غیر مسلم کو خون دینے کا شرعی جواز

مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

غیر مسلم کو خون دینے کا حکم

میں اس میں کوئی ممانعت نہیں جانتا، کیونکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب عظیم میں فرماتے ہیں:
«لا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ» [الممتحنة: 8]
”اللہ تمھیں ان لوگوں سے منع نہیں کرتا جنھوں نے نہ تم سے دین کے بارے میں جنگ کی اور نہ تمھیں تمہارے گھروں سے نکالا کہ تم ان سے نیک سلوک کرو اور ان کے حق میں انصاف کرو۔“
اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ہم کو ان کفار کے ساتھ اچھائی اور حسن سلوک کرنے سے نہیں روکتا، جنھوں نے ہمارے ساتھ لڑائی کی، نہ ہم کو ہمارے گھروں سے نکالا۔ اور مجبور کو طبی امداد کی شدید ضرورت ہوتی ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل مکہ کے درمیان صلح کے ایام میں حضرت اسماء بنت ابوبکر کی والدہ، جو کافر تھی، اپنی بیٹی کے پاس آئی اور اس سے صلہ رحمی کا سوال کیا تو حضرت اسما نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتوی طلب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کا فتوی دیا اور کہا: ”اپنی ماں کے ساتھ صلہ رحمی کر۔“ حالانکہ وہ کافر تھی۔
جب کوئی معاہد (وہ کافر جو کسی معاہدے کے تحت کسی مسلمان ملک میں آیا ہو) یا امن دی گئی سر زمین کا کافر، جس کے اور ہمارے درمیان لڑائی نہ ہوں اس کے لیے مجبور ہو تو اس کو خون کا عطیہ دینے میں کوئی حرج نہیں، جس طرح اگر وہ مردار کھانے کے لیے مجبور ہو جاتا۔ تاہم تجھ کو اس کا اجر ملے گاکیونکہ خون کے ضرورت مند کی مدد کرنے میں تمہارے لیے کوئی ممانعت نہیں۔
[ابن باز: نور على الدرب: 375/1]

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️