فجر کی نماز کا حکمِ روشنائی اور اس کا مفہوم

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

حدیث:” فجر کو روشن کر کے پڑھیں کہ اس میں زیادہ اجر ہے۔ “کا مفہوم کیا ہے؟

جواب:

یہ روایت منسوخ ہے، اس کی ناسخ حدیث ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، جس میں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک فجر اندھیرے میں پڑھنا بیان کیا ہے۔ اگر اس روایت کو منسوخ نہ بھی مانا جائے، تو امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کو روشن کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ اس حکم کی علت اسی کے اندر چھپی ہوئی ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ صبح کی نماز اندھیرے میں پڑھتے تھے اور چاندنی راتوں کی صبح جب آدمی اندھیرے میں نماز پڑھنے کا ارادہ کرے، تو بسا اوقات اس کی نماز طلوع فجر سے پہلے ہی پڑھی جا سکتی ہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی دیر روشن کرنے کا حکم دیا، جتنی دیر طلوع فجر کا یقین نہ ہو جائے اور فرمایا: آپ جتنی صبح کریں گے، (اتنا ہی زیادہ اجر ہوگا)، آپ کا یہ فرمان کی مراد یہ ہے کہ آپ صبح کے طلوع ہونے کا یقین کریں گے، تو یہ کام شک میں نماز ادا کرنے سے اجر میں بڑھ کر ہوگا۔“
(صحیح ابن حبان: 356/4)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️