مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

غم اور پریشانیاں ختم کرنے کے وظائف صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شخبوط بن صالح بن عبدالھادی المری کی کتاب اپنے آپ پر دم کیسے کریں (نظربد، جادو، اور آسیب سے بچاو اور علاج) سے ماخوذ ہے۔ کتاب پی ڈی ایف میں ڈاونلوڈ کریں۔

غم و پریشانی کا علاج:

1۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص روزانہ صبح و شام سات بار یہ وظیفہ پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا و آخرت کی تمام پریشانیاں دور کر دیتا ہے:
حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ
مجھے اللہ کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں نے اس پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔
[أبو داؤد: 5074، ابن سني عمل اليوم والليلة: 70، صححه عبد القادر وشعيب الأرناؤوط، زاد المعاد: 2/376]
2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو کوئی غم و پریشانی پہنچے تو وہ یہ دعا پڑھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِي قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي وَنُورَ صَدْرِي وَجَلَاءَ حُزْنِي وَذَهَابَ هَمِّي
اے اللہ! یقیناً میں آپ کا بندہ ہوں، اور آپ کے بندے اور آپ کی کنیز کا بیٹا ہوں۔ میری پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے، نافذ ہے مجھ پر آپ کا حکم، انصاف پر مبنی ہے میرے بارے میں آپ کا فیصلہ۔ میں آپ کے ہر اس خاص نام کے ذریعے سے آپ سے التجا کرتا ہوں جو آپ نے خود اپنا نام رکھا، یا پھر اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا، یا اپنی مخلوق میں سے کسی ایک کو سکھایا، یا آپ نے اسے علم غیب میں اپنے پاس رکھنے کے لیے خاص کیا۔ میں درخواست کرتا ہوں کہ آپ قرآن مجید کو میرے دل کی بہار بنادیں، میرے سینے کا نور، اور میرے غموں کا علاج اور میری پریشانیوں کا تریاق بنا دیں۔
[أحمد: 1/425، الصحيحة: 198]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ دعا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے غم کو ختم کر دیتے ہیں، اور تنگی و پریشانی کی جگہ وسعت آجاتی ہے۔
3۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرض و غم وغیرہ سے نجات کے لیے یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
اے اللہ! میں آپ سے فکر و غم، عاجزی و سستی، بخل و بزدلی، قرض کے چڑھ جانے اور لوگوں کے غالب آنے سے پناہ مانگتا ہوں۔
[البخاري: 2893]
4۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچتی تو آپ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ
اے زندہ جاوید، اے کائنات کے نگہبان! میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد مانگتا ہوں۔
[صحيح الجامع: 4791]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس رب کی طرف سے ایک فرشتہ آیا، اور اس نے کہا: کوئی بھی انسان ایسا نہیں جو آپ پر ایک بار درود پڑھتا ہو، مگر اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ تو ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ پر درود کے لیے خاص کر دوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو ایسا کر لو۔ اس نے پھر کہا: کیا میں اپنی دعاؤں کا دو تہائی حصہ آپ پر درود کے لیے خاص کر دوں؟ تو آپ نے فرمایا: اگر تم چاہو تو ایسا کر لو۔ اس نے پھر عرض کی: یا رسول اللہ! کیا میں اپنی ساری دعا آپ پر درود کے لیے مختص کر دوں؟ تو آپ نے فرمایا: تو پھر ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ تیرے دنیا و آخرت کے غم و پریشانی سے نجات کے لیے کافی جائے گا۔
[فضل الصلاة على النبى صلی اللہ علیہ وسلم ، الإمام إسماعيل بن اسحق المالكي۔ علامه الباني رحمہ اللہ نے اس سند كو مرسل اور صحيح قرار ديا هے۔ الترمذي 2457]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔