مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

فجر کی اذان میں الصلوٰۃ خیر من النوم کا درست جواب کیا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 121

سوال:

صبح کی اذان میں "الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ” کے جواب میں کیا کہا جائے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب صبح کی اذان میں الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ کہا جائے تو اس کے جواب میں الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِّنَ النَّوْمِ ہی کہا جائے گا۔

یہی طریقہ دیگر اذان کے کلمات کے جواب میں بھی اختیار کیا جاتا ہے، جیسا کہ جب مؤذن کہے:

اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ
تو سامع بھی یہی الفاظ دہراتا ہے:

اَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ

اس بات کی دلیل رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

«إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ»
(صحیح حدیث)

یعنی:
"جب تم مؤذن کو سنو تو وہی کہو جو وہ کہتا ہے”

البتہ اذان کے ان الفاظ:
"حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ” اور "حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ”
کا جواب یہ دیا جائے گا:

لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ

اس کے لیے خاص دلیل موجود ہے۔

جہاں تک تعلق ہے ان الفاظ کے جواب میں یہ کہنا کہ:

صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ وَبِالْحَقِّ نَطَقْتَ

تو یہ بات رسول اللہ ﷺ سے نہ قولاً، نہ فعلاً، اور نہ ہی تقریراً (یعنی آپ ﷺ کے سامنے کسی نے ایسا کہا ہو اور آپ ﷺ نے اس پر خاموشی اختیار کی ہو) ثابت ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔