ عنہ ، بخاری کتاب بدء الخلق باب صفة ابواب الجنة (3257) ، مسلم کتاب الصيام فضل الصيام (1152)
”جنت میں آٹھ دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازے کا نام ”الریان“ ہے، اس سے روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا۔“
ایک اور ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :
إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب السماء، وفي رواية : فتحت أبواب الجنة، وغلقت أبواب جهنم، وسلسلت الشياطين
مشكوة عن ابى هريرة رضی اللہ عنہ (1952) ، بخارى كتاب الصوم باب هل يقال رمضان او شهر رمضان (1899) ، مسلم کتاب الصیام باب فضل شهر رمضان (1079)
”جب رمضان المبارک کا مہینہ (مؤمنوں پر) داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے (اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے) کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔“
مذکورہ بالا احادیث صحیحہ صریحہ سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کے لیے جنت کے دروازے اللہ تبارک و تعالیٰ کھول دیتا ہے اور ان کے لیے جنت میں ایک خصوصی دروازہ بھی ہے جسے ”باب الریان“ کہتے ہیں۔ اللہ کی وسیع جنت کا حصول عقائدِ صحیحہ اور اعمالِ صالحہ سے ہی ہوتا ہے، لیکن بعض لوگ ایسے بھی اس کائنات میں موجود ہیں جو صحیح عقیدے سے محروم اور اعمالِ بد کے دلدادہ ہیں، افیون و چرس اور ہیروئن کے رسیا، بدکاری اور شراب نوشی سے مخمور دلدادہ، حلال و حرام کی پابندیوں سے آزاد، عفت و عصمت کی چادر کو تار تار کرنے والے، حیا و غیرت کا جنازہ نکال دینے والے اور پلید و گندی زبانوں سے دمادم مست قلندر، علی دا پہلا نمبر، نہ نیتی نہ قضا کیتی جیسے نعرے لگانے والوں نے اپنی نجات کے لیے قرآن و حدیث کی تعلیمات کے برعکس معیار و ذرائع اپنا رکھے ہیں۔ اللہ کی جنت ایسی ہے جو ان خرافات سے مبرا ہے اور وہ اہل توحید، مؤمنین و مجاہدین اور اللہ کے نیک و صالح بندوں کے لیے بنائی گئی ہے جو عقائد و اعمال کے اعتبار سے نفیس ترین لوگ ہیں اور فرائض کی پابندی کرنے والے اور نوافل و تطوع کو خوش دلی، رغبت و اشتہاء اور ذوق و شوق سے سرانجام دینے والے ہیں۔
روزے کا مقصد :۔
اللہ وحدہ لا شریک نے فرضیتِ روزہ والی آیتِ کریمہ میں اس کا مقصد تقویٰ و پرہیزگاری، خوفِ باری تعالیٰ اور للّٰہیت کا حصول بتایا ہے۔ روزہ انسان کو ایسی قوتِ برداشت سکھاتا ہے جس کی بنا پر انسان اپنے نفس پر کنٹرول کر سکتا ہے اور روزہ رکھنے سے انسان کے اندر ایسا ملکہ پیدا ہوتا ہے جس کے باعث آدمی اپنے آپ کو تمام اعمالِ سیئہ، اخلاقِ رذیلہ اور عاداتِ شنیعہ سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اس کے لیل و نہار رسوماتِ قبیحہ سے مبرا اور صاف و شفاف ہو جاتے ہیں۔ شب و روز ذکرِ باری تعالیٰ، تقویٰ و پرہیزگاری، حلاوتِ ایمانی، انابت الی اللہ، زہد و تقویٰ، رکوع و سجود، تسبیح و تہلیل، خشوع و خضوع، صبر و تحمل، بردباری، سنجیدگی و متانت جیسی صفاتِ عالیہ میں مصروفِ عمل دکھائی دیتا ہے۔ روزہ انسان کو ایسی عظیم خوبی سے ہمکنار کرتا ہے جس کی وجہ سے یہ محرمات سے اجتناب کر سکتا ہے اور دورانِ روزہ جو اشیاء اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دی ہیں، ان سے بچ کر یہ سبق سیکھ لیتا ہے کہ اگر میرے لیے وقتی طور پر حلال اشیاء سے پرہیز کرنا آسان ہے تو مستقل اور ابدی حرام چیزوں سے بچنا کوئی مشکل نہیں۔