غیر آباد زمین، لقطہ، لقیط اور وقف کے احکام قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل کتاب البیوع:جلد 02: صفحہ 141
مضمون کے اہم نکات

غیر آباد زمین کو آباد کرنے کے احکام

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیر آباد زمین کو آباد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان ایسی زمین کو آباد کرے جو کسی فرد کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ ہی کسی اجتماعی ضرورت کے لیے مخصوص ہو، مثلاً اس میں درخت لگا دے، مکان تعمیر کر دے یا کنواں کھدوا دے۔ اس طرح وہ شخص اس زمین کا حق دار اور مالک بن جاتا ہے۔

اس تعریف سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:

① اگر کوئی زمین کسی مسلمان یا کافر کی شرعی و قانونی ملکیت میں ہے، خواہ وہ خریداری سے ملی ہو یا عطیہ وغیرہ سے، تو محض اسے آباد کر لینے سے کوئی دوسرا شخص اس کا مالک نہیں بن سکتا۔

② اگر کسی زمین کے ساتھ اجتماعی مصلحت وابستہ ہو، مثلاً وہ عام راستہ ہو، لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہو، پانی کے چشمے کی جگہ ہو، بارش وغیرہ کے پانی کے گزرنے کی جگہ ہو، یا اس کو آباد کرنے سے اہلِ شہر کی اجتماعی ضرورت متاثر ہوتی ہو، جیسے قبرستان، کوڑا کرکٹ پھینکنے کی جگہ، عیدگاہ، لوگوں کے لیے لکڑیاں جمع کرنے کی جگہ یا چراگاہ، تو ایسی تمام جگہوں میں کوئی شخص درخت لگا کر یا تعمیر کرکے مالک نہیں بن سکتا۔ البتہ اگر کوئی ویران ٹکڑا ایسی زمین کا ہو جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو اور کسی شخص نے اسے آباد کر لیا ہو تو وہ اس کا مالک بن جائے گا۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ "
"جس نے کسی ویران زمین کو آباد کرلیا وہ اسی کی ہے۔” [جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر فی احیاء ارض الموات حدیث 1379 ومسند احمد 3/381]

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اسی مضمون پر بہت سی دوسری احادیث بھی وارد ہوئی ہیں، جن میں بعض صحیح بخاری میں بھی موجود ہیں۔

فقہائے اسلام کے نزدیک ویران زمین کو آباد کرنے والا اس کا مالک قرار پاتا ہے، اگرچہ اس کی شرائط میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ البتہ حرم اور عرفات کے بارے میں فقہائے کرام کی رائے یہ ہے کہ وہاں درخت لگانے یا تعمیر کرنے والا مالک نہیں بنے گا، کیونکہ اس سے مناسکِ حج ادا کرنے والوں کے لیے مشقت پیدا ہوگی، اور ایسی جگہوں میں سب لوگوں کا حق برابر ہوتا ہے۔

① غیر آباد زمین کی آبادی کن صورتوں سے ثابت ہوتی ہے؟

❀ غیر آباد زمین کی آبادی درج ذیل صورتوں سے ظاہر ہوگی:

✔ 1۔ اگر کسی شخص نے ویران زمین میں درخت لگا دیے ہوں یا باڑ لگا کر اسے گھیر لیا ہو تو یہ اس کے آباد کرنے کے حکم میں ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"من أحاط حائطا على أرض فهي له”
"جس نے کسی ویران زمین پر دیوار کرلی یا باڑ لگادی وہ اس کا مالک قرار پائے گا۔” [سنن ابی داود الخراج باب فی احیاء الموات حدیث 3077 ومسند احمد 3/381]

البتہ ویران زمین کی ملکیت اسی وقت ثابت ہوگی جب اس نے حقیقتاً اسے آباد کیا ہو، مثلاً درخت لگائے ہوں، مکانات بنائے ہوں یا پانی کے لیے کنواں کھودا ہو۔

یہ بات یاد رہے کہ محض ظاہری نشانیاں قائم کر دینے، یا مٹی یا اینٹوں کی ایسی چھوٹی چار دیواری بنانے سے جو ہر طرف سے رکاوٹ نہ ہو، یا صرف اردگرد کھدائی کر دینے سے زمین کی آبادی اور ملکیت ثابت نہیں ہوگی۔ ہاں، اس سے اتنا ضرور ہوگا کہ دوسروں کی نسبت اس کا حق مقدم شمار ہوگا۔ اور جب تک وہ زمین کو صحیح اور حقیقی طور پر آباد نہ کر لے، وہ اسے فروخت بھی نہیں کر سکتا۔

✔ 2۔ اگر کسی نے ویران زمین میں کنواں کھودا اور اس کے ذریعے پانی تک پہنچ گیا تو گویا اس نے زمین کو آباد کر لیا، ورنہ وہ مالک نہیں ہوگا۔ ہاں، اس صورت میں اس کا حق دوسروں پر مقدم ہوگا، کیونکہ اس نے آباد کاری کا آغاز کیا ہے۔

✔ 3۔ اگر کسی نے ویران زمین تک چشمے یا نہر کا پانی پہنچا دیا تو بھی اس نے زمین کو آباد کر لیا، کیونکہ محض دیوار بنانے کی نسبت پانی پہنچانا زمین کے لیے زیادہ مفید ہے۔

✔ 4۔ اگر کوئی جگہ پانی جمع ہونے کی وجہ سے ناقابلِ کاشت اور غیر آباد تھی، پھر کسی نے وہ پانی نکال کر اسے قابلِ کاشت بنا لیا، تو یہ بھی آبادی شمار ہوگی، لہٰذا وہ اس زمین کا مالک ہوگا۔ اس لیے کہ پانی پہنچانا یا رکا ہوا پانی نکالنا صرف دیوار بنانے سے زیادہ نفع بخش ہے، جبکہ حدیث میں دیوار بنانے کا بھی ذکر آیا ہے، اور یہاں تو اس نے وہاں سکونت اور ملکیت کے آثار زیادہ واضح کر دیے ہیں۔

بعض اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ غیر آباد زمین کو آباد کرنے کے لیے کوئی مخصوص علامتیں اور متعین شرائط نہیں، بلکہ اس کا مدار عرف پر ہے۔ یعنی جن صورتوں کو لوگ اپنے عرف میں زمین کی آبادی سمجھتے ہوں، انہی کو آبادی کہا جائے گا اور اسی بنا پر ملکیت ثابت ہوگی، ورنہ نہیں۔ اکثر علماء حنابلہ وغیرہ کا یہی موقف ہے۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ شریعت نے ملکیت کے لیے کوئی خاص شرائط مقرر نہیں کیں، لہٰذا زمین کی آبادی کا حکم عرفِ عام کے مطابق ہوگا۔

② حاکم کی طرف سے غیر آباد زمین کی تقسیم

حاکم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ویران اور غیر آباد اراضی ان لوگوں میں تقسیم کر دے جو انھیں آباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو (القَبَليّة) کے معاون الاٹ کیے تھے۔ [سنن ابی داود الخراج والفی والامارۃ باب فی اقطاع الارضین حدیث 3061]

اسی طرح سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرموت کی اراضی عطا فرمائی تھی۔ [سنن ابی داود الخراج والفی والامارۃ باب فی اقطاع الارضین حدیث 3058۔3059]

اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو بھی کچھ اراضی الاٹ کی گئی تھی۔

جس شخص کو الاٹمنٹ دی جائے، اگر وہ اس زمین کو آباد کر لے تو وہ اس کا مالک ہوگا، ورنہ حاکم کو چاہیے کہ وہ اس سے زمین واپس لے کر ایسے شخص کو دے دے جو اسے آباد کرنے کی قدرت رکھتا ہو، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسے لوگوں سے زمین واپس لے لی تھی جو انھیں آباد نہ کر سکے۔

③ دیگر مباح چیزوں میں سبقت کا حکم

غیر آباد زمین کے علاوہ دوسری مباح اشیاء، مثلاً شکار کا جانور یا ایندھن کی لکڑی وغیرہ میں یہ اصول ہے کہ جو شخص پہلے اسے حاصل کر لے، وہی اس کا زیادہ حق دار ہوگا۔

④ نہر یا وادی کے پانی کی تقسیم کا حکم

اگر لوگوں کی زمینوں کے پاس سے نہر یا وادی کا پانی گزرتا ہو، تو پہلے اوپر والا شخص اس سے فائدہ اٹھائے گا اور اپنے کھیت میں ٹخنوں تک پانی روک لے، پھر اپنے قریب والے کو چھوڑ دے۔ اسی ترتیب پر کھیتوں کے آخر تک عمل ہوگا، الا یہ کہ پانی پہلے ہی ختم ہو جائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ احْبِسِ المَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلِ المَاءَ إِلَى جَارِكَ”
"زبیر! (اپنے کھیت کو) پانی پلاؤ حتیٰ کہ منڈیروں تک پہنچ جائے، پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دینا۔” [صحیح البخاری المساقاۃ باب سکور الانھار حدیث 2359،2360۔ وصحیح مسلم الفضائل باب وجوب اتباعہ حدیث 2357]

امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان: "پانی کو روک رکھ حتیٰ کہ منڈیروں تک پہنچ جائے” پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ کھیت میں پانی کی اونچائی ٹخنوں تک بنتی تھی، یعنی لوگوں نے بھی اس واقعے کا اندازہ کرکے اپنے ٹخنوں تک پانی پایا۔ پھر اسی کو حق کے معیار کے طور پر اختیار کیا گیا کہ پہلے پانی کا حق اسی کا ہے جس کا کھیت اوپر ہے، پھر اس کے بعد اس کا جس کا کھیت اس کے بعد ہے۔

اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ پہلے شخص کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے کھیت میں ٹخنوں تک پانی جمع کر لے، پھر بعد والوں کا حق ہے۔

سیدنا عمرو بن شعیب رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے:

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے "مہروز” (مدینہ منورہ کی مشہور وادی) کے سیلابی پانی کے بارے میں فیصلہ دیا کہ پہلے قریب اور اوپر والا شخص پانی روک کر فائدہ حاصل کرے، یہاں تک کہ پانی ٹخنوں تک جمع ہو جائے، پھر اوپر والی زمین والا نیچے والی زمین کے لیے پانی چھوڑ دے۔” [سنن ابی داود القضاء باب فی القضاء حدیث 3639 والموطا للامام مالک،الاقضیۃ باب القضاء فی المیاہ،حدیث 1491]

⑤ مشترک پانی کا حکم

اگر پانی پر ایک سے زیادہ افراد کی ملکیت ہو تو وہ اسے ملکیت کے تناسب سے باہم تقسیم کریں، اور ہر شخص اپنے حصے کا پانی باہمی رضامندی سے لے اور جس طرح چاہے استعمال کرے۔

⑥ چراگاہ محفوظ کرنے کا حکم

حاکم کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بیت المال کے مویشیوں کے لیے چراگاہیں محفوظ کرے، مثلاً جہاد کے لیے تیار کیے جانے والے گھوڑے اور جانور، یا صدقے کے اونٹ وغیرہ۔ تاہم وہ مسلمانوں کو تنگ اور مشقت میں مبتلا نہ کرے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

"أن النبي صلى الله عليه وسلم حمى النقيع لخيل المسلمين”
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے "نقیع” چراگاہ مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے مخصوص کردی تھی۔” [مسند احمد:2/155]

اسی طرح حاکم کے لیے مناسب ہے کہ ویران مقامات میں اگنے والی گھاس پھوس کو صدقے کے اونٹوں، مجاہدین کے گھوڑوں، جزیہ کے جانوروں، اور عام گم شدہ گھوڑوں اور اونٹوں وغیرہ کے لیے محفوظ کرے، بشرطیکہ واقعی ضرورت ہو اور عام مسلمانوں کے لیے تنگی اور تکلیف کا سبب نہ بنے۔

"جُعَالَه” کے احکام

لغت میں "جُعَالَه” اس چیز کو کہتے ہیں جو کسی کو کوئی کام انجام دینے کے بدلے میں دی جائے۔ جبکہ شرعی اصطلاح میں "جُعَالَه” اس متعین مال کو کہتے ہیں جو ایک خاص کام انجام دینے والے غیر متعین شخص کے لیے مقرر کیا جائے۔ مثلاً کوئی شخص کہے: "جو مجھے یہ دیوار بنا دے گا، میں اسے اتنی رقم دوں گا۔” اب جو شخص بھی یہ دیوار بنائے گا، وہ اس مال کا مستحق ہوگا۔

① جُعَالَه کے جواز کی دلیل

"جُعَالَه” کے جواز پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلیل ہے:

"وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍۢ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌ”
"اور جو اسےلے آئے اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ غلہ ہے اور اس وعدے کا میں ضامن ہوں۔” [یوسف 12/72]

سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جُعَالَه کے جواز پر سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت دلیل ہے، وہ فرماتے ہیں:

"عَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُذْرِيّ رضي الله تعاليٰ عنه أَنَّ رَهْطًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صلي الله عليه وسلم انْطَلَقُوا فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوافِي حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَيِّ فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ قَدْ نَزَلُوا بِكُمْ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ فَأَتَوْهُمْ فَقَالُوا: يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ فَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ شَيْءٌ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نَعَمْ وَاللهِ إِنِّي لَرَاقٍ وَلَكِنْ وَاللهِ لَقَدْ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنْ الْغَنَمِ فَانْطَلَقَ فَجَعَلَ يَتْفُلُ وَيَقْرَأُ الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ حَتَّى لَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي مَا بِهِ قَلَبَةٌ قَالَ: فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمْ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: اقْسِمُوا فَقَالَ الَّذِي رَقَى: لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ رَسُولَ اللهِ صلي الله عليه وسلم فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صلي الله عليه وسلم فَذَكَرُوا لَهُ فَقَالَ: وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ؟ أَصَبْتُمْ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ بِسَهْمٍ. » "

"ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كے چند صحابہ كرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ایك سفر كے لئے روانہ ہوئے جسے انہیں طے كرنا تھا راستے میں انہوں نے عرب كے ایك قبیلہ میں پڑاؤ كیا اور چاہا كہ قبیلہ والے ان كی مہمانی كریں لیكن انہوں نے انكار كیا۔ پھر اس قبیلہ كے سردار كو بچھو نے كاٹ لیا اسے اچھا كرنے كی ہر طرح كوشش انہوں نے كر ڈالی لیكن كسی سے كچھ فائدہ نہیں ہوا۔ آخر انہی میں سے كسی نے كہا كہ یہ لوگ جنہوں نے تمہارے قبیلہ میں پڑاؤ كر ركھا ہے ان كے پاس چلو ممكن ہے ان میں سے كسی كے پاس كوئی دم جھاڑ ہو۔ چنانچہ وہ صحابہ كے پاس آئے اور كہا لوگو ہمارے سردار كو بچھو نے كاٹ لیا ہے ہم نے ہر طرح كی بہت كوشش اس كے لئے كر ڈالی لیكن كسی سے كوئی فائدہ نہیں ہوا كیا تم لوگوں میں سے كسی كے پاس كوئی دم جھاڑ ہے؟ صحابہ میں سے ایك صاحب (ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ) نے كہا كہ ہاں واللہ میں جھاڑنا جانتا ہوں۔ لیكن ہم نے تم سے كہا تھا كہ تم ہماری مہمانی كرو (ہم مسافر ہیں) تو تم نے انكار كر دیا تھا اس لئے میں بھی اس وقت تك نہیں جھاڑوں گا جب تك تم میرے لئے اس كی مزدوری نہ مقرر کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے كچھ بكریوں (30) پر معاملہ طے كر لیا۔ اب یہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ روانہ ہوئے یہ زمین پر تھو كتے جاتے اور «الحمدللہ رب العالمین» (سورۃ فاتحہ) پڑھتے جاتے۔ اس كی بركت سے وہ ایسا ہو گیا جیسے اس كی رسی كھل گئی ہو اور وہ اس طرح چلنے لگا جیسے اسے كوئی تكلیف ہی نہیں۔ بیان كیا كہ پھر وعدہ كے مطابق قبیلہ والوں نے ان صحابی كو مزدوری (30 بكریاں) ادا كردیں بعض لوگوں نے كہا كہ ان كو تقسیم كر لو۔ لیكن جنہوں نے جھاڑا تھا انہوں نے كہا كہ ابھی نہیں پہلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوں پوری صورت حال آپ كے سامنے بیان كردیں پھر دیكھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں كیا حكم فرماتے ہیں۔ چنانچہ سب لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم كی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس كا ذكر كیا آپ نے فرمایا: كہ تمہیں كیسے معلوم ہو گیا تھا كہ اس سے دم كیا جا سكتا ہے؟ تم نے بہت اچھا كیا جاؤ ان كو تقسیم كر لو اور میرا بھی اپنے ساتھ ایك حصہ ركھو۔” [صحیح البخاری الاجارۃ باب مایعطی فی الرقیۃ علی احیاء العرب بفاتحۃ الکتاب حدیث 2276۔ وصحیح مسلم السلام باب جواز اخذ الاجرۃ علی الرقیۃ بالقرآن والاذکار حدیث 2201]

② مقررہ جُعَالَه کا مستحق کون ہوگا؟

اگر کسی شخص نے یہ جان لینے کے بعد وہ کام انجام دیا جس پر خاص اجرت مقرر تھی، تو کام مکمل کرنے کی صورت میں وہ اجرت کا مستحق ہوگا۔ اور اگر ایک جماعت مقررہ کام کرنے لگ جائے تو اجرت کی رقم ان کے درمیان برابر تقسیم ہوگی۔

اگر کوئی شخص از خود کام شروع کر دے اور اسے یہ معلوم ہی نہ ہو کہ اس پر اجرت مقرر ہو چکی ہے، تو وہ اجرت کا مستحق نہیں ہوگا، کیونکہ اس نے ایسا کام کیا جس کی اسے اجازت نہ تھی۔ البتہ اگر کام کے دوران اسے اس کا علم ہو جائے تو علم ہونے کے بعد کے عمل کا مستحق ہوگا۔

③ جُعَالَه اور اجارہ میں فرق

"جُعَالَه” اور اجارہ (اجرت پر رکھنا) درج ذیل امور میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں:

① "جُعَالَه” کے صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جس کام پر جُعَالَه مقرر ہوا ہے، وہ عامل کے علم میں ہو، بخلاف اجارہ کے۔ اجارہ میں یہ شرط ہے کہ جس کام کی اجرت طے ہوئی ہو، وہ عامل کے علم میں بھی ہو۔

② "جُعَالَه” میں کام کی مدت متعین نہیں ہوتی، جبکہ اجارہ میں مدتِ عمل متعین ہوتی ہے۔

③ "جُعَالَه” میں مدت اور کام دونوں کو جمع کرنا جائز ہے، مثلاً کوئی کہے: "جس نے اس کپڑے کی سلائی ایک دن میں کر دی تو اسے اتنے روپے ملیں گے۔” تو اگر اس نے مقررہ دن کے اندر سلائی کر دی تو وہ انعام کا مستحق ہوگا، ورنہ نہیں۔ بخلاف اجرت کے، کیونکہ اس میں عمل اور مدت دونوں کو جمع کرنا درست نہیں۔

④ "جُعَالَه” میں عامل کام پورا کرنے کی ذمہ داری نہیں لیتا، جبکہ اجارہ میں عامل کسی کام کو سرانجام دینے کی ذمہ داری خود پر لازم کر لیتا ہے۔

⑤ "جُعَالَه” میں عامل کی تعیین شرط نہیں، جبکہ اجارہ میں یہ شرط موجود ہے۔

⑥ "جُعَالَه” ایسا عقد ہے جسے دونوں فریق ایک دوسرے کی اجازت کے بغیر بھی فسخ کر سکتے ہیں، بخلاف اجارہ کے، کیونکہ وہ ہر فریق پر لازم ہوتا ہے، لہٰذا ایک فریق دوسرے کی رضامندی کے بغیر اسے فسخ نہیں کر سکتا۔

④ بغیر اجازت یا بغیر انعام کے کام کرنے والے کا حکم

فقہائے کرام نے ذکر کیا ہے کہ جو شخص کسی کا کام، کسی مقررہ انعام کے بغیر، اور مالک کی اجازت کے بغیر کرے، وہ کسی معاوضے یا انعام کا مستحق نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ اس نے کام کی ابتدا بطورِ تبرع کی تھی، لہٰذا وہ انعام کا مستحق نہیں۔ کیونکہ جس چیز کو آدمی نے اپنے لیے لازم نہیں کیا، وہ اسے نہیں ملتی۔ البتہ اس سے دو صورتیں مستثنیٰ ہیں:

✔ 1۔ جب کسی مزدور یا کام کرنے والے نے خود کو ہمیشہ اجرت پر کام کرنے کے لیے تیار رکھا ہو، جیسے دلال یا عام مزدور وغیرہ۔ جب ایسا شخص کسی مالک کے لیے اس کی اجازت سے کام کرے گا تو اجرت کا حق دار ہوگا۔ لیکن اگر اس نے خود کو مزدوری کے لیے تیار نہ رکھا ہو تو وہ اجرت کا مستحق نہ ہوگا، خواہ مالک کی اجازت سے کام کیا ہو۔ البتہ اگر کام سے پہلے دونوں کے درمیان معاوضہ طے ہو چکا ہو تو اسے معاوضہ دیا جائے گا۔

✔ 2۔ جو شخص اپنی جان یا محنت کو خطرے میں ڈال کر کسی انسان یا اس کے سامان کو ہلاکت اور تباہی سے بچائے، مثلاً کسی کو دریا میں ڈوبنے سے بچا لے، یا آگ میں جلنے سے نکال لے، یا کسی اور خطرناک صورتِ حال سے بچا لے، تو وہ معروف اجرت کا مستحق ہوگا، اگرچہ اس نے یہ کام مالک کی اجازت کے بغیر کیا ہو۔ کیونکہ اگر وہ یہ اقدام نہ کرتا تو وہ چیز یا سامان ضائع ہو جاتا اور مالک کو کچھ نہ ملتا۔ نیز اجرت دینے میں اس قسم کے مشکل کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی بھی ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جس نے کسی کا مال ہلاکت سے بچا کر اس کے مالک تک پہنچا دیا تو وہ اس پر اجرت کا مستحق ہے، اگرچہ پہلے شرط نہ ہوئی ہو۔ دو قولوں میں سے یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی منصوص ہے۔” [مجموع الفتاویٰ 30/415]

امام ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جس نے کسی کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر اس مقصد سے تصرف کیا کہ اس کے ذریعے سے مال کو مالک تک پہنچایا جائے، یا مالک کے مال کی حفاظت کی جائے، یا اسے ضائع ہونے سے بچایا جائے، تو درست بات یہی ہے کہ اسے اس کام کی مزدوری دی جائے گی۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے کئی مواقع پر اس کی صراحت کی ہے۔” [اعلام الموقعین 2/379]

"لُقَطَه” کے احکام

"لُقَطَه” سے مراد وہ گری پڑی چیز ہے جو اپنے مالک سے گم ہو گئی ہو۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اسلام نے مال کی حفاظت اور اس کی نگہداشت کی تعلیم دی ہے، اور مسلمانوں کے مال کی حرمت اور حفاظت کا درس دیا ہے۔ انہی تعلیمات میں "لُقَطَه” بھی شامل ہے۔

① معمولی گری پڑی چیز کا حکم

اگر گری پڑی چیز معمولی نوعیت کی ہو اور عام درمیانے درجے کے لوگ اس کی پروا نہ کرتے ہوں، مثلاً چابک، روٹی، کسی پھل کا ایک دانہ، لاٹھی وغیرہ، تو اسے اٹھا کر بغیر اعلان کے فوراً استعمال کر لینا جائز ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:

"رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي العَصَا وَالسَّوْطِ وَالحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گم شدہ لاٹھی، چابک اور رسی وغیرہ کے بارے میں اجازت دی ہے کہ آدمی انھیں اٹھا کر ان سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔” [(ضعیف)سنن ابی داود القطۃ باب التعریف بالقطۃ حدیث 1717]

② ایسے جانور اور اشیاء جنھیں پکڑنا ممنوع ہے

وہ جانور جو چھوٹے درندوں سے اس لیے محفوظ ہوں کہ وہ طاقتور اور بڑے ہوں، مثلاً اونٹ، گھوڑا، گائے، خچر وغیرہ، یا وہ اڑنے والے ہوں، مثلاً کبوتر، یا بہت تیز دوڑنے والے ہوں، مثلاً ہرن، یا وہ اپنی کچلیوں کے ذریعے اپنا دفاع کر سکتے ہوں، مثلاً چیتا وغیرہ، تو ایسے جانوروں کو پکڑنا جائز نہیں۔ انھیں پکڑنے والا اعلان کے بعد بھی ان کا مالک نہیں بنے گا۔

چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَلْقَاهَا رَبُّهَا”
"تم اسے کیوں پکڑتے ہو؟ حالانکہ اس کے ساتھ اس کا مشکیزہ (بڑا پیٹ) ہے اور اس کا جوتا ہے، وہ خود ہی پانی پی لے گا اور درختوں سے پتے کھالے گا یہاں تک کہ اس کا مالک اسے پالے۔” [صحیح البخاری العلم باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذا رای ما یکرہ حدیث 91، وصحیح مسلم القطۃ باب معرفۃ العفاص والوکاء وحکم ضالۃ الغنم والابل حدیث 1722 واللفظ لہ]

سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے: "جس نے گم شدہ جانور (اونٹ وغیرہ) پکڑا وہ شخص گمراہ ہے۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی 6/191] یعنی وہ غلطی کر رہا ہے، لہٰذا اسے ہرگز نہیں پکڑنا چاہیے۔

ان جانوروں کے علاوہ بڑے سائز کا سامان بھی اسی حکم میں شامل ہے، مثلاً بڑی دیگ، لوہا، بھاری مقدار میں لکڑی وغیرہ، یا وہ چیز جو اپنی جگہ خود محفوظ رہ سکتی ہو، نہ ضائع ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ اپنی جگہ سے منتقل ہو سکتی ہو، تو اسے اٹھانا یا پکڑنا ناجائز ہے۔

③ عام گم شدہ مال اور چھوٹے جانوروں کا حکم

اگر گم شدہ مال عام نوعیت کا ہو، مثلاً نقدی، عام سامان، یا چھوٹے جانور جو درندوں سے اپنا دفاع نہیں کر سکتے، جیسے بکری، بچھڑا، اونٹ کا بچہ وغیرہ، تو ایسی چیز یا جانور کو پانے والا شخص، اگر اپنی دیانت و امانت پر مطمئن ہو، تو اسے اٹھا سکتا ہے۔ ایسی اشیاء اور جانور تین قسموں میں تقسیم ہوتے ہیں:

پہلی قسم

وہ جانور جن کا گوشت کھایا جاتا ہو، مثلاً اونٹ کا بچہ، بکری، مرغی وغیرہ۔ ان گم شدہ جانوروں کو پکڑنے والے کے لیے تین صورتیں ہیں، اور ان میں سے وہ صورت اختیار کی جائے گی جس میں مالک کا زیادہ فائدہ ہو:

① اسے ذبح کرکے کھا لے اور بعد میں جب مالک ملے تو اس کی موجودہ قیمت اسے ادا کر دے۔

② شناخت کے لیے اس جانور کی امتیازی نشانیاں یاد رکھ لے، پھر اسے فروخت کر دے اور اس کی قیمت محفوظ کر لے، تاکہ مالک کو ملنے پر دے سکے۔

③ جانور کی حفاظت کرے، اور حسبِ ضرورت اس پر خرچ کرے، تاکہ وہ محفوظ رہے۔ خود کو اس کا مالک نہ سمجھے۔ اگر مالک آ جائے تو جانور اس کے حوالے کر دے اور اس پر کیے گئے اخراجات وصول کر لے۔

کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

"خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ”
"اسے پکڑ لو، وہ تیری ہے یا تیرے بھائی کی ہے یا بھیڑیے کی ہے۔” [صحیح البخاری القطۃ باب ضالۃ الغنم حدیث 2428۔ وصحیح مسلم القطۃ باب معرفۃ العفاص والوکاء وحکم ضالۃ الغنم والابل حدیث 1722 واللفظ لہ]

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: اس حدیث میں گم شدہ بکری کو اٹھا لینے کا جواز ہے۔ اگر بکری کا مالک نہ آئے تو وہ اٹھانے والے کی ملک ہو جائے گی۔ اس حالت میں اسے اختیار ہے کہ وہ اسے کھا لے اور اس کی قیمت مالک کو دے دے، یا اسے بیچ کر قیمت محفوظ رکھے، یا اس کی حفاظت کرے اور اپنے مال سے اس پر خرچ کرے۔ علماء کا اس پر اجماع ہے کہ اگر بکری کا مالک آ جائے اور اٹھانے والے نے اسے کھایا نہ ہو تو اس کا مالک اسے لینے کا زیادہ حق دار ہے۔

دوسری قسم

وہ چیزیں جن کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، مثلاً تربوز یا دوسرے پھل۔ ایسی چیزوں کو اٹھانے والا یا تو خود استعمال کر لے اور بعد میں مالک کو ان کی قیمت ادا کر دے، یا انھیں فروخت کر کے قیمت مالک کے لیے محفوظ کر لے۔

تیسری قسم

عام اموال اور اشیاء جو پہلی دونوں قسموں میں شامل نہیں، مثلاً نقدی یا برتن۔ ان اشیاء کو امانت سمجھ کر بعینہ محفوظ رکھا جائے اور لوگوں کے جمع ہونے کی جگہوں میں ان کا اعلان اور تعارف کرایا جائے۔

④ لقطہ اٹھانے والے کے لیے شرط

گری پڑی چیز وہی شخص اٹھائے جسے اپنی امانت داری پر اعتماد ہو اور اعلان و تعارف کرانے کی ہمت بھی رکھتا ہو، ورنہ نہ اٹھائے۔ کیونکہ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ سونے یا چاندی کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ عَنِ اللُّقَطَةِ -[1347]-، فَقَالَ: «اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا، وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهَا»، قَالَ فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: (لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ)”

"اس (ملنے والی) چیز کو باندھنے والی رسی اور اس کی تھیلی کی پہچان رکھ، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ۔ اگر اسے پہچاننے والا (مالک) آ جائے تو اسے دے دے، ورنہ پھر تو اسے استعمال کر سکتا ہے۔ لیکن پھر بھی وہ شے تیرے پاس امانت رہے گی۔ اگر اس کا مالک کسی وقت بھی آ جائے تو اسے وہ شے یا اس کی قیمت دے دے۔” پھر اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: "تجھے اس سے کیا سروکار؟ اس کے پاس پانی کے لیے مشکیزہ ہے، اس کے پاؤں مضبوط ہیں، تالاب سے پانی حاصل کرے گا اور درختوں کے پتے کھالے گا یہاں تک کہ اس کا مالک آ کر اسے پکڑ لے۔” پھر آپ سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "تو اسے پکڑ لے، وہ تو تیرے لیے ہے یا تیرا بھائی اس کا مالک بن جائے گا یا پھر اسے بھیڑیا کھا جائے گا۔” [صحیح البخاری العلم باب الغضب فی الموعظۃ والتعلیم اذارای ما یکرہ حدیث 91، وصحیح مسلم القطۃ باب معرفۃ العفاص والوکاء وحکم ضالۃ والابل حدیث 1722]

حدیث میں مذکور لفظ "عِفَاصَ” اور "وِكَاءَ” کے معنی ہیں: تھیلا اور اس کا منہ باندھنے والی رسی یا ڈوری۔ اور حدیث کے لفظ: "ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً” کا مطلب یہ ہے کہ گم شدہ چیز کا پورا ایک سال تعارف کرایا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ لوگوں کے اجتماع کی جگہوں، مثلاً ڈیروں، بازاروں، مساجد کے دروازوں اور عام مجمعوں میں اعلان کیا جائے۔ پہلے ہفتے میں ہر روز اعلان ہو، کیونکہ اسی مدت میں مالک کے آنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اس کے بعد حسبِ عادت وقتاً فوقتاً اعلان جاری رکھا جائے۔

⑤ لقطہ کے متعلق ضروری احکام

① مذکورہ حدیث کے الفاظ سے واضح ہوتا ہے کہ گری پڑی چیز کا اعلان اور تعارف کرانا واجب ہے، یہاں تک کہ اس کا مالک آ جائے۔ اگر وہ اس کی درست علامات بتا دے تو وہ چیز اس کے حوالے کر دی جائے، ورنہ نہیں۔

② اسی حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایک سال تک اعلان کرنے کے بعد جس شخص کو وہ چیز ملی تھی، وہ اس کا مالک بن سکتا ہے، لیکن اسے استعمال کرنے سے پہلے اس کی تھیلی، تسمہ، مقدار، جنس اور دیگر امتیازی صفات اچھی طرح ذہن یا تحریر میں محفوظ کر لینا ضروری ہے۔ اگر سال کے بعد اصل مالک آ جائے اور درست صفات بیان کر دے تو اسے واپس کر دی جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم ہے۔

③ اگر کسی کو کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اسے اٹھانے کی کوشش نہ کرے، الا یہ کہ اسے اپنی دیانت و امانت پر اعتماد ہو اور اعلان کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہو، یہاں تک کہ اس کا مالک مل جائے۔ اگر اسے اپنی امانت خطرے میں محسوس ہو تو اس کے لیے وہ چیز اٹھانا جائز نہیں۔ اگر اس نے اٹھا لی تو وہ غاصب شمار ہوگا، کیونکہ اس نے کسی کا مال ایسے طریقے سے لیا جو اس کے لیے جائز نہیں تھا، اور اس میں دوسرے کے مال کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ ہے۔

④ گری پڑی شے لینے سے پہلے اس کے برتن، تھیلی، تسمے کی صفات، نیز مقدار، جنس اور نوعیت اچھی طرح یاد یا نوٹ کر لے۔ ایسا کرنا لازم ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے، اور مطلق حکم وجوب کے لیے ہوتا ہے۔

⑤ گری پڑی شے اٹھانے کے بعد پورا ایک سال اس کا اعلان کرنا لازم ہے۔ پہلے ہفتے میں ہر روز اعلان کیا جائے، پھر دستور کے مطابق وقتاً فوقتاً اعلان کیا جائے۔ اعلان کے لیے بازاروں، عام مجمعوں اور مساجد کے دروازوں پر کھڑے ہو کر اطلاع دی جائے کہ کسی کی کوئی چیز گم ہوئی ہو تو وہ دریافت کرے۔ لیکن مسجد کے اندر، مثلاً اسپیکر وغیرہ پر اعلان نہ کیا جائے، کیونکہ مساجد اس طرح کے کاموں کے لیے نہیں بنائی گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"من سمع رجلاً ينشد ضالة في المسجد فليقل لا ردها الله عليك فإن المساجد لم تبن لهذا”
"جس آدمی کو تم سنو کہ وہ مسجد میں گم شدہ چیز کا اعلان کر رہا ہے تو تم کہو: اللہ تعالیٰ تیری چیز واپس نہ کرے، کیونکہ مساجد اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔” [صحیح مسلم المساجد باب النھی عن نشد الضالۃ فی المسجد۔۔۔،حدیث:568]

⑥ جب گم شدہ چیز کا تلاش کرنے والا آئے اور درست علامات بیان کر دے تو بغیر دلیل طلب کیے اور بغیر قسم لیے اسے وہ چیز دے دی جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی کا حکم دیا ہے۔ اور صحیح علامتیں بیان کر دینا گواہی اور قسم کے قائم مقام ہو جاتا ہے، بلکہ بسا اوقات دلیل اور قسم کی نسبت یہ زیادہ واضح اور زیادہ سچی علامت ہوتی ہے۔ نیز اس شے کی متصل یا منفصل بڑھوتری بھی اس کے ساتھ واپس کی جائے گی۔ ہاں، اگر طالب صحیح علامات نہ بتا سکے تو وہ چیز اس کے حوالے نہ کی جائے، کیونکہ یہ ایک امانت ہے، اور امانت ایسے شخص کو دینا جائز نہیں جس کی ملکیت ثابت نہ ہو۔

⑦ اگر ایک سال کے اعلان کے باوجود مالک نہ آئے تو وہ چیز اٹھانے والے کی ملک ہو جائے گی، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ خرچ کرنے سے پہلے اس کی تمام علامات محفوظ کر لے۔ اگر بعد میں مالک آ جائے اور وہ درست صفات بتا دے تو اگر وہ چیز بعینہ موجود ہو تو وہی واپس کی جائے، اور اگر اس میں تصرف ہو چکا ہو تو اس کا بدل دیا جائے، کیونکہ اس کی ملکیت نگہبان اور محافظ کی طرح عارضی تھی، جو اصل مالک کے آ جانے سے ختم ہو گئی۔

⑥ حرم مکہ کے لقطہ کا حکم

حرم مکہ میں گری ہوئی چیز کے متعلق علماء کے درمیان اختلاف ہے کہ ایک سال تک تعارف کرانے کے بعد اٹھانے والا اس کا مالک بنے گا یا نہیں؟

بعض علماء کا کہنا ہے کہ مقررہ مدت یعنی ایک سال کے بعد اٹھانے والا اس کا مالک ہوگا، کیونکہ دلائل عام ہیں۔ جبکہ دوسرے اہلِ علم کی رائے یہ ہے کہ وہ اس کا مالک نہیں ہوگا اور نہ ہی اسے اپنے تصرف میں لائے گا، بلکہ ہمیشہ اس کا اعلان کرتا رہے گا، کیونکہ مکہ مکرمہ کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"لَا تَحِلّ لُقَطَتهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ”
"اس کا لقطہ اٹھانا جائز نہیں مگر اس شخص کے لیے جو اسے متعارف کروانا چاہتا ہو۔” [صحیح البخاری القطۃ باب کیف تعرف لقطۃ اھل مکۃ؟حدیث 2433]

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ نے اسی موقف کو ترجیح دی ہے۔ وہ فرماتے ہیں: "حرم کے لقطے کو اٹھانے والا کبھی بھی اس کا مالک نہیں ہوگا، بلکہ اس پر ہمیشہ اعلان کرنا لازم ہے۔” [الفتاویٰ الکبریٰ باب الودیعۃ:5/423] اور حدیث کا ظاہر بھی اسی کے موافق ہے۔

⑦ چھوڑے ہوئے جانور کا حکم

اگر کوئی شخص کسی ویران جگہ جانور کو اس وجہ سے چھوڑ جائے کہ وہ ریوڑ کے ساتھ چلنے کے قابل نہیں رہا، یا مالک اسے ساتھ لے جانے میں کمزور ثابت ہوا، تو ایسے جانور کو پکڑنے والا اس کا مالک بن جائے گا۔ کیونکہ حدیث میں ہے:

"مَنْ وَجَدَ دَابَّةً قَدْ عَجَزَ عَنْهَا أَهْلُهَا أَنْ يَعْلِفُوهَا فَسَيَّبُوهَا، فَأَخَذَهَا فَأَحْيَاهَا فَهِيَ لَهُ”
"جس نے ایسا جانور پایا کہ جس کا مالک اسے چارہ دینے سے عاجز ہو اور وہ اسے چھوڑ گیا ہو، پھر کسی نے اسے پکڑ لیا، چارہ دیا اور زندہ رکھا، تو وہ اسی کا ہے۔” [سنن ابی داود البیوع باب فیمن احیا حسیرا حدیث 3524]

اس کی وجہ یہ ہے کہ مالک کو اب اس کی طلب اور رغبت نہیں رہی، لہٰذا اس کا حکم انہی ردّی اور ترک شدہ چیزوں جیسا ہوگا۔

جس شخص کا جوتا یا سامان اٹھا لیا گیا ہو اور اسے اسی جگہ ویسا ہی جوتا یا کوئی اور سامان مل جائے، تو وہ اسے اپنی چیز کا بدل سمجھ کر خود کو اس کا مالک نہ سمجھے، بلکہ وہ بھی لقطہ ہے۔ ایک سال تک اس کا اعلان کرے گا، پھر تعارف کے بعد اپنے حق کے مطابق اس کا مالک ہوگا، اور جو حصہ زائد ہو اسے صدقہ کر دے گا۔

⑧ بچے یا کم عقل کو لقطہ ملنے کا حکم

اگر کسی بچے یا کم عقل شخص کو گری پڑی چیز مل جائے تو اس کا ولی ایک سال تک اس کا اعلان کرے اور تعارف کرائے، اور اس چیز کو اپنے قبضے میں لے لے، کیونکہ وہ دونوں امانت قبول کرنے اور اس کی حفاظت کے اہل نہیں ہوتے۔ اگر ولی نے ان سے وہ چیز اپنے قبضے میں نہ لی، یہاں تک کہ وہ ضائع ہو گئی، تو ولی ضامن ہوگا، کیونکہ اس کی کوتاہی سے وہ ضائع ہوئی۔ اگر مالک نہ آیا تو وہ چیز اسی بچے یا کم عقل شخص کی ملک ہو جائے گی جس نے اسے پایا تھا، لیکن مالک کے آنے پر ادا کرنا لازم ہوگا، جیسا کہ بالغ و عاقل پر لازم ہوتا ہے۔

⑨ لقطہ واپس وہیں رکھ دینے کا حکم

اگر کسی شخص نے گری پڑی چیز اٹھا کر پھر دوبارہ وہیں رکھ دی اور وہ وہیں پڑی پڑی ضائع ہو گئی تو وہ شخص ضامن ہوگا۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں ایک امانت آئی تھی جس کی حفاظت اسے دوسری امانتوں کی طرح کرنی چاہیے تھی، لیکن اس نے اسے چھوڑ کر ضائع کر دیا، اس لیے وہ ذمہ دار ہوگا۔

تنبیہ

اسلام نے لقطہ کے بارے میں جو ہدایات دی ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کے مال اور سامان کی حفاظت اور نگہداشت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ نیز اسلام ایک دوسرے کے ساتھ خیر خواہی، بھلائی اور تعاون کی ترغیب دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اسلام پر ثابت قدم رکھے اور اسی پر موت عطا فرمائے۔ آمین۔

لَقِیط کا حکم

لقیط اور لُقطہ کے مسائل میں گہرا تعلق ہے، کیونکہ "لقطہ” گری پڑی مال و متاع کو کہا جاتا ہے، جبکہ "لقیط” اس بچے کو کہتے ہیں جو گرا پڑا یا گم شدہ حالت میں ملے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے احکام انسانی زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہیں، یہاں تک کہ یتیم بچوں اور بے سہارا لوگوں کے حقوق بھی اس میں شامل ہیں۔ بلکہ اسلام کے سنہری اصول اور انسانی حقوق، آج کی مہذب دنیا کے معروف حقوق سے کئی درجے بلند اور برتر ہیں۔ اسی طرح اسلام نے لقیط کے بارے میں بھی لوگوں کی رہنمائی کے لیے اہم ہدایات دی ہیں۔

شرعی اعتبار سے لقیط وہ بچہ ہے جو کسی کو گرا پڑا یا گم شدہ حالت میں ملے، اس کا نسب معلوم نہ ہو، اور نہ کوئی اس کا دعویٰ کرے کہ یہ میرا بچہ ہے، تو وہ "لقیط” ہے۔

لقیط کا حکم یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی ایک شخص اسے اٹھا کر اس کی پرورش اور کفالت کر لے تو سب کی ذمہ داری ادا ہو جائے گی، یعنی کوئی گناہ گار نہیں ہوگا۔ گویا یہ فرضِ کفایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿ وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ…﴿٢﴾… سورة المائدة
"نیکی اورپرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو۔” [المائدۃ 5/2]

آیت کے الفاظ اپنے عموم کے اعتبار سے لقیط بچے کو اٹھانے اور اس کی پرورش کرنے کو بھی شامل ہیں، کیونکہ یہ بھی نیکی اور تقویٰ میں تعاون کی ایک صورت ہے۔ نیز کسی شخص کو اٹھا کر اس کی جان بچانا اسی طرح فرض ہے جیسے ضرورت کے وقت کسی کو کھانا کھلانا یا کسی کو ڈوبنے سے بچانا فرض ہے۔

① لقیط کی آزادی

لقیط بچہ تمام شرعی احکام میں آزاد سمجھا جائے گا، کیونکہ آزادی اصل ہے اور غلامی ایک عارضی اور خارج سے لاحق ہونے والی حالت ہے۔ جب کسی کی غلامی معلوم نہ ہو سکے تو اصل یعنی آزادی ہی کا اعتبار ہوگا۔

② لقیط کے اخراجات کا حکم

اگر بچے کے ساتھ یا اس کے قریب کوئی مال بھی ملا ہو تو اٹھانے والا اسے بچے ہی کا مال سمجھ کر معروف اور مناسب طریقے سے اسی پر خرچ کرے گا، کیونکہ وہی اس بچے کا ولی اور سرپرست ہے۔ اگر مال موجود نہ ہو تو اس کے اخراجات بیت المال سے ادا کیے جائیں گے۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک شخص سے، جس نے لقیط بچے کو اٹھایا تھا، فرمایا:

"اذْهَبْ فَهُوَ حُرٌّ وَلَكَ، وَلَاؤُهُ وَعَلَيْنَا نَفَقَتُهُ”
"اسے لے جاؤ، یہ بچہ آزاد ہے غلام نہیں۔ اس کی سرپرستی تمہارے ذمہ اور اس کے اخراجات ہمارے ذمہ ہیں۔” [الموطا للامام مالک،الاقضیۃ باب القضاء فی المنبود حدیث 1482]

واضح رہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مراد "بیت المال” تھی۔

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: "وعلينا رضاعه” یعنی "اسے دودھ پلانے کی ذمہ داری ہم (بیت المال) پر ہے۔”

اس روایت کی روشنی میں بچے کے اخراجات اسے اٹھانے والے شخص پر نہیں بلکہ بیت المال پر ہیں۔ اور اگر بیت المال کا انتظام نہ ہو تو وہ مسلمان اس کا خرچ برداشت کریں گے جو اس کے حالات سے واقف ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ وَتَعاوَنوا عَلَى البِرِّ وَالتَّقوىٰ…﴿٢﴾… سورة المائدة
"نیکی اورپرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرتے رہو۔” [المائدۃ 5/2]

اس کے علاوہ اخراجات چھوڑ دینے میں بچے کی ہلاکت ہے۔ مزید یہ کہ اس کے اخراجات اٹھانا اس کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی ہے، جیسے مہمان کی مہمان نوازی۔

③ لقیط کے دین کا حکم

اگر بچہ مسلمانوں کے ملک میں ملا ہو، یا کافروں کے ایسے ملک میں ملا ہو جہاں اکثریت مسلمانوں کی ہو، تو دینی اعتبار سے وہ بچہ مسلمان شمار ہوگا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

” كل مولود يولد على الفطرة "
"ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے۔” [صحیح البخاری الجنائز باب ما قیل فی اولاد المشرکین؟حدیث 1385۔ اس روایت سے واضح ہوتا ہے کہ بچہ کسی بھی جگہ سے ملے وہ ہر صورت مسلمان ہی متصور ہوگا۔(صارم)]

اگر بچہ خالص کافر ملک میں ملا ہو یا ایسے علاقے میں ملا ہو جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہو، تو علاقے کے اعتبار سے وہ بچہ کافر متصور ہوگا، البتہ اس کی پرورش اسے اٹھانے والے ہی کے ذمہ ہوگی، بشرطیکہ وہ شخص امین ہو۔ کیونکہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک لقیط بچے کی پرورش کی ذمہ داری ابو جمیلہ نامی شخص پر ڈالی تھی۔ جب معلوم ہوا کہ وہ نیک اور امین شخص ہے تو فرمایا: "تم ہی اس کے سرپرست ہو، اور چونکہ تم نے اسے اٹھایا ہے اس لیے دوسروں کی نسبت تم پرورش کے زیادہ حق دار ہو۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی 6/202 اللقطۃ باب التقاط المنبود۔۔۔وارواء الغلیل 6/1573]

④ بچے کے ساتھ ملنے والے مال کا حکم

اگر بچے کے ساتھ مال بھی ملا ہو تو اسے اٹھانے والا شخص اسی مال کو معروف طریقے سے اس پر خرچ کرے گا۔

⑤ پرورش کرنے والے کی اہلیت

اگر بچے کو اٹھانے والا اس کی پرورش کے لائق نہ ہو، مثلاً وہ فاسق ہو، یا کافر و مشرک ہو جبکہ لقیط بچہ مسلمان ہو، تو بچہ ایسے شخص کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ اسلام کسی کافر یا فاسق کو ولی اور سرپرست مقرر کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اس لیے کہ اس سے بچے کے دین کو خطرہ ہوتا ہے۔

⑥ خانہ بدوش کے حوالے لقیط کرنے کا حکم

اگر بچے کو اٹھانے والا خانہ بدوش ہو جبکہ بچہ شہر سے ملا ہو، تو اس خانہ بدوش کے سپرد پرورش کی ذمہ داری نہ کی جائے، کیونکہ وہ مختلف جگہوں پر منتقل ہوتا رہتا ہے اور اس میں بچے کے لیے مشکلات ہوتی ہیں۔ لہٰذا ایسے شخص سے بچہ لے کر کسی شہری کے حوالے کیا جائے، کیونکہ خانہ بدوشی کی نسبت شہری زندگی بچے کے دین و دنیا کی بہتری کے لحاظ سے زیادہ مناسب ہے۔ نیز اس سے بچے کے خاندان، ورثاء اور نسب کی تلاش میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

⑦ لقیط کی میراث، دیت اور قصاص

اگر لقیط فوت ہو جائے تو بیت المال اس کا وارث ہوگا۔ اور اگر اس پر ایسی جنایت کی جائے جس سے دیت لازم ہو تو اس کی دیت بیت المال میں جمع ہوگی، بشرطیکہ اس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اور اگر اس کی بیوی زندہ ہو تو اسے چوتھائی ترکہ ملے گا۔

اگر کسی نے لقیط کو جان بوجھ کر قتل کر دیا تو چونکہ اس کی دیت بیت المال میں جمع ہونے والی ہے، اس لیے تمام مسلمان اس کے وارث ہوں گے، لیکن حاکم مسلمانوں کی طرف سے اس کا ولی و وارث ہوگا۔ لہٰذا اسے یہ اختیار ہوگا کہ قصاص لے یا بیت المال کے لیے دیت قبول کرے۔ کیونکہ حدیث میں ہے:

"فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ من لاولي له”
"جس کا کوئی ولی نہیں، امام (حاکم) اس کا ولی ہے۔” [سنن ابی داود النکاح باب فی الولی حدیث 2083]

اور اگر اسے زخمی کیا گیا ہو تو اس کے بالغ ہونے اور سمجھ بوجھ کی عمر کو پہنچنے تک انتظار کیا جائے گا، تاکہ وہ خود چاہے تو قصاص لے یا معاف کر دے۔

⑧ نسب کا دعویٰ اور قیافہ شناس کا فیصلہ

اگر لقیط کے بارے میں کوئی مرد یا عورت دعویٰ کرے کہ یہ میرا بیٹا ہے، اور ایسا ہونا ممکن بھی ہو، تو اس کا دعویٰ قبول کر لیا جائے گا، کیونکہ نسب کے ثابت ہونے میں بچے کا فائدہ ہے اور اس میں کسی دوسرے کا نقصان بھی نہیں۔

اور اگر بہت سے لوگ دعویٰ کریں تو ان میں سے جس کے پاس دلیل ہوگی، وہ مقدم ہوگا۔ اگر کسی کے پاس واضح دلیل نہ ہو اور متعدد دعویداروں کے دلائل میں تعارض ہو تو فیصلہ ایک قیافہ شناس سے کرایا جائے گا، جو منصف، سمجھ دار اور تجربہ کار ہو۔ پھر قیافہ شناس جس کے ساتھ نسب ملا دے، اسی کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا، کیونکہ ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی موجودگی میں ایک قیافہ شناس کے فیصلے کی بنیاد پر فیصلہ کیا تھا۔ [ایک قیافہ شناس کی زبان سے جب یہ بات نکلی کہ زید بن حارثہ اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا دونوں باپ بیٹا ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن کر بہت خوش ہوئے تھے۔ دیکھئے صحیح بخاری حدیث 3555۔(صارم)] واللہ اعلم۔

وقف کا حکم

کسی چیز کے اصل کو بیع، وراثت اور ہبہ سے محفوظ کر دینا، اور اس کی آمدنی یا فائدہ کسی خاص مصرف میں فی سبیل اللہ مقرر کر دینا، وقف کہلاتا ہے۔

یہ بات واضح رہے کہ اصل چیز سے مراد ایسی شے ہے جس سے فائدہ اٹھانا ممکن ہو اور فائدہ اٹھانے کے بعد بھی وہ باقی رہے، مثلاً مکان، دکان اور باغ وغیرہ۔ اور نفع سے مراد اس چیز کی آمدنی یا فائدہ ہے، مثلاً پھل، کرایہ، گھر کی رہائش وغیرہ۔

اسلام میں وقف کرنا مستحب ہے اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے۔ اس کی دلیل سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خیبر میں زمین ملی، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مشورے کے لیے حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے خیبر میں جو زمین ملی ہے، اس سے بہتر اور نفیس مال میرے پاس کوئی نہیں۔ اس کے بارے میں آپ میرے لیے کیا مشورہ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا "
"اگرتم چاہو تو اپنا اصل مال وقف کردو اور اس (کے نفع) کو صدقہ کردو۔” [صحیح البخاری الشروط باب الشروط فی الوقف حدیث 2737 وصحیح مسلم الوصیۃ باب الوقف حدیث 1632]

چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اس کا اصل نہ بیچا جائے، نہ ہبہ کیا جائے اور نہ ہی میراث بنایا جائے۔

صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلا مِنْ ثَلاثَةٍ : إِلا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ "
"جب انسان فوت ہوجاتا ہے تو اس کے عمل منقطع ہوجاتے ہیں مگر تین چیزیں جاری رہتی ہیں: صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ حاصل کیا جا رہا ہو یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔” [صحیح مسلم الوصیۃ باب مایلحق الانسان من الثواب بعد وفاتہ؟حدیث 1631]

سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: "صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے جو بھی صاحبِ استطاعت ہوتا، وہ ضرور کچھ نہ کچھ وقف کرتا۔” [منار السبیل ص 397]

امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "مساجد اور پلوں کو وقف قرار دینے میں علماء کے درمیان قطعاً اختلاف نہیں، البتہ دوسری چیزوں میں اختلاف ہے۔” [تفسیر القرطبی 19/22۔الجن 72/18]

① وقف کرنے والے کی اہلیت

وقف کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وقف کرنے والا وقف کا اہل اور صاحبِ اختیار ہو، یعنی عاقل، بالغ اور آزاد ہو۔ لہٰذا نادان، بچے اور غلام کا وقف درست نہیں۔

② وقف کیسے منعقد ہوتا ہے؟

وقف کا انعقاد دو صورتوں میں سے کسی ایک صورت سے ہو سکتا ہے:

① الفاظ کے ذریعے، مثلاً کوئی کہے: "میں نے یہ مکان وقف کیا” یا "میں نے اس جگہ کو مسجد بنا دیا۔”

② ایسا عمل یا انداز اختیار کرکے جو عرف میں وقف پر دلالت کرتا ہو، مثلاً کوئی اپنے گھر کو مسجد قرار دے دے اور لوگوں کو وہاں نماز پڑھنے کی عام اجازت دے، یا کوئی شخص اپنی زمین کو قبرستان بنا دے اور وہاں لوگوں کو دفن کرنے کی عام اجازت دے دے۔

③ وقف پر دلالت کرنے والے الفاظ کی قسمیں

جو الفاظ وقف پر دلالت کرتے ہیں، وہ دو قسم کے ہیں:

① صریح الفاظ، یعنی "وقف” کا لفظ استعمال کیا جائے یا ایسا لفظ بولا جائے جس کا مفہوم صرف وقف ہی ہو۔ لہٰذا جب کوئی شخص کسی شے کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرے گا تو بغیر تاویل کے وہ وقف ہی سمجھی جائے گی۔

② کنایہ کے الفاظ، مثلاً کسی شے کے بارے میں "صدقہ” یا "حرمت” کے الفاظ کہے جائیں۔ ان کو کنایہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان میں وقف اور غیر وقف دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ اس لیے اس صورت میں انسان کی نیت فیصلہ کن ہوگی۔ یا کنایہ الفاظ کے ساتھ کوئی صریح لفظ یا ایسا دوسرا کنایہ لفظ ہو جس سے وقف کا مفہوم واضح ہو جائے۔

کنایہ کے ساتھ صریح الفاظ کی مثال یہ ہے کہ کوئی کہے: "میں نے فلاں چیز وقف کرتے ہوئے صدقہ کی” یا "ہمیشہ ہمیشہ کے لیے صدقہ کی۔”
اور کنایہ کے ساتھ ایسا کنایہ لفظ جس سے وقف سمجھ آتا ہو، اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی کہے: "میں نے یہ چیز صدقہ کی، اسے بیچا نہیں جائے گا اور نہ وراثت میں منتقل ہوگی۔”

④ وقف کی صحت کی شرائط

وقف کے صحیح ہونے کے لیے درج ذیل شرائط ہیں:

① واقف یعنی وقف کرنے والا شے میں تصرف کا اختیار رکھتا ہو، جیسا کہ اوپر گزرا۔

② موقوف چیز ایسی ہو کہ اس سے فائدہ اٹھانے کے بعد بھی وہ باقی رہے، مثلاً مکان یا زمین وغیرہ۔ اور جو چیز استعمال کرنے سے ختم ہو جاتی ہو، مثلاً کھانے پینے کی چیز، تو ایسی چیز وقف نہیں ہو سکتی۔ ایسی چیز کے خیرات کرنے کو صدقہ کہتے ہیں۔

③ وقف کا مصرف جائز ہو، کیونکہ وقف سے مقصود اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے، مثلاً مسجدوں، پلوں، مساکین، پانی کی سبیلوں، علمی کتابوں یا کسی رشتہ دار کے لیے چیز وقف کرنا۔ ناجائز مصرف کے لیے وقف درست نہیں، مثلاً کفار کی عبادت گاہ کے لیے جگہ دینا، دینِ اسلام کے مخالف لٹریچر کے لیے وقف کرنا، مزارات پر روشنی یا خوشبو کے لیے، یا مجاوروں کے لیے چیز وقف کرنا، کیونکہ اس سے گناہ، شرک اور کفر کو تقویت ملتی ہے۔

④ موقوف علیہ اگر متعین فرد ہو تو وہ ایسا ہو جو مالک بننے کا اہل ہو، کیونکہ وقف ایک تملیک ہے، اور جو شخص مالک نہیں بن سکتا، اس پر وقف درست نہیں، مثلاً میت یا حیوان وغیرہ۔

⑤ وقف کی درستی کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ وہ غیر محدود مدت کے لیے ہو۔ لہٰذا ایسا وقف جس کا وقت مقرر ہو یا جو کسی شرط کے ساتھ محدود ہو، درست نہیں۔ البتہ اگر کوئی شخص اپنی موت کی شرط لگائے تو وقف درست ہوگا، مثلاً کہے: "جب میں فوت ہو جاؤں تو میرا گھر فقراء کے لیے وقف ہوگا۔”

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی "ثمغ” نامی زمین کے متعلق وصیت کی تھی کہ وہ ان کی موت کے بعد صدقہ ہوگی۔ [رواہ ابوداود فی سنۃ بمعناہ حدیث 2879 والقصۃ فی صحیح البخاری ایضاً حدیث 2764۔ ان حدیثوں میں یہ وضاحت ہے کہ یہ مال عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زندگی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے وقف کیا تھا، البتہ بعد تولیت کے بارے میں حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حق میں وصیت کی تھی(ع۔و)]

اس پر کسی نے اعتراض نہیں کیا، اس لیے اس کا جواز اجماعِ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین سے ثابت ہوتا ہے۔

یہ بات بھی واضح رہے کہ موت سے مشروط وقف تہائی مال سے زیادہ نہ ہو، کیونکہ یہ وصیت کے حکم میں ہے۔

⑤ واقف کی شرط کا اعتبار

وقف کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ واقف کی شرط پر عمل کیا جائے، بشرطیکہ وہ کسی حرام کو حلال یا حلال کو حرام نہ کر دے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"وَالمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ، إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا”
"مسلمان باہم طے شدہ شرائط کی پاسداری کریں، مگر ایسی شرط جو حلال کو حرام کر دے یا حرام کو حلال کر دے۔” [جامع الترمذی الاحکام باب ماذکر عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الصلح بین الناس حدیث 1352۔ دیکھئے صحیح البخاری الوصایا باب وما للوصی ان یعمل فی مال الیتیم۔۔۔،حدیث 2764 وسنن ابی داود الوصایا باب ما جاء فی الرجل بوقف الوقف حدیث 2879]

اس کے علاوہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی وقف میں شرط لگائی تھی۔

اگر جائز شرط کا لحاظ ضروری نہ ہو تو شرط لگانے کا کوئی فائدہ باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا اگر واقف خاص مقدار کی شرط لگائے، یا کسی مستحق کو دوسرے سے زیادہ دینے کی شرط لگائے، یا کسی مخصوص وصف کی بنیاد پر شرط لگائے، مثلاً کہے کہ یہ چیز طلباء میں سے اس طالب علم کے لیے وقف ہے جو صحیح البخاری پڑھتا ہو، یا اس شخص کے لیے ہے جو داڑھی نہ منڈواتا ہو، یا اس شخص کے لیے ہے جو اس شے کی نگرانی کرے، تو ایسی شرائط کا لحاظ رکھنا لازم ہے۔

الغرض اگر کوئی شرط کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو تو اس کا احترام اور اعتبار ضرور کیا جائے گا۔ اور اگر وقف کرتے وقت کوئی شرط مقرر نہ کی گئی ہو تو اس کے استحقاق اور استعمال میں امیر و غریب، مرد و عورت سب برابر ہوں گے۔

⑥ وقف کے نگران کا حکم

اگر وقف شدہ چیز کا کوئی نگران مقرر نہ کیا گیا ہو، یا مقرر کیا گیا ہو لیکن وہ وفات پا گیا ہو، تو اگر موقوف علیہ کوئی متعین فرد ہو تو وہ خود اس کی نگرانی کرے گا۔ اور اگر موقوف علیہ کوئی نوع یا جماعت ہو، مثلاً مساجد، یا ایسے لوگ ہوں جنھیں شمار کرنا ممکن نہ ہو، جیسے مساکین، تو حاکم نگران ہوگا۔ وہ یا تو خود نگرانی کرے گا یا کسی کو اپنا نائب مقرر کرے گا۔

⑦ وقف شدہ چیز کی حیثیت

وقف شدہ چیز نگران کے پاس امانت ہوتی ہے، لہٰذا اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔

⑧ اولاد کے لیے وقف

اولاد کے لیے وقف کرنا صحیح ہے۔ مثلاً اگر کوئی کہے: "میں اپنی اولاد کے لیے وقف کرتا ہوں” تو اس میں بیٹے اور بیٹیاں سب برابری کے ساتھ شامل ہوں گے، کیونکہ جب شراکت کو مطلق رکھا جاتا ہے تو سب کے لیے استحقاق برابر ہوتا ہے، جیسا کہ اگر وہ ان کے لیے کسی چیز کا اقرار کرے تو سب برابر شریک ہوں گے، اور اگر کسی چیز کو وقف کرے تو وہ بھی سب کے لیے ہوگی۔

پھر صلبی اولاد کے بعد وقف بیٹوں کی اولاد کی طرف منتقل ہوگا، جبکہ بیٹیوں کی اولاد شامل نہ ہوگی، کیونکہ وہ دوسرے شخص کی اولاد شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿يوصيكُمُ اللَّهُ فى أَولـٰدِكُم…﴿١١﴾… سورةالنساء
"اللہ تمھیں اولاد کے بارے میں حکم کرتا ہے۔” [النساء:4/11]

اس آیت میں بیٹیوں کی اولاد شامل نہیں۔ البتہ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ بیٹیوں کی اولاد بھی "الاولاد” میں داخل ہے، کیونکہ جب بیٹیاں اولاد ہیں تو ان کی اولاد بھی اولاد کی اولاد میں شامل ہوگی۔ واللہ اعلم۔

اور اگر کوئی یہ کہے: "میں اپنے بیٹوں کے لیے” یا "فلاں کے بیٹوں کے لیے وقف کرتا ہوں” تو اس سے صرف لڑکے مراد ہوں گے، لڑکیاں نہیں۔ کیونکہ لفظ بَنِينَ مذکر کے لیے خاص ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿أَم لَهُ البَنـٰتُ وَلَكُمُ البَنونَ ﴿٣٩﴾… سورة الطور
"کیا اس (اللہ) کے لیے تو بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے ہیں؟” [الطور:52:39]

البتہ اگر موقوف علیہ کوئی قبیلہ ہو، مثلاً کہا جائے: "یہ چیز بنو ہاشم یا بنو تمیم کے لیے وقف ہے” تو اس میں مرد اور عورتیں سب شامل ہوں گے، کیونکہ قبیلے کے نام کا اطلاق دونوں پر ہوتا ہے۔

اگر وقف ایسی جماعت کے لیے ہو جن کا شمار ممکن ہو تو استحقاق اور استعمال میں سب برابر ہوں گے۔ اور اگر ان کا شمار ممکن نہ ہو، مثلاً بنو ہاشم یا بنو تمیم، تو سب کو عام کرنا لازم نہیں، بلکہ بعض افراد پر اکتفا کرنا، یا بعض کو بعض پر ترجیح دینا جائز ہوگا۔

⑨ وقف کے لازم ہونے کا حکم

محض کہہ دینے سے وقف ثابت ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اسے فسخ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"وَلَا يُبْتَاعُ وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ "
"مالِ وقف نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ وراثت بن سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے۔” [صحیح البخاری الوصایا باب الوقف کیف یکتب؟ حدیث 2772]

امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہلِ علم کی اکثریت کا عمل اسی حدیث پر ہے۔” [جامع الترمذی الاحکام باب ما جاء فی الوقف تحت حدیث 1375]

⑩ وقف کی فروخت کب جائز ہوگی؟

وقف کو فسخ کرنا جائز نہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے۔ اسی طرح اسے فروخت یا کسی اور کو منتقل بھی نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اگر وقف سے فائدہ حاصل کرنا ممکن نہ رہے، مثلاً وقف شدہ گھر گر جائے اور وقف کی آمدنی سے اس کی تعمیر ممکن نہ ہو، یا زرعی زمین ویران و بنجر ہو جائے اور وقف کی آمدنی سے اس کی آباد کاری ممکن نہ ہو، تو ایسی حالت میں وقف کو فروخت کیا جائے گا اور اس کی قیمت اسی جیسی دوسری چیز میں لگائی جائے گی، کیونکہ یہ واقف کے مقصد کے زیادہ قریب ہے۔ اور اگر بعینہ ویسی چیز ممکن نہ ہو تو اس سے قریب تر چیز خریدی جائے گی، اور متبادل چیز خریدتے ہی وہ بھی وقف شمار ہوگی۔

⑪ ویران مسجد اور زائد آمدنِ وقف کا حکم

اگر کوئی مسجد وقف تھی لیکن اس جگہ مسجد اب مفید اور کارآمد نہ رہی، یعنی اس علاقے کی آبادی ختم ہو گئی، تو اسے فروخت کر کے اس کی قیمت سے دوسری جگہ مسجد بنا دی جائے، یا وہ رقم کسی دوسری مسجد پر صرف کی جائے۔

اور اگر کسی مسجد کے لیے کوئی چیز وقف تھی، تو جب اس وقف شدہ چیز کی آمدن مسجد کی ضروریات سے زائد ہو جائے تو وہ زائد آمدن کسی دوسری مسجد پر صرف کی جا سکتی ہے، کیونکہ واقف کے مقصد کا تقاضا یہی ہے۔

اگر مسجد پر وقف کی گئی چیز غلہ یا اناج ہو تو مسجد کی ضرورت سے زائد حصہ فقراء و مساکین پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔

⑫ معین شخص کے لیے وقف کی زائد پیداوار

جب موقوف علیہ کوئی معین فرد ہو، مثلاً کوئی شخص کہے: "یہ زمین زید کے لیے وقف ہے، اسے ہر سال سو من گندم دی جائے” تو اگر اس زمین کی پیداوار مقررہ مقدار سے زیادہ ہو، تو زائد کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اگر یہ معلوم ہو کہ اس کی پیداوار ہمیشہ مقررہ مقدار سے زائد رہتی ہے تو اس زائد پیداوار کو فی سبیل اللہ خرچ کر دیا جائے، کیونکہ اسے جمع کر کے رکھنے میں ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔”

⑬ ویران مسجد کے لیے وقف شدہ مال کا مصرف

اگر کوئی چیز ایسی مسجد کے لیے وقف کی گئی ہو جو بعد میں ویران ہو گئی، اور وہاں اس وقف شدہ چیز کو خرچ کرنے کا کوئی فائدہ باقی نہ رہا ہو، تو اس مال کو اسی جیسی دوسری مسجد پر خرچ کیا جائے۔

ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب