سوال :
غصے میں دی ہوئی طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب :
حالت غصہ میں طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں، اس میں تفصیل ہے جس میں غصے کی کیفیت اور آدمی کی عقل و شعور کو مدنظر رکھا جائے گا۔
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
الغضب على ثلاثة أقسام؛ أحدها: ما يزيل العقل، فلا يشعر صاحبه بما قال، وهذا لا يقع طلاقه بلا نزاع، والثاني: ما يكون فى مباديه بحيث لا يمنع صاحبه من تصور ما يقول وقصده، فهذا يقع طلاقه، والثالث: أن يستحكم ويشتد به، فلا يزيل عقله بالكلية، ولكن يحول بينه وبين نيته بحيث يندم على ما فرط منه إذا زال، فهذا محل نظر، وعدم الوقوع فى هذه الحالة قوي متجه.
❀غصہ تین طرح کا ہے:
جو عقل کو زائل کر دے کہ آدمی کو شعور ہی نہ رہے کہ وہ کیا کہ رہا ہے، ایسے غصے میں دی ہوئی طلاق بلا اختلاف واقع نہیں ہوتی۔
جو غصہ ابتدائی مراحل میں ہو کہ جو آدمی کو سوچ بچار اور ارادہ و نیت سے مانع نہ ہو، اس غصے میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
غصہ سخت ہو، کلی طور پر عقل کو زائل نہ کرے، مگر نیت و ارادے پر اس قدر اثر انداز ہو کہ بعد میں آدمی کو اپنے فعل پر ندامت ہو، اس غصے میں دی گئی طلاق کے متعلق اختلاف ہے، البتہ قوی اور درست بات یہی ہے کہ اس غصے میں بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
❀اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ﴾
(البقرة: 227)
”اگر وہ طلاق کا پختہ ارادہ کر لیں۔“
(زاد المعاد: 195/5-196)
❀سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يقضين حاكم بين اثنين وهو غضبان.
”کوئی قاضی غصہ کی حالت میں فریقین کے مابین فیصلہ نہ کرے۔“
(صحيح البخاري: 7158، صحیح مسلم: 1717)
آیت مبارکہ میں طلاق کے لیے عزم کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس میں نیت اور پختہ ارادہ شامل ہے۔ اسی طرح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قاضی کو غصہ میں فیصلہ کرنے سے منع فرمایا ہے، اس لیے کہ غصہ میں وہ اپنے ہوش کھو بیٹھے گا اور غلط فیصلہ کر دے گا اور اس فیصلہ میں اس کی نیت اور ارادہ بھی شامل نہ ہوگا، غصہ زائل ہونے پر اسے فیصلے پر ندامت ہوگی۔
اسی طرح ایسا غصہ جو آدمی کی عقل کو اس قدر متاثر کر دے کہ وہ اپنے ہوش کھو بیٹھے، اس کی طلاق واقع نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں اس کی نیت شامل نہیں ہوتی۔ البتہ ایسا معمولی غصہ، جو عقل و شعور اور نیت پر اثر انداز نہ ہو، تو اس میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔