سوال:
درج ذیل روایت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی، سلام پھیرنے کے بعد فرمایا:
هل قرأ معي منكم أحد؟ فقال رجل: نعم أنا، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: إني أقول: ما بالي أنازع القرآن؟
کیا کسی نے میرے ساتھ قرآت کی؟ ایک شخص نے کہا: جی ہاں، میں نے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی کہوں کہ مجھ پر قرآن پڑھنا مشکل کیوں ہو رہا ہے؟
(مسند الحميدي: 983)
اس حدیث کے آخر میں یہ اضافہ بھی ہے:
فانتهى الناس عن القراءة، فيما جهر به رسول الله صلى الله عليه وسلم
جہری نماز میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قرآت کرنے سے رک گئے۔
جواب:
حدیث کا پہلا حصہ صحیح ثابت ہے، البتہ آخری کلام حدیث کا حصہ نہیں، بلکہ امام زہری رحمہ اللہ کا مدرج قول ہے۔ نیز اس کا معنی یہ ہے کہ اس حدیث کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جہری نمازوں میں فاتحہ کے بعد والی قرآت کرنے سے رک گئے۔ اس سے امام کے پیچھے فاتحہ نہ پڑھنے کا استدلال کرنا درست نہیں۔
قال الزهري: قال أبو هريرة: فانتهى الناس
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: لوگ (جہری نمازوں میں فاتحہ کے بعد قرآت کرنے سے) رک گئے۔
(سنن أبي داود، تحت الحديث: 827)
یہ قول منقطع ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔ معمر رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو زہری رحمہ اللہ کا ادراج قرار دیا ہے۔
(مسند الإمام أحمد، تحت الرقم: 7270)
❀ امام محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قوله: فانتهى الناس من كلام الزهري
فانتهى الناس زہری رحمہ اللہ کا کلام ہے۔
(سنن أبي داود، تحت الرقم: 827)
❀ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (241ھ) فرماتے ہیں:
الذي نرى أن قوله: فانتهى الناس عن القراءة أنه قول الزهري
ہماری تحقیق کے مطابق فانتهى الناس عن القراءة کے الفاظ زہری رحمہ اللہ کا ادراج ہیں۔
(مسائل أحمد برواية ابنه صالح: 282/2)
❀ امام بخاری رحمہ اللہ (256ھ) فرماتے ہیں:
قوله: فانتهى الناس من كلام الزهري
فانتهى الناس زہری رحمہ اللہ کا کلام ہے۔
(جزء القراءة خلف الإمام، تحت الرقم: 68)
❀ خطیب بغدادی رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
الصحيح أنه كلام ابن شهاب الزهري
صحیح یہی ہے کہ یہ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ کا کلام ہے۔
(الفصل للوصل: 292/1)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
إن قوله: فانتهى الناس عن القراءة إلى آخره ليست من الحديث، بل هي من كلام الزهري مدرجة فيه، هذا متفق عليه عند الحفاظ المتقدمين والمتأخرين منهم؛ الأوزاعي، ومحمد بن يحيى الذهلي، والبخاري، وأبو داود، والخطابي، والبيهقي، وغيرهم
فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حدیث کا حصہ نہیں، بلکہ یہ زہری رحمہ اللہ کا مدرج کلام ہے۔ پہلے اور بعد والے حفاظ حدیث کا اس پر اتفاق ہے، جن میں امام اوزاعی رحمہ اللہ، امام محمد بن یحییٰ ذہلی رحمہ اللہ، امام بخاری رحمہ اللہ، امام ابو داود رحمہ اللہ، حافظ خطابی رحمہ اللہ اور حافظ بیہقی رحمہ اللہ وغیرہ شامل ہیں۔
(خلاصة الأحكام: 378/1)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
قوله: فانتهى الناس عن القراءة إلى آخره مدرج فى الخبر من كلام الزهري، بينه الخطيب واتفق عليه البخاري التاريخ وأبو داود ويعقوب بن سفيان والذهلي والخطابي وغيرهم
فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ حدیث میں زہری رحمہ اللہ کا مدرج کلام ہے، جس کی صراحت خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے کی ہے۔ اس پر امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں، امام ابو داود رحمہ اللہ، امام یعقوب بن سفیان فسوی رحمہ اللہ، امام ذہلی رحمہ اللہ اور حافظ خطابی رحمہ اللہ وغیرہ نے اتفاق کیا ہے۔
(التلخيص الحبير: 565/1)