غير عادل ، خائن ، دشمن ، جسے تہمت لگی ہو ایک گھر سے وابستہ شخص ، اور قاذف (تہمت لگانے والے ) کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
➊ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ [الطلاق: 2]
”اپنے میں سے دو عادل افراد کو گواہ بناؤ ۔“
➋ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ [البقرة: 282]
” (انہیں گواہ بناؤ ) جنہیں تم گواہوں میں سے پسند کر لو ۔“
➌ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا [الحجرات: 6]
”اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو ۔“
➍ اس بات پر اجماع ہے کہ فاسق کی گواہی قبول نہیں ہو گی ۔
[البحر الزخار: 24/5 ، نيل الأوطار: 387/5 ، الروضة الندية: 562/2]
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجوز شهادة خـائـن ولا خائنة ولا ذى غــمـر على أخيه ولا تجوز شهادة القانع لأهل البيت
”خائن مرد اور خائن عورت کی گواہی جائز نہیں ، اور کینہ رکھنے والے کی گواہی اس کے بھائی کے خلاف جائز نہیں اور جو شخص کسی دوسرے کے زیر کفالت ہو اس کی گواہی کفیل خاندان کے حق میں جائز نہیں ۔“
[حسن: صحيح ابو داود: 3067 ، كتاب القضاء: باب من ترد شهادته ، احمد: 181/2 ، ابو داود: 3600 ، دار قطني: 528 ، بيهقي: 200/10 ، تاريخ دمشق لابن عساكر: 187/15 ، شيخ حازم على قاضي نے اسے حسن كها هے ۔ التعليق على سبل السلام: 1931/4]
ایک روایت میں یہ لفظ ہیں:
لا تجوز شهادة خائن ولا خائنة ولا زان ولا زانية
”خائن مرد اور خائن عورت کی گواہی جائز نہیں ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3068 ، كتاب القضاء: باب من ترد شهادته ، ابو داود: 3601 ، تلخيص الجير: 198/4 ، إرواء الغليل: 2669]
(جمہور ، شافعیؒ ، مالکؒ ، احمدؒ ) دشمن کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
(ابو حنیفہؒ ) دشمن کی گواہی قبول کی جائے گی ۔
[الأم: 16/7 – 88 ، المبسوط: 133/16 ، المغنى: 174/14 ، بداية المجتهد: 464/2]
(راجح ) برحق بات یہی ہے کہ دشمن کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
[نيل الأوطار: 387/5]
اس بات پر بھی اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے کہ غلام کی اپنے مالک کے حق میں گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
[البحر الزخار: 36/5 ، الروضة الندية: 564/2]
ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :
وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [النور: 4]
”جو لوگ پاکدامنہ عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کر سکیں تو انہیں اسیّ (80) کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو یہ فاسق لوگ ہیں ۔
توبہ کے بعد قاذف کی گواہی قبول ہو گی یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ استثناء کا مرجع دو جملے:
وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [النور: 4]
ہیں یا ایک جمله
وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ [النور: 4]
(مالکؒ ، شافعیؒ ، احمدؒ ) ان کے نزدیک استثنا کا مرجع دونوں جملے ہیں لٰہذا قاذف کی گواہی توبہ کے بعد قبول کی جائے گی ۔
ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ آیت میں واضح اشارہ موجود ہے کہ :
إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا [النور: 5]
”مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں ۔“
➋ حدیث نبوی ہے کہ :
التائب من الذنب كمن لا ذنب له
”گناہ سے توبہ کرنے والا شخص اس طرح ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہیں ۔“
[صحيح: صحيح ابن ماجة: 3427 ، كتاب الزهد: باب ذكر التوبة ، ابن ماجة: 4250]
➌ کفر قذف سے بڑا جرم ہے جب کافر کی توبہ قبول ہے تو قاذف کی کیوں نہیں؟
➍ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تین آدمیوں کو زنا کی حد لگائی اور انہیں کہا:
توبوا تقبل شهادتكم فتاب رجلان ولم يتب أبو بكرة فكان لا يقبل شهادته
”توبہ کر لو تمہاری گواہی قبول کی جائے گی تو دو آدمیوں نے توبہ کر لی لیکن ابو بکرہ نے نہیں کی پھر ابو بکرہ کی گواہی قبول نہیں کی جاتی تھی ۔“
[مصنف عبد الرزاق: 384/7 ، 13564]
(ابو حنیفہؒ ) استثنا کا مرجع صرف آخری جملہ ہے ۔ یعنی توبہ کے بعد فسق کی صفت تو ختم ہو جائے گی لیکن گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
ان کے دلائل حسب ذیل ہیں:
➊ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے قاذف کی گواہی قبول نہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے: ابداً کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ تہمت لگانے والے کی کبھی بھی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ۔
➋ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی جانب لکھ کر بھیجا:
المسلمون عدول بعضهم على بعض إلا مجلود فى حد
”مسلمان ایک دوسرے پر عادل ہیں مگر وہ جسے کسی حد میں کوڑے لگائے گئے ہوں ۔“
[صحيح: إرواء الغليل: 2619 ، ابن أبى شيبة: 17/6 ، دار قطني: 207/4 ، بيهقي: 135/10]
واضح رہے کہ جسے کسی حد میں تہمت لگی ہو اس کا غیر عادل ہونا اور لفظ أبدا سے ہمیشہ گواہی قبول نہ کرنے کا استدلال اس وقت تک ہو سکتا ہے جب تک وہ توبہ نہ کرے اور جب وہ توبہ کر لے تو ان شاء الله وہ شخص ایسے ہی ہے جیسے اس پر کوئی گناہ تھا ہی نہیں ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: التعليق على الروضة الندية للشيخ صبيحي حسن خلاق: 566/2 ، فتح الباري: 98/7 ، المحلى بالآثار: 529/8 – 530]
(ابن حزمؒ ) توبہ کے بعد گواہی قبول کر لی جائے گی ۔
[ايضا]
(بخاریؒ ) صحیح بخاری میں رقمطراز ہیں کہ ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ پر تہمت لگانے کی وجہ سے ابو بکرہ ، شبل بن معبد اور نافع کو کوڑے لگائے پھر انہیں توبہ کرنے کا کہا اور فرمایا:
من تاب قبلت شهادته
”جو توبہ کرے گا میں اس کی گواہی قبول کروں گا ۔“
[بخارى: قبل الحديث / 2648 ، كتاب الشهادات: باب شهادة القاذف والسارق والزاني]
(جمہور ) توبہ کے بعد قاذف کی گواہی قبول کی جائے گی ۔
[فتح الباري: 98/7]
(راجح) جمہور کا موقف راجح ہے ۔