غیر مسلم مریض کی عیادت کا شرعی حکم

مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

نصرانی کی ملا قات کا حکم

عیسائی یا کسی دوسرے کافر کی ملاقات کے لیے جانا، اگر وہ مریض ہو تو یہ حقیقت میں ملاقات نہیں بلکہ عیادت ہوتی ہے، کیونکہ مریض کے پاس بار بار جایا جاتا ہے۔ اگر اس میں کوئی مصلحت ہو، جیسے اس کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے اس کی ملاقات کے لیے جانا تو یہ سراسر بھلائی ہے، اگر کوئی مصلحت نہ بھی ہو تب بھی اس کی عیادت کرنی چاہیے۔ اگر کوئی اور سبب ہو جو اس کی ملاقات کا تقاضا کرتا ہو، مثلاًً وہ رشتے دار ہو یا پڑوسی ہو یا کوئی اس جیسا سبب تو پھر بھی اس کی ملاقات میں کوئی حرج نہیں، وگرنہ اس کی عیادت نہ کرنا ہی بہتر ہے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 5/21]

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️