سوال:
غیر اللہ کے لیے نذر و نیاز کا کیا حکم ہے؟
جواب:
نذر عبادت ہے اور مخلوق کی عبادت جائز نہیں۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
قد اتفق العلماء على أنه لا يجوز لأحد أن ينذر لغير الله لا نبي ولا لغير نبي وأن هذا النذر شرك لا يوفى به
اہل علم کا اتفاق ہے کہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ غیر اللہ کے لیے نذر مانے، خواہ نبی ہو یا غیر نبی۔ یہ نذر شرک ہے، اسے پورا نہیں کیا جائے گا۔
(مجموع الفتاوى: 1/286)
❀ علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
أما النذور المعروفة فى هذه الأزمنة على القبور والمشاهد والأموات فلا كلام فى تحريمها لأن الناذر يعتقد فى صاحب القبر أنه ينفع ويضر، ويجلب الخير ويدفع الشر، ويعافي الأليم، ويشفي السقيم، وهذا هو الذى كان يفعله عباد الأوثان بعينه فيحرم كما يحرم النذر على الوثن ويحرم قبضه لأنه تقرير على الشرك، ويجب النهي عنه وإبانة أنه من أعظم المحرمات وأنه الذى كان يفعله عباد الأصنام، لكن طال الأمد حتى صار المعروف منكرا والمنكر معروفا وصارت تعقد اللواءات لقبض النذور على الأموات، ويجعل للقادمين إلى محل الميت الضيافات وينحر فى بابه النحائر من الأنعام، وهذا هو بعينه الذى كان عليه عباد الأصنام
اس دور میں قبروں، مزاروں اور فوت شدگان کے نام کی جو نذریں مانی جاتی ہیں، ان کے حرام ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ نذر ماننے والا صاحب قبر کے متعلق یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ وہ نفع و نقصان دے سکتا ہے، بھلائی لا سکتا ہے، شر دور کر سکتا ہے، پریشان حال کو عافیت دے سکتا ہے اور مریض کو شفا دے سکتا ہے۔ بتوں کی پوجا کرنے والے بھی بالکل ایسا ہی کرتے تھے، لہذا یہ نذر بھی اسی طرح حرام ہے، جس طرح بتوں کے نام کی نذر حرام ہے، نیز ایسی نذر (کی چیز) لینا بھی حرام ہے، کیونکہ یہ شرک کی حوصلہ افزائی ہے، بلکہ اس سے روکنا واجب ہے اور یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ یہ بہت بڑا حرام کام ہے اور بتوں کے پجاری بھی اسی طرح کرتے تھے۔ مدتیں گزرنے کے بعد اب معروف منکر اور منکر معروف بن چکا ہے، نذریں اکٹھی کرنے کے لیے مردوں پر جھنڈے لگائے جانے لگے ہیں اور آنے والوں کے لیے میت کے گھر میں ضیافتیں تیار کی جاتی ہیں، میت کے دروازے کے پاس کئی جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ یہ بعینہ وہی طریقہ کار ہے، جو بتوں کے پجاری کرتے تھے۔