غیر اسلامی قوانین نافذ کرنے والے حکام کافر ہیں یا نہیں؟
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا غیر اسلامی قوانین کا نفاذ کرنے والے حکام کافر ہیں؟ اور اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں تو اللہ تعالی کے اس فرمان کا کیا مفہوم ہو گا:” اور جو اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کا نفاذ نہیں کرتے وہ لوگ کافر ہیں۔ “ (المائدة 44)

جواب :

غیر اسلامی قوانین کا نفاذ کرنے والے حکام کئی طرح کے ہوتے ہیں اور ان کے اعمال و عقائد کے اعتبار سے ان کے احکام بھی الگ الگ ہیں، جو شخص غیر اسلامی قوانین کا نفاذ کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ اللہ کی شریعت سے بہتر ہے تو وہ بالاجماع کافر ہے۔ اسی طرح جو شخص شرعی قوانین کی جگہ غیر شرعی قوانین کا نفاذ کرتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ اس طرح وہ اللہ کی نافرمانی کر رہا ہے، نیز اسلامی قوانین کا نفاذ ہی اس پر واجب تھا تو ایسا شخص گناہ کبیرہ کا مرتکب اور نافرمان ہوگا اور یہ کہا جائے گا کہ اس نے کفر اصغر، ظلم اصغر اور فسق کا ارتکاب کیا ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، طاؤس اور سلف کی ایک جماعت سے اس مفہوم کے اقوال مروی ہیں اور یہی بات اہل علم کے نزدیک معروف بھی ہے۔ (واللہ ولی التوفیق)۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے