مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

غلطی سے وقت سے پہلے اذان اور جماعت کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

بندہ بھول کر غلطی سے صبح کی اذان ایک گھنٹہ قبل کہہ دیتا ہے اور کسی نمازی کو بھی پتہ نہیں لگتا کہ اذان گھنٹہ پہلے ہوئی ہے اور اسی حساب سے جماعت گھنٹہ قبل ہی کروا دی جاتی ہے اور سب نمازی نماز پڑھ کر چلے جاتے ہیں اور امام صاحب مسجد میں ہیں کہ اذانیں ہوتی ہیں امام صاحب کو اب پتہ چلتا ہے کہ اذان بھی اور جماعت بھی گھنٹہ قبل ہو گئی ہے۔

الجواب

ایسی صورت میں نماز دوبارہ پڑھیں کیونکہ قبل از وقت نماز نہیں ہوتی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔