قاضی کا غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا جائز نہیں
حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقضيـن حـاكـم بين اثنين وهو غضبان
”حاکم دو بندوں کے درمیان غصے کی حالت میں ہرگز فیصلہ نہ کرے ۔“
[بخارى: 7158 ، كتاب الأحكام: باب هل يقضى القاضى أو يفتى وهو غضبان؟ ، مسلم: 1717 ، ابو داود: 3589 ، ترمذي: 1334 ، نسائي: 237/8 ، ابن ماجة: 2316 ، احمد: 36/5 ، بيهقى: 104/10 ، ابن حبان: 5063]
(شوکانیؒ ) کسی ایسے قرنیہ صارفہ کا موجود نہ ہونا جو اس حدیث میں موجود حکم کو کراہت کی جانب پھیرتا ہو اس بات کا ثبوت ہے کہ غصے کی حالت میں فیصلہ کرنا حرام ہے ۔
[نيل الأوطار: 366/5]
جس حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ غصے کی حالت میں فیصلہ کیا تھا ۔
[بخاري: 2361]
وہ گذشتہ حدیث کے مخالف نہیں ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے غصے اور رضا دونوں حالتوں میں دوسرے لوگوں کے برعکس معصوم عن الخطاء تھے ۔
[نيل الأوطار: 366/5 ، الروضة الندية: 545/2]
غصے کی حالت میں کیا ہوا فیصلہ نافذ ہو گا کہ نہیں اس مسئلے میں اہل علم نے اختلاف کیا ہے:
(جمہور) غصے کی حالت میں کیا ہوا فیصلہ اگر حق کے مطابق ہو گا تو نافذ ہو جائے گا ۔
(بعض حنابلہ ) غصے کی حالت میں کیا ہوا فیصلہ نافذ نہیں ہو گا ۔
بعض حضرات نے یہ تفصیل بیان کی ہے کہ اگر تو حاکم کے نزدیک فیصلہ ہو جانے کے بعد غصے کی حالت پیش آئی ہو گی تو فیصلہ درست ہوگا ورنہ نہیں ۔
[أعلام الموقعين: 227/4 ، نيل الأوطار: 366/5]
(راجح) تفصیل ہی معتبر ہے ۔
[فتح الباري: 36/15]
تحریر: عمران ایوب لاہوری