غلام پر حد قائم کرنے کا اختیار: مالک یا حاکم وقت

تحریر: عمران ایوب لاہوری

اسے اس کا سردار (مالک ) یا حاکم وقت حد لگائے
➊ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا زنت أمة أحدكم فتبيـن زنــاهــا فليجلدها الحد ولا يثرب عليها
”جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو وہ اسے حد کے کوڑے لگائے اور پھر اسے اس پر ملامت نہ کرے ۔“
پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگائے اور اس پر اسے ملامت نہ کرے ، پھر اگر وہ تیسری مرتبہ زنا کرے تو اسے فروخت کر دے خواہ (بالوں کی بنی ہوئی ) ایک رسی کے بدلے ہی بیچے ۔“
[بخارى: 2234 ، كتاب البيوع: باب بيع المدبر ، مسلم: 1703 ، ترمذي: 1440 ، ابو داود: 4469 ، ابن ماجة: 2565]
➋ حضرت ابو عبد الرحمٰن سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا:
يأيها الناس أقيموا على أرقائكم الحد من أحصن منهم ومن لم يحصن
”اے لوگو! اپنے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہر طرح کے غلاموں پر حد قائم کرو ۔“
[مسلم: 1705 ، كتاب الحدود: باب تأخير الحد عن النفساء ، ابن الجارود: 816 ، بيهقي: 244/8 ، طيالسي: 112]
➌ ایک اور روایت میں یہ لفظ ہیں:
أقيموا الحدود على ما ملكت أيمانكم
”اپنے غلام لونڈیوں پر حدود قائم کرو ۔“
[صحيح: صحيح ابو داود: 3755 ، كتاب الحدود: باب فى إقامة الحد على المريض ، الصحيحة: 2499 ، ابو داود: 4473 ، احمد: 135/1 – 145 ، ابن ابى شيبة: 1/62/11 ، بيهقى: 245/8 ، طيالسي: 146 ، بغوى فى الجعديات: 101/2]
(شوکانیؒ ، شافعیؒ ، احمدؒ ) ان تمام احادیث میں یہ ثبوت موجود ہے کہ مالک کو ہی چاہیے کہ وہ اپنے غلام کو حد لگائے ۔
(احناف) صرف حاکم وقت ہی غلاموں پر حد قائم کر سکتا ہے ۔
(ابن حزمؒ ) مالک حد قائم کرے گا اِلا کہ وہ کافر ہو ۔
(ترمذیؒ) حاکم وقت نہیں بلکہ آدمی خود اپنے غلام پر حد قائم کرے گا ۔
[نيل الأوطار: 574/4 ، تحفة الأحوذي: 821/4 ، الأم للشافعي: 135/6 ، المبسوط: 80/9 ، المغنى: 334/12 ، المحلي بالآثار: 73/12 – 75]
(راجح) حاکم وقت موجود ہو یا نہ ہو مالک کو ہی اپنے غلام کو حد لگانی چاہیے ۔
[مزيد تفصيل كے ليے ديكهيے: نيل الأوطار: 574/4]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے