ایک ہی پلیٹ میں مشرکوں کے ساتھ کھانا
مسلمان کو بری مجالس سے بچنا چاہیے، مشرکین اور یہود و نصاری کی مجالس بھی انھی میں شامل ہیں، لہٰذا بقدر امکان ان سے دور رہے، لیکن اگر کسی ضرورت کی وجہ سے وہ ان کے ساتھ کھانے پر مجبور ہو تو اس کو معذور سمجھا جائے گا، جس طرح آج بہت سے ایسے ادارے ہیں جن میں مسلمان اور کافر اکٹھے کام کرتے ہیں اور مسلمان ان کے ساتھ اکٹھ سے بچ نہیں سکتا، لیکن میں کہتا ہوں کہ اس میں خیر کا پہلو یہ ہے کہ مسلمان ان کے سامنے اسلام کی خوبیاں پیش کرے اور ان کو اس کی دعوت دے، شائد اللہ تعالیٰ انہیں ہدایت دے دے اور وہ اس اجر عظیم کا مستحق ہو جائے جس کا ذکر رسول کریم صلى اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خیبر بھیجتے وقت کیا تھا اور ان سے کہا تھا:
”ان کو اسلام کی دعوت دینا۔ خدا کی قسم ! اگر اللہ تیرے ذریعے سے کسی ایک آدمی کو بھی ہدایت دے دے تو وہ تمہارے لیے سرخ
اونٹوں سے بہتر ہوگا۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 2942 صحيح مسلم 2406/34]
اور سرخ اونٹ عرب کے ہاں قیمتی ترین اور اعلٰی مال تھا۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 4/21]