غنائم کی تقسیم کے وقت حاضر شخص کو حاکم ویسے ہی کچھ عطا کر سکتا ہے
➊ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يغزو بالنساء فيداوين الجرحي ويحذين من الغنيمة وأما بسهم فلم يضرب لهن
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے ، وہ زخمیوں کو دوائی دیتی تھیں اور انہیں غنیمت کے مال سے عطیہ بھی دیا جاتا تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا ۔“
[مسلم: 1812 ، كتاب الجهاد والسير: باب النساء الغازيات يرضخ لهن ، ترمذى: 1556 ، ابو داود: 2727 ، نسائي: 128/7 ، احمد: 308/1]
➋ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے کسی سائل نے عورت اور غلام کے متعلق سوال کیا کہ کیا ان کے لیے کوئی مقرر حصہ ہے جب یہ لوگوں (مجاہدین ) میں موجود ہوں تو انہوں نے جواب دیا کہ :
أنه لم يكن لها سهم معلوم إلا أن يحذيا من غنائم القوم
”ان کے لیے کوئی مقرر حصہ تو نہیں ہے لیکن انہیں مال غنیمت سے کچھ عطیہ دیا جا سکتا ہے ۔“
[مسلم: 1812 أيضا]
➌ عمیر مولی آبی اللهم جنگ خیبر میں اپنے دوسرے موالی ساتھیوں کے ساتھ شریک ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ انہیں بھی کچھ گھریلو سامان (ہنڈیا وغیرہ ) عطا کیا جائے ۔
[صحيح: إرواء الغليل: 1234 ، ابو داود: 2730 ، كتاب الجهاد: باب فى المرأة والعبد يحذيان من الغنيمة ، ابن ماجة: 2855 ، ترمذي: 1557 ، احمد: 223/5 ، دارمي: 226/2 ، ابن الجارود: 1087 ، موارد الظمآن: ص / 402 ، حاكم: 131/2 ، بيهقي: 332/6]
جس روایت میں حشرج بن زیاد اپنی دادی سے یہ روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتوحات کے بعد عورتوں کے لیے بھی حصہ مقرر کیا تھا ، وہ ضعیف ہے ۔
[حافظ ابن حجرؒ فرماتے هيں كه اس ميں حشرج راوي مجهول هے۔ تلخيص الحبير: 222/3 ، امام خطابيؒ فرماتے هيں كه اس كي سند ضعيف هے لهذا اس كے ساتھ حجت قائم نهيں هو سكتي ۔ معالم السنن: 307/2 ، امام ذهبيؒ بيان كرتے هيں كه حشرج بن زياد غير معروف هے ۔ ميزان الاعتدال: 551/1 ، شيخ البانيؒ نے اسے ضعيف كها هے۔ ارواء الغليل: 1238]
(ابن قدامہؒ ) عورت اور غلام کو کچھ عطا کیا جا سکتا ہے لیکن ان کی مقدار مقرر نہیں ہے بلکہ یہ امام پر موقوف ہے ۔ حضرت سعید بن مسیب ، امام مالک ، امام ثوری ، امام لیث ، امام شافعی ، امام اسحاق رحم اللہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہی موقف ہے ۔
(ابو ثورؒ ) غلام کے لیے حصہ نکالا جائے گا ۔ حضرت عمر بن عبد العزیز ، امام حسن اور امام نخعی رحمہم اللہ سے بھی اس طرح کی روایت منقول ہے ۔
(اوزاعیؒ ) غلام کا نہ تو کوئی حصہ مقرر ہے اور نہ ہی ویسے کوئی عطیہ اسے دیا جائے گا الا کہ وہ مال غنیمت لے کر آئے ۔
[المغني: 92/13 – 93]
(راجح ) غلام اور لونڈی کو کچھ عطا کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل حصہ نہیں دیا جائے گا (یہی بات اقرب الی الحدیث ہے ) ۔