مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

غصب شدہ زمین پر نماز کا حکم اور فقہاء کی آراء

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاوی علمیہ (توضیح الاحکام)
مضمون کے اہم نکات

غصب شدہ زمین پر نماز کا حکم

سوال:

کیا غصب شدہ زمین پر نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں ہوگی؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

حنابلہ کے ہاں اس بارے میں دو روایات موجود ہیں:

➊ ایک روایت کے مطابق غصب شدہ زمین پر نماز جائز ہے۔

➋ دوسری روایت کے مطابق ناجائز ہے۔

امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، اور امام شافعیؒ سے بھی ایک قول ایسا منقول ہے جو جواز کو بیان کرتا ہے۔

فقہاء کی آراء

1. صاحبِ المهذب کی رائے:

”غصب شدہ زمین میں نماز ناجائز ہے، کیونکہ یہاں اگر سکونت حرام ہے تو اس مقام پر نماز پڑھنا بطریقِ اولیٰ ناجائز ہوگا۔ اگر کوئی یہاں نماز پڑھ لے تو نماز درست ہوگی، کیونکہ منع کا تعلق نماز سے مخصوص نہیں جو اس کی صحت سے مانع ہو۔”

2. امام نوویؒ کی رائے:

”غصب شدہ زمین میں نماز بالاجماع حرام ہے اور ہمارے نزدیک اور جمہور فقہا اور اصحابِ اصول کے ہاں اگر نماز پڑھ لی جائے تو درست ہوجائے گی۔”

راجح (ترجیحی) قول

میرا رجحان بھی اسی قول کی طرف ہے کہ:

نماز کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ نہی (منع) کا تعلق نفس نماز سے نہیں ہے جو اس کی صحت کو مانع ہو۔

تفصیلی مراجعہ:

المجموع شرح المهذب: جلد ۳، صفحہ ۱۶۵
المغنی: جلد ۲، صفحہ ۴۷۶، ۴۷۷

ھٰذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔