مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

غیر مدخولہ کا شوہر فوت ہو جائے تو کیا اس پر عدت ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

غیر مدخولہ کا شوہر فوت ہو جائے تو کیا اس پر عدت ہے؟

جواب:

غیر مدخولہ کا شوہر فوت ہو جائے، تو مدخولہ کی طرح اس کی عدت بھی چار ماہ دس دن ہے، کیونکہ قرآن کریم نے غیر مدخولہ کو مستثنیٰ نہیں کیا۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على أن عدة الحرة المسلمة من وفاة زوجها أربعة أشهر وعشرا مدخولا بها أو غير مدخول بها، صغيرة كانت أم كبيرة، تقيم المعتدة فى المنزل الذى كانت تسكنه أيام حياة زوجها إلا أن تخرج منه فيكون لها عذر فى الخروج
اہل علم کا اجماع ہے کہ آزاد مسلمان عورت کا شوہر فوت ہو جائے، تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، خواہ وہ عورت مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ ہو، نابالغہ ہو یا بالغہ ہو۔ عدت والی عورت اسی گھر میں قیام کرے گی، جس میں وہ خاوند کی زندگی میں قیام پذیر تھی، البتہ عذر کی صورت میں گھر سے نکل سکتی ہے۔
(الإقناع: 324/1)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
هذا أمر مجمع عليه بين العلماء أن المرأة إذا طلقت قبل الدخول بها لا عدة عليها فتذهب فتتزوج فى فورها من شاءت، ولا يستثنى من هذا إلا المتوفى عنها زوجها، فإنها تعتد منه أربعة أشهر وعشرا، وإن لم يكن دخل بها بالإجماع أيضا
علمائے کرام کا اجماعی عقیدہ ہے کہ غیر مدخولہ کی طلاق کی کوئی عدت نہیں، وہ جس سے چاہے فوراً شادی کر سکتی ہے۔ ہاں وہ عورت اس حکم سے خارج ہے، جس کا خاوند فوت ہو جائے، کیونکہ اس پر بھی اجماع ہے کہ خواہ وہ غیر مدخولہ ہی کیوں نہ ہو، چار مہینے دس دن عدت گزارے گی۔
(تفسير ابن كثير: 194/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔