غصے میں دی گئی تین طلاق: قرآن و حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

میں نے اپنی بیوی کو غصہ میں ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، اب سوال یہ ہے کہ اس کی عدت ابھی مکمل نہیں ہوئی اور ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں، تو کیا ہم ایسا کر سکتے ہیں، یا پہلے حلالہ کرنا پڑے گا؟ براہ کرم قرآن و حدیث سے وضاحت فرمائیں۔

جواب :

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَالطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾
(البقرة : 229)
”طلاق دو بار ہے، پھر یا تو اچھے طریقے سے روک لینا ہے، یا شائستگی سے چھوڑ دینا۔ “
اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو رجعی طلاقوں کا ذکر کیا، یعنی وہ طلاقیں جن کے بعد مرد کو رجوع کا حق ہے، مرد اگر صلح کرنا چاہے تو دوران عدت رجوع کر سکتا ہے اور اگر عدت ختم ہو جائے تو تجدید نکاح کر سکتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں ”مرتان“ تثنیہ کا صیغہ ہے اور اس کا مفرد ”مرة“ ہے، جس کا معنی ایک بار یا ایک دفعہ ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿أَوَلَا يَرَوْنَ أَنَّهُمْ يُفْتَنُونَ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ﴾
(التوبة : 126)
”اور کیا ان (یہودیوں) کو دکھائی نہیں دیتا کہ یہ لوگ سال میں ایک بار یا دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنسے رہتے ہیں۔ “
اس آیت میں بھی مرتین کا معنی دو الگ الگ مواقع ہیں، یہ مطلب نہیں کہ وہ ہر سال ایک ہی موقع پر اور ایک ہی وقت میں دو آزمائشوں میں گرفتار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِيَسْتَأْذِنكُمُ الَّذِينَ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ وَالَّذِينَ لَمْ يَبْلُغُوا الْحُلُمَ مِنكُمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ۚ مِّن قَبْلِ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَحِينَ تَضَعُونَ ثِيَابَكُم مِّنَ الظَّهِيرَةِ وَمِن بَعْدِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ۚ ثَلَاثُ عَوْرَاتٍ لَّكُمْ﴾ (النور : 58)
”اے ایمان والو! تمھارے غلام لونڈیاں اور نابالغ لڑکے لڑکیاں تین وقتوں میں تمھارے پاس آنے کی اجازت لیا کریں، ایک فجر کی نماز سے پہلے، دوسرے دوپہر کے وقت جب تم آرام کرنے کے لیے کپڑے اتار رکھتے ہو اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد، تین وقت تمھاری خلوت اور پردہ کے ہیں۔ “
اس آیت میں ﴿ثَلَاثَ مَرَّاتٍ﴾ کا معنی تین مختلف اوقات ہی ہیں، جیسا کہ آگے بیان کر دیا گیا ہے۔ ایسے ہی ﴿وَالطَّلَاقُ مَرَّتَنِ﴾ کا یہ معنی نہیں کہ ایک ہی وقت میں اکٹھی دو طلاقیں ہیں، بلکہ دو الگ الگ موقعوں میں طلاق دیتا ہے اور ہر موقع میں مرد کو رجوع کا حق بھی ہے اور چھوڑنے کا اختیار بھی۔ علامہ سندھی فرماتے ہیں:
إن معناه التطليق الشرعي تطليقة بعد تطليقة على التفريق دون الجمع والإرسال مرة واحدة ولم يرد بالمرتين الثنية ومثله قوله تعالى: (لو أرجع البحر كرتين) أي كرة بعد كرة لا كرتين اثنتين
(حاشية نسائي (453/6) ط بيروت)
”اس کا مطلب یہ ہے کہ شرعی طلاق وہ ہوتی ہے جو وقفہ بعد وقفہ دی جائے، اکٹھی اور یکبارگی نہ دی جائے اور آیت میں ”مرتان“ سے مراد دو طلاقیں نہیں، اس کی مثال اللہ کا یہ فرمان ہے: ”پھر نگاہ کو بار بار پلٹا۔“ یہاں ”کرتین“ سے مراد دو بار نگاہ کو لوٹانا نہیں ہے بلکہ بار بار ہے۔“
ان دو موقعوں کے بعد تیسری بار اگر پھر طلاق دے دی تو یہ عورت اس مرد پر قطعی حرام ہو جائے گی۔ جو لوگ اکٹھی تین طلاقیں نافذ کر دیتے ہیں، وہ مرد کا حق ضبط کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ حق اسے اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا حق ضبط کرنا نا انصافی اور ظلم ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دو مرتبہ کی طلاق ذکر کرنے کے بعد آیت کے آخر میں فرمایا:
﴿تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا وَمَنْ يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ﴾
(البقرة : 229)
”یہ اللہ کی حدیں ہیں، انھیں مت پھلانگو اور جو اللہ کی حدوں کو پھلانگتے ہیں وہ ظالم ہیں۔“
معلوم ہوا کہ قانون خداوندی سے ہٹ کر طلاقیں دینا ظلم و نا انصافی اور حدود اللہ سے تجاوز کرتا ہے اور اکٹھی تین طلاقیں دینا بھی شریعت سے مذاق اور حدود اللہ سے تجاوز ہے۔ محمود بن لبید فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو ایک آدمی بارے خبر دی گئی کہ اس نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں اکٹھی دے دی ہیں تو آپ صلى الله عليه وسلم غصے میں کھڑے ہو گئے اور فرمایا:
أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم
سنن نسائی، كتاب الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ (3430)، فتح الباری (362/9)
”کیا میری موجودگی میں اللہ کی کتاب کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ “
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک وقت میں اکٹھی تین طلاقیں دینا اللہ تعالیٰ کے قانون کے ساتھ مذاق ہے، آپ صلى الله عليه وسلم ایسی طلاق پر غضبناک ہوئے۔ اس کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح عام قاعدہ کے تحت نذر کا پورا کرنا ضروری ہے، لیکن اگر کوئی شخص خلاف شرع کام کی نذر مانے تو اس نذر کو پورا نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح ایک وقت کی تین طلاقیں خلاف شرع ہونے کے باعث باطل ہوں گی، اگر کسی سے یہ ظلم ہو گیا تو اس کو جاری وساری رکھنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی، مگر پھر اس پر بڑے مغموم و محزون اور رنجور و غمزدہ ہوئے، رسول پاک صلى الله عليه وسلم سے ذکر کیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا:
كيف طلقتها؟ قال طلقتها ثلاثا، قال فى محل واحد؟ قال نعم قال فإنما تلك واحدة فارجعها إن شئت قال فرجعها
مسند أحمد (215/1 ج (1387) مسند أبي يعلى (2465) (25/3) والنسخة الأخرى (0458/2 ح : 2495) إرواء (339/7) فتح الباری (363/9)، إغاثة اللهفان (305/1)
”تو نے طلاق کیسے دی؟“ اس نے بتایا: ”میں نے تین طلاقیں دی ہیں۔“ آپ صلى الله عليه وسلم نے پوچھا: ”ایک ہی مجلس میں؟“ اس نے کہا: ”ہاں!“ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”یہ صرف ایک طلاق رجعی ہے، اگر تو چاہے، تو اس سے رجوع کر لے۔“ چنانچہ اس نے رجوع کر لیا۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں دراصل ایک ہی طلاق رجعی ہے، اسی لیے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے رجوع کروا دیا تھا۔ اسی طرح ایک اور صحیح حدیث ملاحظہ ہو: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر بن الخطاب إن الناس قد استعجلوا فى أمر كانت لهم فيه أناة فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم
مصنف عبد الرزاق (11336) (392،391/6)، صحيح مسلم، كتاب الطلاق، باب طلاق الثلاث (1472)
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عہد مبارک اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سالوں میں اکٹھی تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہوتی تھی، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جس کام میں لوگوں کے لیے سوچ بچار کی مہلت تھی اس میں انھوں نے جلد بازی سے کام لیا ہے، کیوں نہ ہم ان پر اسے لاگو کر دیں۔“ چنانچہ انھوں نے اسے لاگو کر دیا۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ دور نبوی صلى الله عليه وسلم میں، اسی طرح دور صدیقی اور دور فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں اکٹھی تین طلاقیں ایک طلاق رجعی ہی شمار ہوتی تھی اور یہی شرعی فیصلہ ہے۔ پھر دور فاروقی میں جب لوگوں نے کثرت کے ساتھ اکٹھی تین طلاقیں دینا شروع کر دیں تو انھوں نے بطور سزا و تعزیر تینوں لاگو کر دیں، تاکہ لوگ اس عمل سے باز آجائیں۔ یہ محض سیاسی اور تہدیدی تھا اور یہ شرعی نوعیت اختیار نہیں کر سکتا۔ اور یہ بات حنفی علماء کے ہاں مسلم ہے، جیسا کہ فقہ حنفی کی معتبر کتابوں میں یہ بات منقول ہے:
إنه كان فى الصدر الأول إذا أرسل الثلاث حملة لم يحكم إلا بوقوع واحدة إلى زمن عمر رضى الله عنه ثم حكم بوقوع الثلاث سياسة لكثرته من الناس
حاشية طحطاوي على الدر المختار (100/2) ط أخرى (128/2) جامع الرموز (331) كتاب الطلاق، مجمع الأنهار شرح ملتقى الأبحر (62) قدر المتقي (6/2)
”ابتدائی دور میں جب اکٹھی تین طلاقیں بھیجی جاتی تھیں تو ان پر صرف ایک کا حکم لگایا جاتا تھا، یہ فیصلہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک ہوتا رہا، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے سیاسی طور پر تین کے وقوع کا حکم دیا، اس لیے کہ یہ عمل لوگوں کے درمیان کثرت سے واقع ہونے لگا تھا۔“
مجمع الانہر میں ”سياسة“ کی بجائے ”تهديد“ کا لفظ ہے، یعنی ڈرانے دھمکانے کے لیے عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے تین جاری کر دی تھیں، لیکن شرعی طور پر وہ ایک ہی طلاق ہوتی ہے، جو عہد رسالت صلى الله عليه وسلم میں تھی، بلکہ خود عمر رضی اللہ عنہ کے اپنے دور میں بھی ابتدا میں معاملہ اسی طرح تھا۔ سو جس طرح نکاح میں تین بار ایجاب و قبول سے تین نکاح نہیں ہوتے ایک ہی ہوتا ہے، اسی طرح تین بار طلاق کے الفاظ دہرانے سے ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے، تین نہیں۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ صحیح مسئلہ یہی ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک طلاق رجعی کے حکم میں ہیں، پھر عہد عمر رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دو سالوں کے بعد جب انھوں نے تین لاگو کر دیں تو یہ ایک تعزیری فیصلہ تھا اور تعزیر حاکم وقت کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے، جبکہ قانون و دستور، جو شریعت میں موجود ہے، وہ اٹل ہوتا ہے، وہ نہیں بدل سکتا۔
جو لوگ تینوں کا حکم جاری کر کے حلالہ کروانے کی دعوت دیتے ہیں وہ فعل حرام سرانجام دینے میں ممد و معاون ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے۔ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
لعن الله المحلل والمحلل له
المنتقى لابن جارود (684)، مسند أحمد (323/2، ح: 8270) إرواء (208/7) التلخيص الحبير (170/3)، نسائی (149/6) ترمذی (1120)، دارمی (81/2)
”حلالہ کرنے اور کروانے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہو۔ “
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:
”اللہ کی قسم! اگر میرے پاس حلالہ کرنے اور کروانے والا لایا گیا تو میں اسے رجم کردوں گا۔“
مصنف عبد الرزاق (265/2)، سنن سعيد بن منصور (49/2) إرواء (208/7، ح : 14191)
ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے کہ ملالہ کرنے والا مرد اور عورت اگر ایک سال بھی اکٹھے رہیں تو وہ زنا ہی کرتے رہیں گے۔ المغني لابن قدامة (10/1) نیز فرماتے ہیں: ”ہم حلالے کو دور نبوی صلى الله عليه وسلم میں زنا شمار کرتے تھے۔“
مستدرك حاكم (199/2، ج 2806)، إرواء (208/7 التلخيص الحبير (171/3)، تحفة الأحوذی شرح ترمذی (170/2)
حلالہ اور طلاق ثلاثہ کے بارے میں یہی موقف بریلوی عالم پیر کرم شاہ بھیروی مرحوم کا بھی تھا۔ انھوں نے اپنی تفسیر ضیاء القرآن میں حلالے کی خوب مذمت کی ہے اور طلاق کے موضوع پر اپنے رسالہ ”دعوت فکر و نظر“ میں، مندرج ”مجموعہ مقالات علمیہ (233)“ میں رقمطراز ہیں:
”حلالہ کا دروازہ کھولنے والے کو اس وقت اپنے غیور رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کی دو حدیث فراموش ہو جاتی ہے: لعن الله المحلل والمحلل له ”حلالہ کرنے والے پر بھی اللہ کی لعنت اور جس (بے غیرت) کے لیے حلالہ کیا جائے اس پر بھی اللہ کی لعنت۔“ اس سلسلے میں ایک اور حدیث بھی سن لیں:
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ألا أخبركم بالتيس المستعار؟ قالوا بلى يا رسول الله قال هو المحلل، لعن الله المحلل والمحلل له
رواه ابن ماجه
”رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمھیں کرائے کے سانڈ کی خبر نہ دوں؟“ انھوں نے کہا: ”کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”وہ حلالہ کرنے والا ہے، اللہ کی لعنت ہو محلہ کرنے والے پر اور کروانے والے پر۔“
ان علماء ذی شان کے بتائے ہوئے مل کو اگر کوئی بد نصیب قبول کر لیتا ہوگا تو اسلام اپنے کرم فرماؤں کی ستم ظریفی پر شیخ اٹھتا ہوگا اور دین سبز گنبد کے مکین کی دہائی دیتا ہوگا۔ “
پیر کرم شاہ صاحب کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ حلالہ کتنا بڑا گھناؤنا جرم اور عورت کی چادر عصمت کو تار تار کرنے والا لعنتی عمل ہے، جس کی دعوت بڑے بڑے جیسے اور عمامے زیب تن کرنے والے دے رہے ہیں۔
اس طرح مفتی عتیق الرحمان عثمانی، محفوظ الرحمان، سعید احمد اکبر آبادی، سید احمد عروج قادری اور سید حامد علی حنفی حضرات کا بھی اس بات پر اتفاق ہے۔ ملاحظہ ہو ”ایک مجلس کی تین طلاقیں (ص 11)
لہٰذا سائل طلاق سے مکمل اجتناب کرتے ہوئے اپنی رفیقہ حیات سے تعلقات بحال کر کے اپنا گھر آباد کرے، کتاب و سنت کی شاہراہ کو عملاً اختیار کرے اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی پاک سیرت اور اسوہ حسنہ کو لازم تھام لے، تا کہ اللہ تعالیٰ سے نجات اخروی کی امید کی جا سکے۔ یہ فتوی اس آدمی کے لیے ہے جو اپنا عقیدہ و عمل کتاب و سنت کے مطابق بنائے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے