مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
غسل کے احکام
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
گزشتہ مباحث میں آپ نے احکامِ طہارت کے تحت حدثِ اصغر یعنی وضو کے مسائل، وضو کو توڑنے والی چیزوں اور ان کی مختلف صورتوں کا مطالعہ کیا۔
اب یہاں حدثِ اکبر سے متعلق طہارت کے احکام بیان کیے جا رہے ہیں، جن میں جنابت، حیض اور نفاس شامل ہیں۔ اس طہارت کو غسل کہا جاتا ہے، جس میں پورے جسم پر ایک خاص طریقے کے مطابق پانی بہایا جاتا ہے۔ اس کی تفصیل درج ذیل سطور میں بیان کی جا رہی ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ غسلِ جنابت فرض ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"وَإِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا”
"اور اگر تم جنبی ہو تو اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرو۔” [المائدۃ 5/6]
اہلِ علم نے اس امر کو بیان کیا ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں بھی غسلِ جنابت کا رواج موجود تھا، اور یہ دراصل دینِ ابراہیمی کے ان احکام میں سے تھا جو عربوں میں نسل در نسل چلے آ رہے تھے۔
موجباتِ غسل
اگر کسی مسلمان کو درج ذیل چھ امور میں سے کوئی ایک بھی پیش آ جائے تو اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے:
① منی کا خارج ہونا
چاہے مرد ہو یا عورت، اگر اس کی شرمگاہ سے منی خارج ہو جائے تو یہ غسل کا موجب ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں:
❀ حالتِ بیداری میں خروجِ منی:
اگر جاگتے ہوئے منی خارج ہو تو غسل کے فرض ہونے کے لیے لذت کا پایا جانا شرط ہے۔ اگر لذت کے بغیر منی خارج ہو، مثلاً کسی بیماری کی وجہ سے، تو غسل فرض نہیں ہوگا۔
❀ حالتِ نیند میں خروجِ منی (احتلام):
اگر نیند کی حالت میں منی خارج ہو جائے تو اسے احتلام کہتے ہیں۔ اس صورت میں غسل فرض ہو جاتا ہے، کیونکہ سونے والا شخص لذت یا عدمِ لذت کا شعور نہیں رکھتا۔
لہٰذا جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو کر منی کے آثار دیکھے تو اس پر غسل فرض ہے۔ اگر احتلام کا احساس تو ہو لیکن نہ منی نکلے اور نہ اس کے آثار نظر آئیں، تو غسل فرض نہیں ہوگا۔
② جماع کرنا
اگر جماع کی حالت میں مرد کا آلۂ تناسل عورت کی شرمگاہ میں داخل ہو جائے تو دونوں پر غسل فرض ہو جاتا ہے، خواہ منی خارج ہو یا نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
"إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الأَرْبَعِ وَمَسَّ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ”
"جب مرد عورت کے چاروں اعضاء کے درمیان بیٹھ جائے اور دونوں کی شرمگاہیں مل جائیں تو غسل واجب ہو جاتا ہے۔” [صحیح البخاری، الغسل، باب اذا التقی الختانان، حدیث 291؛ صحیح مسلم، الحیض، باب نسخ الماء من الماء ووجوب الغسل بالتقاء الختانین، حدیث 349]
اس حدیث اور اہلِ علم کے اجماع کی بنا پر یہ بات ثابت ہے کہ مرد و عورت دونوں پر غسل فرض ہے، چاہے انزال ہو یا نہ ہو۔
③ اسلام قبول کرنا
اہلِ علم کی ایک جماعت کے نزدیک جب کوئی شخص کفر چھوڑ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض نو مسلم افراد کو غسل کا حکم دیا تھا۔
[سنن ابی داود، الطھارۃ، باب الرجل یسلم فیؤمر بالغسل، حدیث 355؛ جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ما ذکر فی الاغتسال عند ما یسلم الرجل، حدیث 605]
تاہم جمہور اہلِ علم کے نزدیک اسلام قبول کرنے والے کے لیے غسل مستحب ہے، فرض نہیں، کیونکہ یہ ثابت نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نو مسلم کو غسل کا حکم دیا ہو۔ [حاشیہ: ظاہر حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم عام ہے اور کسی ایک فرد کے ساتھ خاص کرنا محل نظر ہے، الا یہ کہ تخصیص کی کوئی دلیل موجود ہو۔ واللہ اعلم]
④ موت واقع ہونا
جب کسی مسلمان کی وفات ہو جائے تو اسے غسل دینا فرض ہے، البتہ جو شخص میدانِ جنگ میں شہید ہو اسے غسل نہیں دیا جاتا۔ اس کی تفصیل احکامِ جنائز کے باب میں آئے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
⑤ حیض اور نفاس کا ختم ہونا
جب عورت کے حیض یا نفاس کے ایام ختم ہو جائیں تو اس پر غسل فرض ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے فرمایا:
"وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي”
"جب حیض کے دن ختم ہو جائیں تو غسل کرو اور نماز ادا کرو۔” [صحیح البخاری، الحیض، باب اقبال المحیض وادبارہ، حدیث 320؛ صحیح مسلم، الحیض، باب المستحاضۃ وغسلھا وصلاتھا، حدیث 333]
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
"فَإِذَا تَطَهَّرْنَ”
"پھر جب وہ پاک ہو جائیں” [البقرۃ 2/222]
یعنی حیض ختم ہونے کے بعد غسل کے ذریعے پاکیزگی حاصل کریں۔
کامل غسل کا طریقہ
❀ سب سے پہلے دل میں نیت کرے۔
❀ پھر بسم اللہ پڑھے۔
❀ تین مرتبہ ہاتھ دھوئے۔
❀ استنجا کرے۔
❀ مکمل وضو کرے۔
❀ سر پر تین چلو پانی ڈالے اور بالوں کو جڑوں تک تر کرے۔
❀ پھر پورے جسم پر پانی بہائے، پہلے دائیں جانب اور پھر بائیں جانب۔
❀ ہاتھوں سے جسم کو اچھی طرح ملے تاکہ پانی ہر حصے تک پہنچ جائے۔
حیض اور نفاس سے پاک ہونے والی عورت کے لیے غسل کے وقت بال کھولنا ضروری ہے، جبکہ غسلِ جنابت میں عورت کے لیے بال کھولنا لازم نہیں، کیونکہ اس میں مشقت ہے، البتہ پانی بالوں کی جڑوں تک ضرور پہنچنا چاہیے۔
مرد ہو یا عورت، غسلِ جنابت کرنے والے کو چاہیے کہ جسم کے ہر حصے تک پانی پہنچانے میں پوری کوشش کرے، خصوصاً:
◈ بالوں کی جڑیں
◈ بدن کے چھپے ہوئے حصے
◈ حلق کے نیچے
◈ ناف کے اندر
◈ بغلوں اور گھٹنوں کے نیچے
اگر گھڑی یا انگوٹھی پہنی ہو تو اسے حرکت دے تاکہ پانی اس کے نیچے تک پہنچ سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ وَأَنْقوُا الْبَشَرَ”
"ہر بال کے نیچے جنابت ہے، لہٰذا بالوں کو دھوؤ اور جسم کو اچھی طرح صاف کرو۔” [(ضعیف) سنن ابی داود، الطھارۃ، باب فی الغسل من الجنابۃ، حدیث 248؛ جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ما جاء ان تحت کل شعرۃ جنابۃ، حدیث 106]
⑥ غسل میں اسراف سے بچنا
غسل کرنے والے کو پانی کے استعمال میں اسراف نہیں کرنا چاہیے۔ سنت یہ ہے کہ کم سے کم پانی میں مکمل غسل کیا جائے۔ روایت ہے:
"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ ، وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ”
"نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد سے وضو اور ایک صاع سے غسل فرما لیتے تھے۔” [صحیح البخاری، الوضوء، باب الوضوء بالمد، حدیث 201؛ صحیح مسلم، الحیض، باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ، حدیث 325]
⑦ غسل کے وقت پردے کا اہتمام
غسل کرنے والے کو چاہیے کہ پردے کا خاص اہتمام کرے اور لوگوں کے سامنے ننگا غسل نہ کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنّ اللهَ عزّ وَجَلّ حَلِيمٌ حَيّ سِتّيرٌ، يُحِبّ الحَيَاءَ والسّتْرَ، فَإِذَا اغْتَسَلَ أَحَدُكُمُ فَلْيَسْتتِرْ”
"اللہ تعالیٰ حلیم ہے، حیا والا ہے، پردہ پوشی کو پسند کرتا ہے، لہٰذا جب کوئی غسل کرے تو پردہ کرے۔” [سنن ابی داود، الحمام، باب النھی عن التعری، حدیث 4012؛ سنن النسائی، الغسل، باب الاستثار عند الغسل، حدیث 406، 407]
⑧ غسل ایک شرعی امانت
غسلِ جنابت بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک امانت ہے، لہٰذا بندے پر لازم ہے کہ اس کے احکام کی حفاظت کرے اور سنت کے مطابق غسل ادا کرے۔ اگر کسی کو غسل کے مسائل معلوم نہ ہوں تو بلا جھجک اہلِ علم سے سوال کرے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
"والله لا يستحيي من الحق”
"اللہ تعالیٰ حق بات بیان کرنے سے نہیں شرماتا۔” [صحیح البخاری، العلم، باب الحیاء فی العلم، حدیث 130؛ صحیح البخاری، الغسل، باب اذا احتملت المراۃ، حدیث 282؛ سنن النسائی، الطھارۃ، باب غسل المراۃ تری فی منامھا ما یری الرجل، حدیث 196]
وہ حیا جو دینی علم سیکھنے میں رکاوٹ بنے، قابلِ مذمت ہے اور شیطانی کمزوری شمار ہوتی ہے۔ شیطان نہیں چاہتا کہ انسان اپنے دین میں کامل ہو۔ طہارت ایک عظیم مسئلہ ہے، اس میں کوتاہی نہایت خطرناک ہے، کیونکہ نماز — جو دین کا ستون ہے — طہارت پر موقوف ہے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دینی بصیرت عطا فرمائے اور قول و عمل میں اخلاص نصیب کرے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب