سوال:
عیسائی عورت مسلمان ہو گئی ، تو کیا اس کا نکاح عیسائی شوہر سے باقی رہا؟
جواب:
جو عیسائی عورت مسلمان ہو جائے ، تو اسے چاہیے کہ اپنے عیسائی شوہر کو اسلام کی دعوت دے، اگر وہ قبول کر لے، تو ان کا نکاح قائم ہے، تجدید نکاح کی ضرورت نہیں اور اگر وہ انکار کر دے، تو وہ عیسائی کے نکاح سے نکل جائے گی، کیونکہ مسلمان عورت کا نکاح غیر مسلم مرد سے جائز نہیں ، عورت ایک حیض عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
❀سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
خطب أبو طلحة أم سليم، فقالت: والله ما مثلك يا أبا طلحة يرد، ولكنك رجل كافر، وأنا امرأة مسلمة، ولا يحل لي أن أتزوجك، فإن تسلم فذاك مهري وما أسألك غيره، فأسلم فكان ذلك مهرها قال ثابت: فما سمعت بامرأة قط كانت أكرم مهرا من أم سليم الإسلام، فدخل بها فولدت له
ابو طلحہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا ، تو انہوں نے فرمایا : واللہ ! آپ جیسے شخص کو رد نہیں کیا جاتا، لیکن آپ کافر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں۔ میرے لیے آپ سے نکاح کرنا جائز نہیں ۔ اگر آپ مسلمان ہو جائیں، تو یہی میرا حق مہر ہوگا، اس سے زائد میں کچھ نہیں مانگوں گی ۔ ابو طلحہ مسلمان ہو گئے، یوں یہی (ان کا مسلمان ہونا) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کا حق مہر بن گیا۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے کسی عورت کا اتنا قیمتی مہر نہیں سنا، جتنا قیمتی مہر ام سلیم رضی اللہ عنہا کا تھا ، یعنی ان کو حق مہر میں اسلام ملا تھا۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیے، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر بچہ پیدا ہوا۔“
(سنن النسائي : 3341، وسنده حسن)
اس روایت کو امام ابن حبان (7187) اور حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (المختارہ : 426) نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
(فتح الباري : 115/9)