مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

غیب کا علم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

ما كان و ما يكون کا علم کس کے پاس ہے؟

جواب:

ما كان و ما يكون کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) حدیث خضر علیہ السلام کے تحت فرماتے ہیں:
هذا الحديث من دلائل مذهب أهل الحق فى أن الله تعالى أعلم بما كان وبما يكون وبما لا يكون لو كان كيف كان يكون
یہ حدیث مذہب اہل حق کی دلیل ہے کہ جو ہو چکا، جو ہونے والا ہے اور جو نہیں ہوا، اگر وہ ہوتا تو کیسے ہوتا، اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
(شرح مسلم: 146/15، 211/16)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
الله سبحانه وتعالى يعلم ما كان وما يكون وما لم يكن لو كان كيف يكون، وهذا مجمع عليه عند أهل السنة والجماعة
اہل سنت والجماعت کا یہ اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے کہ جو ہو چکا، جو ہونے والا ہے اور جو نہیں ہوا، اگر وہ ہوتا، تو کیسے ہوتا، اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
(تفسير ابن كثير: 42/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔