خوراک اور گھاس کے سوا تقسیم سے پہلے مال غنیمت کی کسی بھی چیز سے نفع اٹھانا حرام ہے
➊ حضرت رو یفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يركب دابة من فيئ المسلمين حتى إذا أعجفها ردّها فيه ولا يلبس ثوبا من فيئ المسلمين حتى إذا أخلقه ردّه فيه
”جو کوئی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کے گھوڑے پر سوار نہ ہو حتٰی کہ جب وہ کمزور ہو جائے تو اسے واپس کر دے اور مسلمانوں کے مال غنیمت سے کوئی کپڑا نہ پہنے حتی کہ جب وہ بوسیدہ و پرانا ہو جائے تو اسے واپس بیت المال میں جمع کرا دے ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2356 ، كتاب الجهاد: باب فى الرجل ينتفع من الغنيمة بالشئ ، ابو داود: 2708 ، احمد: 108/4 ، 109 ، دارمي: 230/2 ، ابن حبان: 4850 ، شرح معاني الآثار: 251/3 ، طبراني كبير: 4482/4 ، حافظ ابن حجرؒ نے اسے حسن كہا هے ۔ فتح الباري: 388/6]
➋ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہمیں غزوات میں شہد اور انگور وغیرہ ہاتھ لگتے تو ہم انہیں کھا پی لیتے لیکن اٹھا کر نہ لے جاتے تھے ۔
[بخاري: 3154 ، كتاب فرض الخمس: باب ما يصيب من الطعام فى أرض الحرب]
➌ سنن أبی داود کی روایت میں یہ لفظ ہیں:
فلم يؤخذ منهما الخمس
”ان دونوں اشیاء (شہد اور انگور ) سے خمس نہیں نکالا جاتا تھا ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 2350 ، كتاب الجهاد: باب فى إباحة الطعام فى أرض العدو ، ابو داود: 2701 ، ابن حبان: 4825 ، بيهقي: 59/9 ، طبراني كبير: 13372/12]
➍ حضرت عبد اللہ بن أبی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز ہمیں کھانے کی اشیاء ہاتھ آئیں تو ہر آدمی آتا اور اس میں سے اپنی ضرورت کے مطابق کھانے کے لیے حاصل کر لیتا تھا پھر واپس چلا جاتا ۔
[صحيح: صحيح ابو داود: 2353 ، كتاب الجهاد: باب فى النهى عن النهبي ، احمد: 354/4 ، ابو داود: 2704 ، حاكم: 126/2 ، بيهقي: 60/9]
➎ حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خیبر کے روز مجھے چربی کی ایک تھیلی ملی ۔ میں نے اسے اٹھا کر کہا کہ میں آج اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا:
فالتفت فإذا رسول الله متبسم
”میں نے پھر اچانک دیکھا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ کر مسکرا رہے ہیں ۔“
[مسلم: 1772 ، كتاب الجهاد والسير: باب جواز الأكل من طعام الغنيمة فى دار الحرب ، احمد: 86/4 ، ابو داود: 2702 ، نسائي: 236/7 ، بخاري: 3153]
(جمہور ) حکمران اجازت دے یا نہ دے ، دوران جنگ کھانے پینے کی اشیاء وہیں کھا لینا اور انہیں اٹھا کر نہ لے جانا جائز ہے ۔ چارے کو بھی اسی پر قیاس کیا جائے گا ۔ نیز بہت زیادہ ضرورت نہ بھی ہو پھر بھی کھایا جا سکتا ہے اور غلول و خیانت سے ممانعت کی احادیث سے یہ خاص ہے ۔
(زہریؒ ) کھانے کی کوئی چیز ہو یا اس کے علاوہ کوئی اور حکمران کی اجازت کے بغیر لینا جائز نہیں ۔
(شافعیؒ ، مالکؒ ) جانوروں کو کھانے کے لیے ذبح کرنا بھی جائز ہے جیسا کہ حدیث میں ہے کہ کھانا جائز ہے لیکن امام شافعیؒ نے جانور ذبح کرنے کے لیے ضرورت کی قید لگائی ہے ۔
[المغنى: 143/13 ، الاختيار: 125/4 ، الأم للشافعي: 355/7 ، نيل الأوطار: 55/5 ، سبل السلام: 1787/4 – 1788]
(ابن حجرؒ ) دورانِ جنگ دشمنوں کے جانوروں پر سواری ، ان کے کپڑے اور اسلحے کا استعمال بالا تفاق جائز ہے لیکن جنگ کے خاتمے پر انہیں لوٹا دیا جائے گا ۔
[فتح البارى: 388/6]