مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
غلہ، پھل، شہد، معدنیات اور مدفون مال کی زکاۃ کا بیان
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَنفِقوا مِن طَيِّبـٰتِ ما كَسَبتُم وَمِمّا أَخرَجنا لَكُم مِنَ الأَرضِ وَلا تَيَمَّمُوا الخَبيثَ مِنهُ تُنفِقونَ وَلَستُم بِـٔاخِذيهِ إِلّا أَن تُغمِضوا فيهِ وَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ حَميدٌ ﴿٢٦٧﴾… سورة البقرة
"اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو، اور ان میں سے ناپاک چیزوں کو خرچ کرنے کا ارادہ نہ کرو، جنہیں تم خود لینے والے نہیں مگر یہ کہ آنکھیں بند کرلو، اور جان لو کہ اللہ بے نیاز، خوبیوں والا ہے۔” [البقرۃ:267]
قرآن مجید میں زکاۃ کو "انفاق” یعنی خرچ کرنا بھی کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ… ﴿٣٤﴾… سورة التوبة
"اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجئے۔” [التوبۃ 9/34]
غلہ اور پھلوں کی زکاۃ
صحیح اور معروف احادیث میں غلہ اور پھلوں کی زکاۃ کا حکم اور مقدار واضح طور پر بیان ہوئی ہے۔ امت مسلمہ کا اجماع ہے کہ گندم، جو، کھجور اور منقیٰ میں زکاۃ فرض ہے، اور اسی طرح چاول، چنا وغیرہ دیگر غلوں میں بھی زکاۃ واجب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ مِنْ تَمْرٍ وَلاَ حَبٍّ صَدَقَةٌ "
"پانچ وسق سے کم کھجور یا اناج میں زکاۃ نہیں ہے۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب لیس فیمادون خمسۃ اوسق صدقۃ حدیث 979]
اسی طرح فرمایا:
"فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا العُشْرُ”
"جس کھیتی کو بارش، چشموں کا پانی یا زمین کی قدرتی نمی سے پانی ملے، اس میں دسواں حصہ (عشر) ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری حدیث 1483]
(1) کن پھلوں میں زکاۃ فرض ہے؟
① کھجور، منقیٰ اور وہ تمام پھل جنہیں تولا جاتا ہو اور ذخیرہ کیا جاسکتا ہو، ان میں زکاۃ واجب ہے، بشرطیکہ وہ نصاب تک پہنچ جائیں۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ صَدَقَةٌ "
"پانچ وسق سے کم مقدار میں زکاۃ نہیں ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب ما ادی زکاتہ فلیس بکنز حدیث 1405، صحیح مسلم الزکاۃ باب لیس فیمادون خمسۃ اوسق صدقۃ حدیث 979]
✔ ایک وسق = ساٹھ صاع
✔ ایک صاع = چار لپ (درمیانے آدمی کے دونوں ہاتھ بھر)
✔ تحقیقی وزن تقریباً 2 کلو 100 گرام فی صاع
(2) وجوبِ زکاۃ کی شرائط
غلہ اور پھلوں میں زکاۃ کے واجب ہونے کی دو بنیادی شرطیں ہیں:
① مقدار نصاب تک پہنچ جائے (پانچ وسق تقریباً 630 کلوگرام)
② جب پھل پک جائیں یا دانہ سخت ہوجائے، اس وقت وہ اس کی ملکیت میں ہو
اگر اس کے بعد خریدا ہو یا بطور اجرت حاصل کیا ہو تو اس پر زکاۃ واجب نہیں ہوگی۔
(3) زکاۃ کی مقدار
◈ اگر کھیتی کو بغیر مشقت کے پانی ملتا ہو (بارش، دریا، چشمہ)، تو اس میں عشر (10٪) ہے۔
"فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ وَالعُيُونُ أَوْ كَانَ عَثَرِيًّا العُشْرُ”
"جس زمین کو آسمان (بارش) یا چشموں کا پانی دے، اس میں دسواں حصہ ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب العشر فیما یسقی من ماء السماء والماء الجاری حدیث 1483]
"فِيمَا سَقَتْ الْأَنْهَارُ وَالْغَيْمُ الْعُشْرُ”
"جس زمین کو دریاؤں یا بادلوں کا پانی سیراب کرے، اس میں عشر ہے۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب ما فیہ العشر اونصف العشر حدیث 981]
◈ اگر مشقت سے پانی دیا جائے (کنواں، رہٹ وغیرہ)، تو نصف عشر (5٪) ہے۔
"وَمَا سُقِيَ بِالنَّضْحِ نِصْفُ الْعُشْرِ”
"اور جس کو مشقت سے پانی دیا جائے، اس میں نصف عشر ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب العشر فیھا یسقی من ماء السماءوالماء الجاری حدیث 1483]
"وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ”
"اور جس کو رہٹ کے ذریعے پانی دیا جائے، اس میں نصف عشر ہے۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب مافیہ العشر اونصف العشر حدیث 981]
رکاز (مدفون مال) کا حکم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ”
"رکاز (مدفون خزانے) میں پانچواں حصہ ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب فی الرکاز الخمس حدیث 1499، صحیح مسلم الحدود باب جرح العجماء والمعدن والبشر جبار حدیث 1710]
نقدی مال کی زکاۃ
سونا اور چاندی میں زکاۃ کتاب، سنت اور اجماع سے ثابت ہے۔
﴿وَالَّذينَ يَكنِزونَ الذَّهَبَ وَالفِضَّةَ وَلا يُنفِقونَها فى سَبيلِ اللَّهِ فَبَشِّرهُم بِعَذابٍ أَليمٍ ﴿٣٤﴾… سورة التوبة
"جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انہیں دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے۔” [التوبۃ 9/34]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ وَلَا فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا إِلَّا إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ صُفِّحَتْ لَهُ صَفَائِحَ مِنْ نَارٍ”
"جو شخص سونا یا چاندی رکھتا ہو اور اس کا حق ادا نہ کرے، قیامت کے دن اس کے لیے آگ کی تختیاں بنا دی جائیں گی۔” [صحیح مسلم الزکاۃ باب اثم مانع الزکاۃ حدیث 987]
✔ سونے کا نصاب: بیس مثقال (تقریباً ساڑھے سات تولے)
✔ چاندی کا نصاب: دو سو درہم (تقریباً ساڑھے باون تولے)
✔ مقدار زکاۃ: چالیسواں حصہ (2.5٪)
"كَانَ يَأْخُذُ مِنْ كُلِّ عِشْرِينَ دِينَارًا فَصَاعِدًا نِصْفَ دِينَارٍ "
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بیس دینار یا اس سے زائد پر نصف دینار لیا کرتے تھے۔” [سنن ابن ماجہ الزکاۃ باب زکاۃ الورق والذھب حدیث 1791]
"وَفِي الرِّقَّةِ رُبْعُ الْعُشْرِ”
"چاندی میں چالیسواں حصہ ہے۔” [صحیح البخاری الزکاۃ باب زکاۃ الغنم حدیث 1454]
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب