سوال:
غیبت کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
غیبت حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ اس پر قرآن، احادیث اور اجماع امت دلیل ہیں۔
کسی کے پیٹھ پیچھے اس سے متعلقہ ان باتوں کا ذکر کرنا، جن کا ذکر اسے اچھا نہ لگے، غیبت کہلاتا ہے، جسمانی عیوب کا ذکر، مثلاً: اندھا لنگڑا، چوندھا، گنجا، پسته، لمبا سیاه، زرد، وغیرہ، دینی عیوب ذکر کرنا، مثلاً: فاسق و فاجر، چور، خائن، ظالم، نماز میں سستی کرنے والا، نجاستوں سے لا پرواہی کرنے والا، والدین کا نا فرمان، حقداروں کو زکاۃ نہ دینے والا، غیبت سے اجتناب نہ کرنے والا، وغیرہ، دنیاوی عیوب کا ذکر، مثلاً: بے ادب، لوگوں کی توہین کرنے والا، اپنے اوپر کسی کا حق نہ سمجھنے والا، باتونی، بہت زیادہ کھانے یا سونے والا، بے وقت سونے والا اور بے محل اُٹھنے والا۔ یہ سب عیوب بیان کرنا غیبت کہلاتا ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾
(الحجرات: 12)
”پیٹھ پیچھے ایک دوسرے کی غیبت مت کرو، کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، یقیناً تم اسے ناپسند ہی کرو گے، اللہ سے ڈر جاؤ، بلا شبہ وہ تو بہ قبول کرنے والا اور خوب رحم کرنے والا ہے۔“
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
اتدرون ما الغيبة؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: ذكرك أخاك بما يكره قيل أفرأيت إن كان فى أخي ما أقول؟ قال: إن كان فيه ما تقول، فقد اغتبته، وإن لم يكن فيه فقد بهنه.
”جانتے ہیں کہ غیبت کیا ہے؟ صحابہ نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں، فرمایا: اپنے بھائی کو ان الفاظ سے یاد کرنا، جسے وہ نا پسند کرتا ہو، عرض کیا گیا: جو بات میں کر رہا ہوں، وہ میرے بھائی میں موجود ہے تو؟ فرمایا: اگر وہ بات اس میں ہے، تو آپ نے غیبت کی، اگر اس میں نہیں، تو پھر آپ نے اس پر بہتان لگایا۔“
(صحیح مسلم: 2589)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أما حكمهما، فهما محرمتان بإجماع المسلمين، وقد تظاهر على تحريمهما الدلائل الصريحة من الكتاب والسنة وإجماع الأمة.
”غیبت اور چغل خوری کے حرام ہونے پر مسلمانوں کا اجماع ہے، ان کی حرمت پر کتاب وسنت اور اجماع امت کے صریح دلائل موجود ہیں۔“
(الأذكار، ص 337)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
الغيبة محرمة بالإجماع.
”غیبت بالا جماع حرام ہے۔“
(تفسیر ابن كثير: 380/7)
غیبت کبیرہ گناہ ہے، حرام اور اخلاقی برائی ہے، جو انسانی وقار کو داغ دار کر دیتی ہے، اسے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
کوئی دینی یا دنیاوی مصلحت ہو، تو غیبت جائز ہے، کئی احادیث کا عموم اور اجماع اُمت اس پر دال ہیں، مثلاً راویوں پر جرح و تعدیل کے اقوال نقل کرنا کہ اس میں دین کی حفاظت مقصود ہے، اسی طرح لوگوں کو کسی کے شر سے بچانے کے لیے، وغیرہ۔ اگر کسی شخص کا کوئی جسمانی یا اخلاقی عیب ہی اس کی پہچان بن چکا ہو اور وہ اس عیب کو ذکر کرنا نا پسند نہ کرتا ہو، تو اس عیب کو اس کے سامنے اور پیٹھ پیچھے ذکر کرنے میں کوئی حرج نہیں، جیسے ایک صحابی کو ذوالیدین کہا جاتا تھا، کیونکہ ان کے ہاتھ لمبے لمبے تھے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی انہیں ”ذوالیدین “کے نام سے ذکر کر دیتے تھے۔
(صحيح البخاري: 714، صحیح مسلم: 573)